کالمز / بلاگ

ثقافتی یلغار

اپنی نسلوں کوغیروں کی ثقافتی یلغارسے محفوظ رکھیں

یورپ کی سرد ہوائیں ویسے بھی بیزار کن ہوتی ہیں کہ اندھیرے جلدی ہی گھیرنا شروع کردیتے ہیں ایسے میں سورج کا دھوپ پھیلانا اک نعمت سے کم نہیں جب دن کو سورج  کی کرنوں نے تھپکا تو دل چاہا کیوں نہ آج کسی پارک میں چہل قدمی کر لی جائے، پارک پہنچنے پر کافی رونق دیکھنے کو ملی جہاں کئی لوگ جاگنگ بھی کررہے تھے۔

ہوا میں پرندوں کی چہکار کے ساتھ جھولوں پر بچوں کی اٹکھیلیاں بھی سنائی دے رہی تھیں۔  ویسے بھی چھٹی کا دن تھا کھیلتے بچے ایک دوسرے کے پیچھے بھاگ رہے تھے۔ اپنے بیگ سے پڑھنے کا رسالہ نکال کر میں بھی بچوں کے قریب ایک خالی بینچ پر بیٹھ کر رسالے کے ورق الٹنے لگی۔ بچے میری بینچ کے ارد گرد دوڑتے ایک دوسرے کو پکڑنے کی کوشش کرتے اور ہنستے مسکراتے دوڑ جاتے۔

اتنے میں مجھے کسی نے نام سے پکارا تو مڑ کر دیکھا میری انگریز دوست مجھے ہاتھ ہلا کر ہیلو کرتی میرے پاس آگئی۔ مجھے بھی اسے دیکھ کر خوشی ہوئی کہ پارک میں دوست کا ساتھ مل گیا اب بیٹھ کر گپ شپ لگائیں گے۔

حال احوال دریافت کرنے اور ادھر ادھر کی باتوں کے بعد مجھے انگریز دوست نے کہا کہ اسے ایک اسائنمنٹ کی تیاری کے لیے مدد چاہیے۔ میں نے کہا ضرور اگر میں کچھ کرسکتی ہوں تو ضرور مدد کروں گی۔ چہکتے ہوئے بچے ہمارے ارد گرد ہی کھیلتے ہوئے دوڑ رہے تھے۔

میری انگریز دوست نے اپنا بیگ کھول کر مجھے کچھ تصاویر دکھائیں اور کہا ان کے بارے میں لکھنا ہے وہ مختلف مذاہب اور ان کے پیچھے موجود مشہور کہانیوں کے بارے میں مواد جمع کرکے اپنا اسائنمنٹ لکھنا چاہتی تھی۔ جب میں نے تصاویر دیکھیں تو وہ ہندو بھگوانوں کی تھیں۔ بدقسمتی سے مجھے تو ان کے نام تک معلوم نہ تھے۔ اپنے تکے لگاتے ہوئے میں نے ایک بھگوان کی تصویر پر امکان ظاہر کیا کے اس بھگوان کے ہاتھ میں کوئی دودھ کی بوتل دکھائی دیتی ہے۔ میری انگریز دوست کا بھی یہی خیال تھا۔ اس بیچاری نے سوچا مجھے اس موضوع  پر کافی معلومات ہونگیں جب کہ اس کے الٹ مجھے کچھ خاص علم نہ تھا۔

قریب ہی دوڑتے بچوں میں سے ایک مسلمان پاکستانی بچے نے ہمارے ہاتھوں میں وہ تصویریں دیکھیں تو بڑے اعتماد سے کہا وہ ان سب کو جانتا ہے۔

ہم مسکراتے ہوئے اسے دیکھ رہی تھیں  کہ بھلا اس سات آٹھ سالہ بچے کو کیا پتا ہوگا لیکن ہماری توقعات کے برعکس اس بچے نے فر فر انگریزی میں ہمیں ہر بھگوان کا نام، اس کا پس منظر، اس کی (شکتیاں ) کرامات اور اس سے وابستہ تاریخی کارنامے بتا دیے۔

