کالمز / بلاگ

چھوٹے

کچی پنسل

میں کمرے میں تنہا بیٹھا تھا کہ میرا قلم میرے سامنے آبیٹھا

کچھ لکھیں، کچھ  ایسا، جس سے سچ ہونے کا گمان ٹھہرے، قلم بولا۔

 کس پر لکھوں؟ انصاف کے ترازو پر؟ میں نے پوچھا

اچھا سوال ہے، اگلا سوال؟ وہ زیر لب مسکرایا

کسی بڑے صنعتکار یا سرمایہ دار پر لکھوں؟، میں نے مشورہ دیا

تحریر پر سچ ہونے کا گمان ہونا شرط ہے، قلم نے سرگوشی کی۔

سیاستدانوں یا چھوٹے چھوٹے بونوں پر لکھنا شروع کروں؟، میں نے پھر قسمت آزمائی۔

اگر تم بڑوں کے سامنے سوال کھڑا نہیں کرسکتے تو چھوٹوں کو تنگ کرنا، کسی صورت، قلمیت نہیں۔

قلم بولا اور اُٹھ کھڑا ہوا اور میں خود کو پہلے سے بھی زیادہ چھوٹا محسوس کرنے لگا۔

Tabool ads will show in this div