میرےلیےکوئی مقدس گائےنہیں،جوکریگاوہ بھرےگا،چیئرمین نیب

جوبھی نیب کا حساب کتاب چیک کرنا چاہے چیک کرسکتاہے

[video width="640" height="360" mp4="https://i.samaa.tv/wp-content/uploads/sites/11//usr/nfs/sestore3/samaa/vodstore/urdu-digital-library/2020/11/SM-CH-NAB-POLITICAL-MONTAGE-25-11.mp4"][/video]

چیئرمین نیب جسٹس (ر) جاوید اقبال کا کہنا ہے کہ ملک میں کوئی مقدس گائے نہیں، کچھ لوگ نیب کی بنیاد پر سیاست میں زندہ رہنا چاہتے ہیں، کرپشن نے ملک کو برباد کر دیا۔ پاکستان میں لوٹی دولت کو واپس دلانا مشکل کام ہے، امید ہے نظام میں رفتہ رفتہ بہتری آئے گی۔

لاہور میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین نیب جسٹس ریٹائر جاوید اقبال نے کہا کہ گزشتہ 4 سال کے دوران 1270 ریفرنس مختلف عدالتوں میں دائر ہوئے۔ نیب کیسز کے ریفرنسز کا فیصلہ کرنا میرے اختیار میں نہیں، یہ عدالتوں کا کام ہے۔ احتساب عدالتوں میں پہلے ہی بے شمار کیسز موجود ہیں ورنہ اتنی تاخیر نہ ہوتی۔ نیب کے کیس کا اختتام اس وقت ہو جاتا ہے جب ریفرنس متعلقہ عدالت میں بھجوا دیا جاتا ہے، کچھ خرابیاں سسٹم کی ہیں کسی فرد واحد کو ذمے دار قرارنہیں دے سکتے، امید ہے آئندہ حالات مزید بہتر ہوں گے۔

انہوں نے کہا کہ نیب نے اربوں روپے کی زمین ریکور کی، ریکوری ہمارے پاس امانت تھی، امانت میں آج تک خیانت کا خیال نہیں آیا۔ چائے کی پیالی میں طوفان برپا کیا گیا کہ ریکوری کہاں گئی۔ ہمیں ریکوری کرنسی نوٹوں کی شکل میں نہیں ہوتی کہ گننا شروع کر دیں۔ نیب کا مکمل آڈٹ 3 دفعہ ہو چکا ہے۔ ایک صاحب نے کہا نیب کے افسران رشوت لیتے ہیں، میرے پاس ثبوت موجود ہیں۔ وہ صاحب میرے پاس ثبوتوں کیساتھ آ جائیں، کارروائی کیلئے تیار ہیں۔

جسٹس ریٹائر جاوید اقبال نے کہا کہ کوئی مقدس گائے نہیں،جو کرے گا وہ بھرے گا۔ خلیفہ وقت دو چادروں کا حساب دے سکتا ہے تو ہم انکار کرنے والے کون ہیں، آپ کی انا کو تسکین میری ذات کو متنازع بنانے سے ملتی ہے تو ضرور بنائیں، ریاست مدینہ کے خواب کی تعبیر دیکھنی ہے تو خود احتسابی کا عمل اپنانا ہوگا۔

اُن کا کہنا تھا کہ تنقید کرنے والے بتائیں کہ کتنے کیسز عدالتوں میں جمع کرائے؟ آپ کا کیس ختم ہوگا تو میرٹ پر ختم ہوگا، جب کیسز روزانہ کی بنیاد پر چلیں گے تو دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہوگا، آپ نیب کوجتنی بھی گالیاں دیں، اس سے آپ کا کیس ختم نہیں ہوگا، تنقید کرنے والوں کو کہتا ہوں آج شکایت کریں، 48 گھنٹوں میں نوٹس لوں گا۔

جاوید اقبال نے مزید کہا کہ چند ہفتے قبل چائے کی پیالی پر طوفان اٹھا دیا گیا کہ ریکوری کا پیسا کہاں گیا؟ تین بار مکمل آڈٹ میں معمولی لیپس کے علاوہ کوئی مسئلہ نہیں آیا، ایک صاحب نے نیب کے کچھ افسران پر رشوت لینے کا الزام لگایا، ثبوت دیں، کارروائی کریں گے۔ ایک صاحب نے بڑے دبنگ طریقے سے کہا نیب کے افسران رشوت لیتے ہیں میرے پاس ثبوت ہے، میں آج کہتا ہوں ثبوت لےآئیں میں کارروائی کروں گا، تنقید اس وقت جائز ہے جب آپ کو ادراک ہو کہ کس معاملے پر تنقید کر رہےہیں، نیب کا حساب کتاب جو شخص بھی چیک کرنا چاہے وہ آ کر چیک کرے۔

چیئرمین نیب کا کہنا تھا کہ بہترین کوشش کی ہے کہ اپنے ادارے میں، دیانت، امانت کو فروغ دیں، نیب نے جو جنگ شروع کی ہے اس نے جاری رہنا ہے، تاجر برادری کا مجھے مکمل احساس ہے، ان کااحترام کرتا ہوں۔

جاوید اقبال کا کہنا تھا کہ ملک میں ہرجگہ قبضہ مافیا ہے، کہیں بڑا اور کہیں چھوٹا ہے، نیب میں ایک ایک پائی کا حساب رکھا جاتا ہے، گوادر میں ریکور کروائی گئی زمینوں کی مالیت کھربوں میں ہے، ریکوری ہمارے پاس امانت ہے، خیانت کا کبھی خیال بھی نہیں آیا، ڈائریکٹ ریکوری اور ان ڈائریکٹ ریکوری کامکمل حساب ہے، جو شخص بھی نیب کا حساب کتاب چیک کرنا چاہے چیک کرسکتاہے، ڈائریکٹ اور ان ڈائریکٹ سب رکارڈ موجود ہے۔

MARYAM NAWAZ

Tabool ads will show in this div