ہم دونوں ہی تحیر سے اس کی باتیں سن رہی تھیں۔  یہی نہیں بلکہ یہ بھی انکشاف ہوا کہ ہم ایک ہندو بھگوان کے ہاتھ میں جس چیز کو دودھ کی بوتل سمجھ رہے تھے وہ اصل میں کوئی برکت والا پانی تھا جس کو وہ چھڑکتا تھا۔ اتنی ڈھیر ساری معلومات ملنے پر میری انگریز دوست بھی حیران تھی۔ تھوڑی دیر میں بچہ پھر کھیلنے میں مشغول ہوگیا۔ انگریز دوست نے معلومات نوٹ کیں جنہیں وہ مزید کتب کے ذریعے تحقیق کرکے اکٹھا کرنا چاہتی تھی۔ اس نے مجھ سے پوچھا کیا یہ بچہ ہندو ہے جو اتنا کچھ جانتا ہے میں نے اسے بتایا نہیں اس کو دوسرے بچے جس نام سے بلا رہے ہیں اس لحاظ سے وہ پاکستانی مسلمان بچہ ہے۔ وہ اس کے علم سے حیران اور متاثر تھی۔ وہاں سے بائے بائے کرتی وہ کچھ دیر بعد رخصت ہوئی تو میں نے اس بچے کو پاس بلایا اس کے ساتھ آنے والے بڑے قریب ہی چہل قدمی کررہے تھے۔

بچے سے میں نے پوچھا وہ کیسے ان سب بگھوانوں کے بارے میں یہ معلومات جانتا ہے۔ اس نے بڑی خوشی اور مسکراہٹ کے ساتھ فخر سے بتایا میری ماما انڈین چینلز بہت پسند کرتی ہیں اور ہمارے گھر ہر وقت انڈین ڈرامے اور فلمیں چلتی رہتی ہیں ہم سب بہن بھائی بھی دیکھتے ہیں۔ بڑی خوشی سے اس نے بتایا اس کے سب بہن بھائیوں کو ان سارے بھگوانوں کا پتہ ہے۔ ایسے میں ہنستا ہوا وہ دوسرے بچوں کے ساتھ کھیلنے میں مگن ہوگیا۔ میرے لیے یہ حیران کن تھا، بوجھل دل لیے میں وہاں سے چل پڑی۔

یہ سوچ میرے ذہن کو کچوکے لگ رہے تھے کہ اس بچے کی ماں جو کوئی جاب نہیں کرتی تھی اس نے خود کو مشغول رکھنے کے لیے بھارتی چینلز کی تفریح ڈھونڈھ رکھی تھی تاکہ خود کو بوریت سے بچائے لیکن اسے اس چیز کا شعور ہی نہ تھا کے اس کے اس عمل سے غیر مذہب کی تہذیب ، ثقافت اور ان کی داستانیں اس کے ننھے بچوں کے ذہنوں میں سرایت کرکے ان کے معصوم ذہنوں میں پیوست ہورہی ہیں۔

ہمارے وطن کے سپاہیوں نے ہر سرحد پر اپنی جانیں قربان کرکے اس پاک وطن کی حفاظت کی تاکہ ہماری نسلیں دشمن کی دراندازی اور زہریلے پراپیگنڈا سے محفوظ رہیں۔ بہت پہلے انڈیا کی رہنما سونیا گاندھی نے کھلے عام یہ دھمکی دی تھی جو جنگ ہم سرحدوں پر نہ جیت سکیں گے وہ ہم اپنے میڈیا کے ذریعے ان کے ذہنوں میں سرایت کرکے جیتیں گے۔ افسوس کہ والدین کی غفلت اور شعور کی کمی نے ملک دشمنوں کے عزائم کو کسی حد تک کامیاب کیا ہے۔

ضرورت آگاہی کی ہے تاکہ اپنے بچوں کو اپنی تہذیب، ثقافت اور اقدار سے روشناس کرایا جائے۔ اس میں والدین کا کردار کلیدی حثیت رکھتاہے ۔ والدین کے لیے یہ ضروری ہے کہ وہ یہ خیال رکھیں ان کے بچے تفریح کے طور پر کیا دیکھتے ہیں اور اس کا ان کی شخصیت پر کیا اثر مرتب ہوگا۔ یہ ذمہ داری صرف وطن کے سپاہیوں کی ہی نہیں بلکہ انفرادی طور پر ہر شخص پر لاگو ہے کہ وہ دشمن کے عزائم کو ناکام کرے اور اپنی نسلوں کو اس ثقافتی یلغار سے محفوظ رکھے۔

Cultural invasion

Tabool ads will show in this div