بھارت کاایک اورجعلی نیٹ ورک بےنقاب،نشانہ سکھ تھے

سوشل میڈیا نیٹ ورک ہندو انتہاپسندنظریات کو بھی فروغ دیتاتھا
Nov 24, 2021

بھارت میں سوشل میڈیا پر ایک ایسے نیٹ ورک کو بے نقاب کیا گیا ہے جس میں بعض لوگ سکھ ہونے کا دعویٰ کرتے ہوئے جعلی اکاؤنٹ بنا کر نفرت انگیز نظریات کو فروغ دے رہے ہیں۔

بی بی سی اردو کے رپورٹ کے مطابق نیٹ ورک کے 80 اکاؤنٹس کی نشان دہی کی گئی ہے جسے اب جعلی ہونے کی بنا پر معطل کر دیا گیا ہے۔ اس نیٹ ورک میں ٹویٹر، فیس بک اور انسٹاگرام پر اکاؤنٹس کی مدد سے ہندو قوم پرست نظریات اور بھارتی حکومت کی حمایت میں کو فروغ دیا جا رہا تھا۔

رپورٹ کے مصنف بنجمن سٹریک کا خیال ہے کہ بظاہر اس نیٹ ورک کا مقصد سکھوں کی آزادی، انسانی حقوق اور اقدار جیسے اہم مسائل پر رائے عامہ تبدیل کرنا تھا۔

نیٹ ورک جعلی اکاؤنٹس پر مشتمل ہوتا ہے جنہیں اصل لوگ کنٹرول کر رہے ہوتے ہیں اور وہ خود کو انفرادی حیثیت میں کام کرنے والے آزاد افراد ظاہر کرتے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق جعلی اکاؤنٹس میں سکھوں کے نام استعمال کیے گئے اور دعویٰ کیا گیا کہ وہ ’اصل سکھ‘ ہیں۔ وہ مختلف سیاسی نظریات کے فروغ یا انہیں ناقابل اعتماد بنانے کے لیے ’ریئل سکھ‘ اور ’فیک سکھ‘ کے ہیش ٹیگز استعمال کرتے تھے۔

سینٹر فار انفارمیشن ریزیلئنس نامی غیر منافع بخش تنظیم کی اس رپورٹ میں نیٹ ورک کے کئی اکاؤنٹس کی نشان دہی کی گئی جو متعدد سوشل میڈیا ویب سائٹس پر پائے گئے۔ ان اکاؤنٹس پر ایک جیسے نام، تصاویر اور پوسٹیں شائع کی جا رہی تھیں۔

رپورٹ کے مطابق مربوط پیغام رسائی، مذکورہ ہیش ٹیگز کا بے دریغ استعمال، اکاؤنٹ بائیو میں ایک جیسی معلومات اور یکساں لوگوں کو فالو کرنا، ان تمام شواہد سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ اکاؤنٹ اصل نہیں۔

خیال رہے کہ گذشتہ جمعہ کو بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے ایک سال تک کسانوں کی جانب سے احتجاجی مظاہروں کے بعد زرعی اصلاحات کے 3 متنازع قوانین کو ختم کر دیا تھا۔

جعلی اکاؤنٹس کا نیٹ ورک سکھ کسانوں کے احتجاج اور خالصتان تحریک پر سب سے زیادہ بحث کرتا تھا۔ رپورٹ کے مطابق یہ اکاؤنٹس سکھوں کی آزادی کے کسی بھی خیال کو انتہا پسندی قرار دیتے اور کسانوں کے مظاہروں کو غیر قانونی کہتے تھے جبکہ ان کا دعویٰ تھا کہ احتجاج کرنے والے کسانوں کو 'خالصتانی دہشتگردوں' نے ہائی جیک کر لیا ہے۔

اس سے قبل بھارتی حکومت نے بھی یہی دعویٰ کیا تھا کہ کسانوں کے احتجاج میں خالصتانی گھس گئے ہیں۔ زرعی قوانین کے خلاف احتجاج کرنے والے کسانوں کا خیال ہے کہ ان اقدامات کے پیچھے سیاسی مقاصد ہو سکتے ہیں۔

مظاہروں میں شامل 30 یونینز میں سے بھارتیہ کسان یونین کے رہنما جگجیت سنگھ دلیوال کا کہنا ہے کہ ہم سمجھتے ہیں کہ یہ اکاؤنٹ حکومت کے کہنے پر بنائے گئے اور اس کا مقصد مظاہروں کے خلاف ایک نظریہ تشکیل دینا تھا۔

ان اکاؤنٹس کے ہزاروں فالوورز تھے اور ان کی پوسٹوں کو اصل انفلوئنسرز نے لائیک اور ری ٹویٹ بھی کیا ہوا تھا یہاں تک کہ یہ پوسٹیں خبروں کی ویب سائٹس تک میں شائع ہو چکی تھیں۔

India kisan Protest

Anti-Sikh social media network

Tabool ads will show in this div