کالمز / بلاگ

ایک واقعہ، ایک سوال

بھیک مانگتی کم عمر ماؤں کےحقوق پرکیوں نہیں بولاجاتا

حاجی اللہ کے نام پر۔۔۔ معصوم سی آواز اور کرتے کے پچھلے دامن کو لگنے والے ہلکے سے جھٹکے نے ہمیں چونکا دیا۔۔۔ پلٹ کر دیکھا۔۔۔ وہ ایک نوعمر لڑکی تھی۔ میلے کچیلے، طرح طرح کے دھبوں سے اٹے سیاہ برقعے میں، جس کی نقاب الٹی ہوئی تھی۔۔۔ عمر بارہ ہیں تو زیادہ سے زیادہ چودہ برس، زردی مائل سیاہ رنگت۔۔۔ دبلی پتلی بالکل لاغر سی۔۔۔ آنکھوں میں نقاہت۔۔۔ خشک ہونٹوں پر پپڑی جمی ہوئی، ایک ہاتھ میں مرگھلے سے نومولود بچے کو سنبھالے، دوسرا ہاتھ سامنے پھیلائے، امید بھری نظروں سے ہمیں دیکھ رہی تھی۔

بچے کی حالت اس کی اپنی حالت سے بھی زیادہ دگرگوں۔۔۔ بند آنکھوں کے گوشوں میں کیچڑ بھری ہوئی۔۔۔ ناک اور ہونٹوں سے بہتی رطوبت پر مکھیاں بھنبھنا رہی تھیں۔ کراہیت کے گہرے احساس نے طبیعت مکدر کردی۔۔۔ دکان دار نے دودھ کے پیسے کاٹ کر جو ریزگاری واپس کی تھی، ہم نے وہ اس کے پھیلے ہوئے ہاتھ پر رکھ دی۔

یہ واقعہ لگ بھگ چھ ماہ پہلے کا ہے۔ بعد میں بھی ایسی ہی دو کم سن مائیں۔ نومولود بچوں کو گود میں اٹھائے بھیک مانگتی دیکھیں، ایک جامع مسجد کے دروازے پر، دوسری عباسی شہید اسپتال کے قریب دواؤں کے سامنے۔۔۔ دونوں کی ٹوں ایک، لہجہ ایک، الفاظ ا یک، انداز ایک۔

وطن عزیز میں اٹھارہ برس کی کم عمر لڑکی کی شادی قانوناً جرم ہے، پھر یہ بارہ بارہ، چودہ چودہ برس کی مائیں! ؟۔۔۔ کہا جاسکتا ہے یہ شادیاں چھپ چھپا کے کروائی گئی ہوں گی مگر ان لڑکیوں کے شوہر، ان کی گودوں میں موجود بچوں کے باپ کہاں ہیں؟۔۔۔ بحیثیت شوہر اور باپ، اپنی ذمہ داریاں کیوں پوری نہیں کر رہے؟ ۔۔۔ اپنے بیوی بچوں کو در در کی ٹھوکریں کھانے کو کیوں چھوڑ دیا ہے؟ ۔۔۔ اور یہ بھی کہ کیا ان کم سن ماؤں کے ماں، باپ یا کوئی اور ایسے رشتہ دار بھی نہیں ہیں جو ان کے شوہروں کو ان کی ذمہ داریوں کا احساس دلائیں، انہیں اپنے فرائض پورے کرنے پر مجبور کریں؟ ۔۔۔ یہ اور ایسے کئی سوالات اکثر ہمارے ذہن میں سر اٹھاتے ۔۔۔ دل کو پریشان کر دیتے۔

کراچی میں رنگ برنگے فقیروں کی بھرمار نئی نہیں۔۔۔ گزشتہ چند برسوں میں تو ان کی تعداد میں تشویش ناک اضافہ ہوا ہے۔ ان پیشہ ور گداگروں میں بڑی تعداد خواتین کی ہے جن میں سے اکثر کے ساتھ نومولود بچوں سے لے کر کم عمر لڑکے اور لڑکیاں بھی ہوتی ہیں۔ یہ جتھوں کی صورت شہر میں گھومتے ہیں۔۔۔ مسجدوں کے سامنے، ہوٹلوں، ریستورانوں، شادی ہالوں کے آگے۔۔ پٹرول پمپوں کے قریب، تفریح گاہوں میں، اسپتالوں کے باہر۔۔۔ بازاروں میں، غرض کوئی جگہ ایسی نہیں جہاں لوگوں کی آمدورفت ہو اور یہ وہاں موجود نہ ہوں۔۔۔ اور یہ پیشہ ور بھکاری، بھیک مانگتے ہی نہیں، حق سمجھ کر چھین بھی لیتے ہیں۔۔۔ یہ لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلاتے ہیں۔۔۔ وہ نظرانداز کردیں تو یہ ان کے کپڑے پکڑ لیں گے۔۔۔ جسم پر ٹہوکے دیں گے۔۔۔ اور جب تک کچھ وصول نہ کرلیں، جان نہیں چھوڑیں گے۔۔۔ ان میں بہت سے نوسر باز بھی ہوتے ہیں جو طرح طرح کے روپ بھر کر، ڈرامے کرکے لوگوں کی جیبیں ہلکی کروالیتے ہیں۔ مگر نومولود بچوں کو گود میں اٹھائے بھیک مانگتی کم سن مائیں؟۔۔۔ کیا یہ بھی نوسرباز ہیں۔۔۔ یا لوگوں کو دھوکا دے کر مال بٹورنے والے کسی گروہ کی آلہ کار ہیں؟۔۔۔ اس سوال کا جواب تو حکومت اور اس کے متعلقہ اداروں کو تلاش کرنا چاہیے۔ ہمیں حیرت اس بات پر ہے کہ حقوق انسانی کی علمبردارف وہ فیشن ایبل بیگمات کہاں سو رہی ہیں کہ جن کے دل "مردوں کے اس معاشرے" میں عورت پر ہونے والے مظالم اور سب و شتم پر پھٹے جاتے ہیں۔۔۔ وہ ان حقوق کے لیے سڑکوں پر ریلیاں نکالتی ہیں، نعرے بلند کرتی ہیں۔۔۔ اب یہ اور بات کہ ایسی ریلیاں، احتجاجی ریلیوں کی بجائے کسی کیٹ واک یا فیشن پریڈ کا منظر پیش کرتی ہیں۔ خصوصاً عالمی یوم نسواں پر تو ان کی سج دھج اور ذوق و شوق پورے جوبن پر ہوتے ہیں۔۔۔ مگر ان بیگمات کو کھیلنے کودنے، پڑھنے لکھنے کی عمر میں بچوں کو گود میں اٹھائے بھیک مانگتی۔۔۔ گلی کوچوں، بازاروں میں رلتی یہ مظلوم بچیاں نہ جانے کیوں نظر نہیں آتیں؟ ۔۔۔ وہ ان کے حقوق کے لیے آواز کیوں نہیں اٹھاتیں؟ ۔۔۔ کیوں سڑکوں پر نہیں آتیں؟۔۔۔ کہیں اس لیے تو نہیں کہ یہ بچیاں عورت کے اس معیار پر پوری نہیں اترتیں جہاں پہنچ کر وہ "میرا جسم میری مرضی" کا نعرۂ مستانہ بلند کرتی ہے اور اس نعرے میں چھپے مضمرات کو سمجھانے اور ان سے بچانے والے اپنے بہی خواہوں کو ہی اپنا دشمن سمجھنے کی غلط فہمی میں مبتلا ہوجاتی ہے!۔

beggars Fraud

BEGGING