کالمز / بلاگ

موگوروزا ڈبلیو ٹی اے فائنلز جیتنے والی پہلی ہسپانوی کھلاڑی 

  نئی عالمی رینکنگ میں تیسری پوزیشن پر آگئیں
Nov 26, 2021

سال رواں کے ویمنز ٹینس سیزن کے اختتامی ایونٹ ڈبلیو ٹی اے فائنلز کے پہلے روز افتتاحی میچ میں شکست سے دوچار ہونے والی ہسپانوی کھلاڑی گاربین موگوروزا ایک ہفتے بعد میکسیکو کے شہر گواڈالاجارا سے فاتح بن کر نکلی ۔ گاربین موگوروزا نے اس فتح کے ساتھ سال کا اختتامی ڈبلیو ٹی اے فائنلز ایونٹ جیتنے والی پہلی ہسپانوی کھلاڑی ہونے کا اعزاز بھی حاصل کرنے کے ساتھ وہ عالمی رینکنگ میں تیسری پوزیشن پر براجمان ہو گئیں ۔ گاربین موگوروزا نے فائنل میں اسٹونیا کی اینیٹ کونٹاویٹ کو دل چسپ مقابلے کے بعد  6-3 ‘ 7-5 سے ہرایا۔

سطح سمندر سے 1500 میٹر بلند شہر میں ایونٹ کے افتتاحی روز پہلے ہی میچ میں گاربین موگوروزا کو جمہوریہ چیک کی کیرولینا پلسکووا  نے تین سیٹ کے سخت مقابلے میں 6-2‘6-4‘6-7  سے شکست دی تھی۔

فائنل میں گاربین موگوروزا نے پہلے سیٹ میں شروع سے ہی انتہائی جارحانہ اور اٹیکنگ کھیل کا مظاہرہ کیا اور کم تجربہ کار حریف پر جلد غلبہ حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئیں ۔ ہسپانوی ٹینس اسٹار نے پہلا سیٹ 3-6  سے جیت کر کونٹاویٹ کیلئے خطرے کی گھنٹی بجا دی لیکن دوسرے سیٹ میں  25 سالہ اسٹونین کھلاڑی کونٹاویٹ نے غیر معمولی کارکردگی دکھائی  اور کم بیک کیا اور موگوروزا پر تیزی سے سبقت حاصل کی۔

ایک مرحلے پر کونٹاویٹ مقابلہ برابر کرنے کی پوزیشن میں تھیں لیکن گاربین موگوروزا نے اس اعصابی جنگ میں اپنی حریف پر برتری کو ثابت کیا ۔اینا کونٹاویٹ کو دوسرے سیٹ میں اپنی حریف پر 3-5 سے سبقت حاصل تھی اور وہ سیٹ جیتنے کیلئے کھیل رہی تھیں لیکن اس مرحلے پر موگوروزا نے زبردست پاور پلے کا مظاہرہ کیا اور اسٹونین کھلاڑی کے مقابلہ برابر کرنے کے خواب کو خاک میں ملا دیا۔ موگوروزا نے مسلسل چار گیمز جیت کر فائنل 6-3 ‘ 7-5 سے اپنے نام کر لیا۔

موگوروزا نے تین دن میں کونٹا ویٹ کو دو مرتبہ شکست دی  موگوروزا نے اپنی پہلی سروس پر 70 فیصد سے زیادہ پوائنٹس حاصل کیے۔  یہ ان کے کیریئر کی 10 ویں ٹرافی ہے۔ موگوروزا نے  2016 میں فرنچ اوپن اور 2017 می میں ومبلڈن ٹائٹل جیتا تھا۔ موگوروزا کی کوچ اسپین کی سابق ٹینس ومبلڈن چیمپئن کونچٹا مارٹینز ہے۔ 2017 میں موگوروزا عالمی نمبر2  اور  سیمونا ہالیپ نمبر ایک تھیں اس کے بعد اگلے تین سال وہ سال کی اختتامی رینکنگ میں ٹاپ 10 میں بھی داخل نہیں ہو سکیں اور مایوس کن کارکردگی کی وجہ سے وہ 2018 میں 18 ویں‘  2019 میں 36  اور 2020 میں 15 ویں نمبر پر تھی لیکن رواں سال ہسپانوی اسٹار کی کارکرگی بہت اچھی رہی ۔ وہ 2017  میں صرف چار ہفتے عالمی نمبر ایک  پوزیشن پر فائز ہوئی تھیں۔

