کراچی: نسلہ ٹاور میں توڑپھوڑ کا عمل شروع کردیاگیا

کثیرالمنزلہ عمارت گرانے کے طریقۂ کار کا فیصلہ نہ ہوسکا
Nov 22, 2021

[video width="640" height="360" mp4="https://i.samaa.tv/wp-content/uploads/sites/11//usr/nfs/sestore3/samaa/vodstore/urdu-digital-library/2020/11/Nesla-tower.mp4"][/video]

ضلعی انتظامیہ نے سپریم کورٹ کو مطمئن کرنے کیلئے نسلہ ٹاور میں توڑ پھوڑ کا کام شروع کردیا۔ کارروائی میں کمشنر کراچی، ضلعی انتظامیہ اور ایس بی سی اے کی ڈیمولیشن ٹیم حصہ لے رہی ہے۔ ڈپٹی کمشنر ایسٹ کہتے ہیں کہ نسلہ ٹاور کو عام طریقے سے توڑنا شروع کیا جارہا ہے، ابتدائی طور پر دروازے کھڑکیاں اور دیگر  حصے منہدم کریں گے۔

سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں شہر میں تجاوزات سمیت دیگر اہم کیسز کی سماعت 24 نومبر سے ہوگی، عدالت عظمیٰ نے مقامی انتظامیہ سے نسلہ ٹاور گرانے کی رپورٹ بھی طلب کر رکھی ہے۔

سپریم کورٹ کراچی رجسٹری نے 28 اکتوبر کو نسلہ ٹاور کیس کا تحریری فیصلہ جاری کیا تھا جس میں حکم دیا گیا تھا کہ غیر قانونی طور پر تعمیر کثیر المنزلہ عمارت گرانے کيلئے کنٹرولڈ ماڈرن ڈیوائسز کا استعمال کیا جائے اور یہ یقینی بنایا جائے کہ عمارت گراتے ہوئے اطراف ميں کوئی اورنقصان نہ ہو۔

یہ بھی پڑھیں: نسلہ ٹاور گرانے کیلئے اخبار میں اشتہار جاری

عدالتی حکم میں مزید کہا گیا تھا کہ یہ کام ایک ہفتے ميں مکمل کيا جائے اور عمارتيں گرانے کیلئے ديگر ممالک میں رائج طریقۂ کار دیکھا جائے۔

کمشنر کراچی نے عدالتی حکم پر 30 اکتوبر کو نسلہ ٹاور کے انہدام کیلئے ایک کمیٹی بنائی جس کے سربراہ ڈپٹی کمشنر شرقی آصف جان صدیقی ہیں، کمیٹی نسلہ ٹاور منہدم کرنے کا طریقۂ کار بھی وضع کرے گی، جس میں ڈی جی ايس بی سی اے، ایف ڈبلیو او کے کمانڈنگ افسر، سینئر ڈائريکٹر انسداد تجاوزات، این ای ڈی یونیورسٹی سول انجینئرنگ کے سربراہ، ڈی جی ورکس اینڈ ٹیکنیکل، ایس ایس پی ایسٹ اور شہری این جی او کی امبر علی بھائی بھی  شامل ہیں۔

ٹیکنیکل کمیٹی نے عمارت منہدم کرنے کیلئے دو کمپنیوں سے رابطہ کیا تھا، جس میں ایک مینوئل طریقے سے جبکہ دوسری کمپنی دھماکا خیز مواد کے ذریعے عمارت گرانے کا کام کرتی ہے۔

مزید جانیے: نسلہ ٹاور کے مالکان کو پوری رقم کی واپسی ممکن نہیں

رپورٹ کے مطابق مینوئل طریقے سے عمارت گرانے والی کمپنی نے نسلہ ٹاور گرانے کیلئے بھاری رقم کا مطالبہ کیا تھا جبکہ دوسری کمپنی نے تکنیکی معاونت اور باہر سے مواد منگوانے کیلئے تقریباً 2 ماہ کا وقت مانگا تھا۔

تکنیکی کمیٹی نے ایک اجلاس میں نسلہ ٹاور منہدم کرنے کا کام ہاتھ اور بھاری مشینری کے ذریعے کرنے کی تجویز دی تھی۔

کراچی کی ضلعی انتظامیہ نے نسلہ ٹاور گرانے کے کام کا طریقۂ کار طے نہ ہونے کے باعث عدالتی احکامات پر عملدرآمد کیلئے عمارت عام روایتی طریقے سے گرانے کے کام کا آغاز کردیا، جس کیلئے کمشنر، ضلعی انتظامیہ اور ایس بی سی اے کی ڈیمولیشن ٹیم پیر کو نسلہ ٹاور پہنچی۔

تفصیلات جانیں: سپریم کورٹ کاکمشنرکراچی کونسلا ٹاورمنہدم کرکےرپورٹ پیش کرنےکاحکم

سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کی ٹیم نے ہتھوڑوں کی مدد سے نسلہ ٹاور میں توڑ پھوڑ کے کام کا آغاز کیا۔ ڈی سی ایسٹ آصف جان نے اس حوالے سے کہا کہ نسلہ ٹاور کو عام طریقے سے توڑنا شروع کیا جارہا ہے، ایس بی سی اے کی ٹیم کے ہمراہ انتظامیہ موجود ہے، اینٹی انکروچمنٹ فورس کو نقص امن کے خدشے کے تحت بلایا ہے، ابتدائی طور پر دروازے کھڑکیاں اور دیگر  چیزیں ڈیمولیش کریں گے۔

انہوں نے بتایا کہ عمارت توڑنے کے ٹینڈر کا فیصلہ ابھی نہیں ہوا، جب تک فیصلہ نہیں ہوتا اسے عام روایتی طریقے سے توڑنے کا عمل مکمل کیا جائے گا۔

NASLA TOWER

Tabool ads will show in this div