ڈالر مہنگا تر ہونے کی وجہ کیا ہے؟

ماہرین کی رائے
Nov 24, 2021

ڈالر کی قدر میں غیر معمولی اتار چڑھاؤ گزشتہ ایک ماہ سے جاری ہے۔ بدھ کو بھی مقامی کرنسی مارکیٹوں میں بدھ کو ڈالر کی قدر پھر بڑھ گئی اور انٹر بینک میں امریکی ڈالر 74پیسے کے اضافے سے175.04 روپے کی سطح پر پہنچ گیا جب کہ اوپن کرنسی مارکیٹ میں بھی ڈالر 30پیسے مہنگا ہوگیا اور ایک ڈالر کی قیمت 176.80روپے ہوگئی۔

واضح رہے کہ وفاقی مشیر خزانہ شوکت ترین کی جانب سے آئی ایم ایف قرض پروگرام میں پیش رفت پر رواں ہفتے کے آغاز سے پاکستانی روپے پر دباوٗ میں کمی آئی تھی اور انٹر بینک میں ڈالر پیر اور منگل کودودنوں میں 175.24 روپے سے کم ہوتے ہوئے 174.30روپے ہوگیا تھا جب کہ اوپن کرنسی مارکیٹ میں بھی دو ورز میں ڈالر 176.80روپے سے کم ہوکر 176.30روپے ہوگیا تھا لیکن بدھ کو ڈالر کی قدر میں پھر اضافہ دیکھا گیا۔

کرنسی مارکیٹ سے منسلک افراد کا کہنا ہے کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ ملکی معاشی صورتحال بہت زیادہ اچھی نہیں ہے۔ تجارتی اور کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ بڑھ رہا ہے اور زرمبادلہ کے ذخائر اور ترسیلات زر میں بھی کمی آرہی ہے جس کا اثر پاکستانی روپے پر بھی پڑ رہا ہے لیکن دوسری طرف اس صورتحال کا بینک اور کرنسی ڈیلرز بھی بھرپور فائدہ اٹھارہے ہیں اور کرنسی مارکیٹ میں سٹے بازی کے ذریعے ڈالر کی قدر میں اتار چڑھاوٗ ہورہا ہے۔

گزشتہ ہفتے مختلف بینک اسٹاف کا برآمدکنندگان کو ڈالر خریدنے کا مشورہ دینے کی اطلاعات بھی سامنے آئی تھی اس کے علاوہ کرنسی ڈیلرز بھی مصنوعی طور پر ڈالر کی قدر میں اتار چڑھاوٗ کی سرگرمیوں میں مصروف ہیں۔

تاہم سیکرٹری ایکس چینج کمپنیز ایسوسی ایشن ظفر پراچہ کے مطابق انٹر بینک میں ڈالر کی قدر بڑھتی ہے تو اس کا اثر اوپن کرنسی مارکیٹ میں بھی آتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ حکومت کو ڈالر کے مصنوعی اتار چڑھاؤ پر نظر رکھنی چاہیے اس وقت ایسی کوئی صورتحال نہیں ہے، آئی ایم ایف سے قرض پروگرام کے تحت اگلے ما ہ قسط کی ادائیگی ہوجائے گی۔ ظفر پراچہ کا کہنا ہے کہ ڈالر کی قدر170روپے سے کم ہونی چاہیے۔

فوریکس ایسوسی ایشن آف پاکستان کے چیئرمین ملک بوستان کے مطابق اسٹیٹ بینک کی جانب سے تمام اشیاء کی ایل سیز پر 100فیصد کیش مارجن نہیں لگائی گئی ہے جس کا فائدہ اٹھایا جارہا ہے مرکزی بینک کو تمام ایل سیز پر100فیصد کیش مارجن لگانی چاہیے اس کے علاوہ بھی اسٹیٹ بینک کے پاس سٹہ بازی روکنے کے لئے کئی ٹولز ہیں لیکن نہ جانے کیوں ان کا استعمال نہیں کیا جارہا۔ ملک بوستان کا کہنا ہے کہ وفاقی مشیرخزانہ کا آئی ایم یف سے سخت شرائط کے حوالے سے بیان کا بھی بدھ کو اثر دیکھا گیا جس سے پاکستانی روپے پر چڑھاؤ پھر بڑھ گیا۔

ڈالر کی قدر میں غیر معمولی اتار چڑھاوٗ کا سلسلہ گزشتہ ایک ماہ سے جاری ہے۔اس دوران اسٹیٹ بینک کی جانب سے متعدد اقدامات کئے جاچکے ہیں جن میں گاڑیوں کی درآمدات اور فائنانسنگ کی حوصلہ شکنی کے لیے ریگولیشنز جاری کئے گئے۔

بعض درآمدات کے لئے لیٹر آف کریڈٹ (ایل سیز) کھولنے کے لیے 100فیصد کیش مارجن کی شرط عائد کی گئی اور بینکوں کو کیش ریزرو رکھنے کی حد بھی 9سال بعد 5فی صد سے بڑھا کر6فیصد کی گئی۔ان اقدامات کا مقصد درآمدکنندگان کی جانب سے ایل سیز کھولنے کی ضمن میں ڈالرکی اضافی خریداری اور بینکوں کو اپنے کیش ریزرو کو ڈالر کی خرید وفروخت میں استعمال سے روکنا تھا لیکن یہ اقدامات غیر موثر ثابت ہورہے ہیں۔

یہاں تک کہ گزشتہ ہفتے دو مرتبہ بینکوں کے صدور کو گورنر اسٹیٹ بینک نے بلایا اور ایک اجلاس میں ایف آئی اے کے ڈائریکٹر بھی شریک ہوئے اجلاس میں صورتحال پر قابو پانے کے لئے بینک صدور پر مبینہ طور پر زوربھی دیا لیکن اس کا بھی کوئی فائدہ نہیں ہوا۔

خیال ظاہر کیا جارہا ہے کہ آئی ایم ایف کی جانب سے اسٹیٹ بینک کو کرنسی مارکیٹ میں مداخلت سے روکنے کی ہدایات کا بھی بینک اور کرنسی ڈیلرز فائدہ اٹھارہے ہیں۔

Dollar rates

Dollar price up

Tabool ads will show in this div