موگوروزا سے قبل اسپین کی سابق عالمی نمبر ایک ارنتزا سانچیز ویکاریو کو ڈبلیو ٹی اے فائنلز ایونٹ میں رنرز اپ رہنے کا اعزاز حاصل تھا ۔ انہیں 1993 میں فائنل میں جرمنی کی اسٹیفی گراف نے چار سیٹ کے مقابلے کے بعد شکست دی تھی اس دور میں فائنل میچ کا فیصلہ بیسٹ آف فائیو سیٹس پر ہوتا ہے۔

اس کامیابی پر موگو کی خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہیں ہے اور اس کا کہنا تھا کہ میں نے ایک بار پھر اپنی صلاحیتوں کا بھرپور اظہار کیا اور پہلی بار اپنے ملک  کا نام بھی سال کی اختتامی ڈبلیو ٹی اے ایونٹ جیتنے والوں میں شامل کروانے کا کارنامہ انجام دیا ۔  یہ میری بہترین کارکردگی کا ثبوت ہے اور میں مستقبل میں مزید اچھا کھیل پیش کروں گی ۔ اب  ان کی نظریں عالمی نمبرایک پر مرکوز ہیں اور وہ نئے سال کے اولین  گرینڈ سلام آسٹریلین اوپن میں بھی فتح کیلئے پر امید ہیں۔

کونٹاویٹ نے سیمی فائنل میں یونان کی ماریہ سکاری کو سخت مقابلے کے بعد تین سیٹ میں 6-1,3-6,6-3 سے شکست دی تھی کونٹاویٹ کی طرح ماریہ سکاری بھی ڈبلیوٹی اے فائنلز میں جگہ بنانے والی اپنے ملک کی پہلی کھلاڑی تھی۔  موگوروزا نے 6-سے ہرایا تھا۔3‘6-3سیمی فائنل میں اپنی ہم وطن پاؤلابیڈوسا کو ڈیڑھ گھنٹے کے مقابلےمیں

ڈبلیو ٹی اے فائنلز کیلئے کوالیفائی کرنے والی آٹھ کھلاڑیوں کو دو گرپوں میں تقسیم کیا گیا تھا۔ ایک گروپ اریانا سبالینکا ‘ ماریہ سکاری ‘ ایگا سواٹیک اور پائولا بیڈوسا جبکہ دوسرا گروپ گاربین موگوروزا ‘ باربورا کراجیسیکووا ‘ اینٹ کونٹا ویٹ اور کیرولینا پلسکووا پر مشتمل تھا ۔ ہر گروپ میں کھلاڑیوں نے اپنی گروپ کی  کھلاڑیوں کے خلاف ایک ایک میچ کھیلا اور ہر گروپ سے دو دو ٹاپ کھلاڑیوں نے سیمی فائنل کیلئے کوالیفائی کیا تھا۔

ڈبلیو ٹی اے فائنلز کیلئے عالمی نمبر ایک آسٹریلوی اسٹار ایشلے بارٹی نے کوالیفائی کر لیا تھا لیکن انہوں نے کرونا پابندیوں سے تنگ آ کر میکسیکو نہ جانے کا فیصلہ کیا تھا حالانکہ انہیں گواڈالاجارا میں اپنے اعزاز کا دفاع کرنا تھا جو انہوں نے 2019 میں شینژن چین میں جیتا تھا۔ 2020 میں کرونا کی وجہ سے ٹورنامنٹ کو منسوخ کر دیا گیا تھا اور اس سال میکسیکو کو متبادل میزبانی دی گئی تھی ۔ یہ لاطینی امریکہ میں ہونے والا پہلا ڈبلیو ٹی اے فائنلز ایونٹ تھا لیکن ڈبلیو ٹی اے فائنلز ایونٹ اگلے سال چین میں ہی منعقد ہو گا۔

