خسرہ اور روبیلا کی ویکسین سے متعلق متضاد خیالات

تعلیمی اداروں میں ویکسین مہم جاری

بچوں کو پیدائش کے وقت ٹیکے لگنے کے بعد  دوبارہ خسرہ اور روبیلا کی اضافی خوراک لگنے پر والدین، بچے اوراساتذہ پریشان ہیں۔

 خسرہ اور روبیلا سے بچاؤ کی قومی ویکسی نیشن مہم نے اسکولوں کی  انتظامیہ کوالجھا کر رکھ دیا ہے۔کچھ والدین سنی سنائی اورسوشل میڈیا پر پھیلائی گئی گمراہ کن  باتوں کی وجہ سےبچوں کی ویکسی نیشن سے گریزکررہے ہیں۔

پاکستان میں قومی ادارہ صحت کی نمائندہ ڈاکٹردرناز نےسماء سےگفتگو میں خسرہ اور روبیلا  کی ویکسین سے متعلق پھیلائی گئی افواہوں کوبےبنیاد قراردیا او بتایا کہ جن بچوں کو پیدائیشی ٹیکےلگ چکے ہیں ان کی  بھی ویکسی نیشن کرانا ضروری ہے۔انھوں نے کہا کہ پہلی بار ویکسین کے بعد بوسٹر ضروری ہے کیوں کہ کبھی بھی ویکسین کا اثر100 فیصد نہیں ہوسکتا۔

خسرہ سے زیادہ تر لوگ آگاہ ہیں مگر روبیلا وائرس کو کم ہی لوگ جانتے ہیں۔ روبیلاکو جرمن میزل بھی کہا جاتا ہے مگر اس کا خسرہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ روبیلا وائرس سے لڑکوں کے مقابلے میں لڑکیوں کو بچانا زیادہ ضروری ہے۔

روبیلا وائرس کےصحت پر اتنے سنگین اثرات ہونے کے باوجود  والدین کا ویکسی نیشن پر آمادہ نہ ہونا انتظامیہ کے لیئے چیلنج بنا ہوا ہے۔اسکولوں میں ویکسی نیشن کے خلاف مزاحمت دیکھنےمیں آرہی ہےوہیں  خصوصی بچوں کے اسکول میں یہ کام بہت آسانی سے ہورہا ہے ۔

پاکستان میں رواں سال خسرہ کے لاکھوں کیس رپورٹ ہوئے جبکہ 800 اموات بھی ہوئی ہیں۔ماہرین امراض اطفال کا کہنا ہے کہ شہری بچوں کو لازمی ویکسین لگوائیں تاکہ مرض کو جڑ سے ختم کیا جاسکے۔

VACCINATION

Tabool ads will show in this div