علی وزیر کی رہائی:سندھ حکومت کی التوا کی استدعا منظور

انہیں سال 2020 میں گرفتار کیا گیا تھا
فائل فوٹو
فائل فوٹو
[caption id="attachment_2445458" align="alignnone" width="881"] فائل فوٹو[/caption]

سپریم کورٹ نے رکن قومی اسمبلی علی وزیر کی درخواست ضمانت پر سندھ حکومت کی جانب سے التواء کی استدعا منظور کر لی ہے۔

سپریم کورٹ آف پاکستان میں آج بروز جمعہ 26 نومبر کو پشتون تحفظ موومنٹ (پی ٹی ایم) کے قانون ساز علی وزیر کی درخواست ضمانت سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی۔ سپریم کورٹ کے جج جسٹس سردار طارق مسعود کی سربراہی میں 3 رکنی بنچ نے درخواست کی سماعت کی۔

سماعت کے آغاز میں میں استغاثہ (سندھ حکومت ) کی جانب سے علی وزیر کی ضمانت پر عدالت سے التوا کی درخواست کی گئی۔ سندھ حکومت کا اپنے مؤقف میں کہنا تھا کہ علی وزیر پر سندھ میں ملک مخالف سرگرمیوں اور دہشت گردی کا مقدمہ درج ہے۔

عدالت نے سندھ حکومت کی التوا کی درخواست منظور کرتے ہوئے علی وزیر کی ضمانت کی درخواست پر سماعت پیر 29 نومبر تک ملتوی کر دی ہے۔

واضح رہے کہ اس سے قبل سندھ ہائیکورٹ نے علی وزیر کی درخواست ضمانت مسترد کر دی تھی۔ یاد رہے کہ خیبرپختونخوا پولیس نے علی وزیر سمیت پشتون تحفظ موومنٹ کے متعدد رہنماؤں کو سال 2020 ستمبر میں کراچی میں جلسے کے بعد درج ہونے والے کیس کے سلسلے میں پشاور آرکائیوز ہال سے نکلتے وقت گرفتار کیا تھا۔

مارچ 2020 میں پشتون تحفظ موومنٹ (پی ٹی ایم) کے رہنما اور رکن قومی اسمبلی علی وزیر کی نااہلی کے لیے اسلام آباد ہائیکورٹ میں بھی درخواست جمع کرائی گئی تھی۔

درخواست گزار نے پٹیشن میں الزام لگایا تھا کہ پی ٹی ایم ملک دشمن سرگرمیوں میں ملوث ہے اس لیے اس کے خلاف ڈکلئیریشن جاری کی جائے۔ مذکورہ درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی تھی کہ وہ وفاقی حکومت کو پی ٹی ایم کی حیثیت کا تعین کرنے اور ملک دشمن سرگرمیوں میں ملوث تنظیم قرار دینے کا حکم دیا جائے۔

درخواست میں کہا گیا تھا کہ عدالت حکومت کو ہدایت کرے کہ وہ پی ٹی ایم کے مبینہ غیر قانونی آپریشنز اور سرگرمیوں کو اس کی ممبرشپ، فنڈز اور روابط کو بے نقاب کرنے کے لیے تحقیق کرے۔

sindh govt

PTM

Tabool ads will show in this div