گاربین موگوروزا کو یہاں شائقین کی زبردست سپورٹ حاصل تھی کیونکہ ان کی جائے پیدائش لاطینی امریکہ کا ملک وینزویلا ہے۔ بعد میں گاربین موگوروزا کے والدین اسپین منتقل ہو گئےتھے۔  سال رواں میں موگوروزا نے تین سنگلز ٹائٹل جیتے ۔ ان کے کیریئر میں یہ پہلا موقع تھا کہ وہ ایک سیزن میں تین ٹرافیاں اپنے نام کرنے میں کامیاب ہوئیں ۔ انہوں نے گزشتہ ماہ شکاگو میں ٹائٹل جیتا  اور دبئی میں کراجیسیکووا کو ہرا کر دوسری ٹرافی اپنے نام کی تھی۔

ہسپانوی اسٹار گاربین موگوروزا چوتھی مرتبہ ڈبلیو ٹی اے فائنلز ایونٹ کیلئے کوالیفائی کرنے میں کامیاب ہوئی تھیں اور ان کی بہترین کارکردگی 2015  میں ڈبلیو ٹی اے فائتلز کے سیمی فائنل میں رسائی کی تھی جہاں انہیں پولینڈ کی اگنیسکا رڈوانسکا کے ہاتھوں شکست  اٹھانا پڑی تھی ۔ رڈوانسکا نے فائنل میں پیٹراکیوٹووا کو ہرا کر ٹرافی جیتی تھی ۔ 28 سالہ موگوروزا امریکی لیجنڈ  سریا ولیمز کے بعد ڈبلیو ٹی اے فائنلز جیتنے والی دوسری معمر کھلاڑی ہیں۔ سرینا نے2014 میں 33 سال کی عمر میں رومانیہ کی سیمونا ہالیپ کو ہرا کر ڈبلیو ٹی اے فائنلز ٹائٹل اپنے نام کیا تھا۔

موگو روزا  نے اعتراف کیا کہ گزشتہ دو برسوں  کے دوران میں  پہلے جیسی روایتی کارکردگی کا مظاہرہ نہیں کرنے میں ناکام رہی تھی لیکن اب میں پھر ردھم میں آ چکی ہوں اور میری یہ کارکردگی ٹینس سرکٹ کی نئی کھلاڑیوں کیلئے واضح پیغام ہے۔ یہاں کھیل کر جیتنا میرا ایک خواب تھا جو پورا ہوگیا۔

موگوروزا کا کہنا ہے کہ یو ایس اوپن کے دوران  ڈبلیو ٹی اے کے سی ای او اسٹیو سائمن نے مجھے کہا کہ ڈبلیو ٹی اے فائنلز کیلئے میکسیکو ایک آپشن ہو سکتا ہے تو اس وقت میں کافی خوش ہونےکے ساتھ نروس بھی تھی لیکن اب یہاں کامیابی پر انتہائی خوش ہوں۔ لاطینی امریکہ میں ٹینس تو ہے مگر  خواتین بہت کم ٹینس کھیلتی ہیں۔ ہو سکتا ہے کہ ڈبلیو ٹی اے فائنلز کے انعقاد اور میری کامیابی کے نتیجے خطے کی خواتین ٹینس کے کھیل میں سرگرمی سے حصہ لینا شروع کر دیں۔

ہسپانوی کھلاڑی پائولا بیڈوسا بھی موگوروزا کی مداح ہیں ۔ ان کا کہنا ہے کہ جب میں چھوٹی تھی تو ماریہ شراپووا کو میری آئیڈیل تھیں لیکن ان کے ساتھ اب موگوروزا جو میری وہم وطن ہیں میری آئیڈیل ہیں۔ ان کا کھیل انتہائی متاثر کن ہے اور میں ان کی تقلید کرنے کی کوشش کرتی ہوں۔

اینیٹ کونٹاویٹ نے سال رواں میں شان دار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ڈبلیو ٹی اے فائنلز میں جگہ بنائی تھی اور انس جابر کو فائنلز میں رسائی سے محروم کر دیا تھا ۔ کونٹاویٹ اس ایونٹ میں رسائی کرنے والی اسٹونیا کی پہلی کھلاڑی ہیں ۔  سال رواں میں سب سے زیادہ میچز کھیلنے کا اعزاز تیونس کی انس جابر کو حاصل ہے جنہوں نے 48  میچ کھیلے ۔

