تمام فریقین کے ساتھ مذاکرات کی میز پر بیٹھناہوگا،محمودخان اچکزئی

مذاکرات سے معاملات طے کےلیے جائیں یا سب آئین کے تابع ہوجائیں

[video width="640" height="360" mp4="https://i.samaa.tv/wp-content/uploads/sites/11//usr/nfs/sestore3/samaa/vodstore/urdu-digital-library/2020/11/Naeem-Ashraf-Butt-6.mp4"][/video]

اپوزیشن اتحاد پی ڈی ایم کے اجلاس میں محمود خان اچکزئی نے تجویز دی ہے کہ تمام فریقین کے ساتھ مذاکرات کی میز پر بیٹھنا ہوگا۔

سماء کے نمائندہ خصوصی نعیم اشرف بٹ نے بتایا ہے کہ پی ڈی ایم کے گذشتہ اجلاس میں مذاکرات کی گونج سنائی دی گئی ہے۔ اپوزیشن رہنما محمود خان اچکزئی نے تجویز دی کہ تمام فریقین کےساتھ مذاکرات کی میز پر بیٹھنا ہوگا۔ انھوں نے واضح طور پر کہا کہ عدلیہ، اسٹبلشمنٹ اور سیاسی اداروں کے ساتھ بات چیت ناگزیر ہے۔ان مذاکرات سے معاملات طے کرلئےجائیں یا سب آئین کے تابع ہوجائیں۔

پی ڈی ایم اجلاس میں محمود خان اچکزئی کی تجویز پر دو بلوچ جماعتوں اور چھوٹی جماعتوں نے حمایت کی۔ تاہم نوازشریف اور مولانا فضل الرحمان خاموش رہے۔ مولانا فضل الرحمان نے استعفوں کے بغیرلانگ مارچ کو ایک بار پھر بےسود قراردیا ہے۔ نوازشریف کا کہنا تھا کہ اسمبلی کے اندر رہنا یا باہر ہونے کا بھی کوئی فائدہ نہیں ہے۔ نوازشریف نے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کی مثال دی کہ حکومت تمام باتوں کو بلڈوز کردیتی ہے اور اب قربانی دینے کا وقت آگیا ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ قوم کو بتانا ہوگا کہ ہم ان کے ساتھ ہیں۔ اس پر مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ قوم کو اگر امید نہیں دلائیں گے تو کوئی فائدہ نہیں ہے۔

ایک اور رہنما کا کہنا تھا کہ پیپلزپارٹی کی پی ڈی ایم سے علیحدگی کی وجہ یہ ہی تھی کہ وہ استعفوں پر راضی نہیں تھے تاہم اب ہم کو اپنے موقف پر قائم رہنا چاہئے۔

PDM

Tabool ads will show in this div