اینیٹ کونٹاویٹ 47 میچز کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہیں ۔ انہوں نے اپنے آخری 33  میچوں سے  29  میں کامیابی حاصل کی اور صرف چار میں شکست کا سامنا کرنا پڑا ۔ انہوں نے سیزن میں سب سے زیادہ 39  ہارڈ کورٹ میچ جیتے۔ سیزن میں سب سے زیادہ 21  ٹورنامنٹس  کھیلے ۔ ان کی بے مثال پرفارمنس کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ انہوں نے دس ہفتوں میں چار ٹائٹلز اپنے نام  کیے ۔

سال کی اختتامی  ڈبلیو ٹی اے رینکنگ میں ٹاپ10 میں 6 نئی کھلاڑیوں نے ڈیبیو کیا ۔ جبکہ اسٹونیا‘ تیونس اور یونان سے تاریخ میں پہلی بار خواتین کھلاڑی ٹاپ 10 میں  جگہ بنانے میں کامیاب ہوئی ہیں  ۔  یہ عالمی رینکنگ کے حوالے سے ایک ریکارڈ سال ہے کیونکہ ٹاپ 100 میں 35  ملکوں اور ریجنز کی کھلاڑی شامل ہیں جن میں چھ ٹین ایجرز ہیں ۔  آسٹریلیا سے تعلق رکھنے والی ایشلے بارٹی بدستور عالمی نمبر ایک کی پوزیشن پر براجمان ہیں ۔ بارٹی مسلسل تیسرے سال اختتامی رینکنگ میں نمبر ون پوزیشن پر ہیں ۔ ان سے قبل اسٹیفی گراف ‘مارٹینا نیورا ٹیلووا ‘سرینا ولیمز اور کرس ایورٹ بھی مسلسل تین سال اختتامی نمبرون پوزیشن پر براجمان رہی ہیں ۔

 ٹاپ 10 میں ڈیبیو کرنے والی  چھ خواتین میں  پولینڈ کی ایگا سواٹیک ‘ انس جابر ‘ باربورا کراجیسیکووا ‘ ماریہ سکاری ‘ اینٹ کونٹاویٹ  اور پائولا بیڈوسا شامل ہیں جن میں سے 5  نے ڈبلیو ٹی اے فائنلز کیلے کوالیفائی کیا تھا ۔  تیونس کی انس جابر کو  ٹاپ 10 میں جگہ بنانے والی پہلی عرب کھلاڑی کا اعزاز حاصل ہوا ہے ۔ اس سیزن میں ٹین ایجر کھلاڑیوں نے بھی زبردست صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا ۔ برطانیہ کی ایما رڈوکانو نے یوایس اوپن سنگلز جیتا جبکہ کینیڈا کی  لیلیٰ فرنانڈس یو ایس کی رنرز اپ تھیں۔ امریکہ کی کوکو گائوف  نے بھی بہترین کھیل پیش کر کے داد وصول کی۔

ڈبلیو ٹی اے فائنلز کے گزشتہ چھ ایڈیشنز میں ٹاپ سیڈڈ کھلاڑی  صرف ایک مرتبہ ٹائٹل اپنے نام کر پائی ہے۔ ٹاپ سیڈڈ ایشلے بارٹی نے 2019  میں جیتا تھا ۔ 2015  میں پولینڈ کی سیڈڈ 5  رڈوانسکا ‘ 2016  میں جمہوریہ سلواکیہ کی سیڈڈ 7 ڈومینیکا سبلیکووا ‘  2017  میں ڈنمارک کی سییڈ ٰ6 کیرولین وزنیاسکی ‘ 2018  میں  وکرائن کی سیڈڈ 5 ایلینا سویٹولینا  اور 2021 میں اسپین کی سیڈڈ 6 موگوروز نے ٹرافی جیتی۔

WTA Finale

tenis star

Tabool ads will show in this div