چیک ماڈل ٹریزا کی سزا کےخلاف اپیل کو منظورکرنےکا تحریری فیصلہ جاری

اور لاہور ائیرپورٹ سے واقعے کی سی سی ٹی وی فوٹیج بھی نہیں لی گئی
Tereza Hluskova, a Czech citizen, leaves a court in Lahore, Pakistan, Tuesday, Jan. 8, 2019. The court has completed the trial of Hluskova arrested last year on charges of attempting to smuggle heroin from Pakistan to Abu Dhabi. During Tuesday’s brief court hearing, 21-year-old Hluskova pleaded innocent and faces up to 10 years in prison if convicted. Since her arrest in 2018, she has told investigators that she came to Pakistan to work as a model but that someone put narcotics into her luggage. (AP Photo/K.M. Chau
Tereza Hluskova, a Czech citizen, leaves a court in Lahore, Pakistan, Tuesday, Jan. 8, 2019. The court has completed the trial of Hluskova arrested last year on charges of attempting to smuggle heroin from Pakistan to Abu Dhabi. During Tuesday’s brief court hearing, 21-year-old Hluskova pleaded innocent and faces up to 10 years in prison if convicted. Since her arrest in 2018, she has told investigators that she came to Pakistan to work as a model but that someone put narcotics into her luggage. (AP Photo/K.M. Chau

لاہورہائی کورٹ نے چیک ماڈل ٹریزا کی سزا کے خلاف اپیل کو منظور کرنے کا تحریری فیصلہ جاری کردیا ہے۔

لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس علی باقر نجفی کی سربراہی پر مشتمل 2 رکنی بینچ نے 6 صفحات پر مشتمل فیصلہ جاری کیا۔فیصلے میں کہا گیا ہے کہ چیک ماڈل ٹریزا کی اپیل کو منظور کیا جاتا ہے۔ ٹریزا کی تلاشی لینے والی خاتون کو گواہ نہیں بنایا گیا اور کانسٹیبل کو گواہ نہ بنا کرایک گواہی روکی گئی۔

فیصلے میں کہا گیا ہے کہ کسٹم ہاؤس منشیات کب، کہاں اور کیسے پہنچی،اس حوالے سے کوئی تفتیش نہیں کی گئی اور لاہور ائیرپورٹ سے واقعے کی سی سی ٹی وی فوٹیج بھی نہیں لی گئی جبکہ ایسے واقعات میں سی سی ٹی وی فوٹیج لازمی ہوتی ہے۔

فیصلے میں یہ بھی درج ہے کہ استغاثہ میں ایسی ناکامی کونظرانداز نہیں کیا جاسکتا اوراس میں استغاثہ کیس کو ثابت کرنے میں ناکام رہا ہے۔

لاہور ہائی کورٹ نے یکم نومبر کوغیر ملکی ماڈل ٹریزا کومنشیات اسمگلنگ کیس میں بری کردیا تھا۔جسٹس علی باقر نجفی کی سربراہی پر مشتمل 2 رکنی بینچ نے اپیل پر سماعت کی تھی۔ عدالت نے ملزمہ کی ساڑھے8 سالہ قید کی سزا کو کالعدم قرار دے دیا۔ ملزمہ کے خلاف کسٹم حکام نے مقدمہ درج کیا تھا۔

اپریل 2019 میں منشیات اسمگلنگ کیس میں سزا يافتہ غير ملکی ماڈل ٹريزا السکووا نے سزا کا فيصلہ ہائی کورٹ میں چیلنج کیا تھا۔ ٹریزا کا موقف تھا کہ ٹرائل کورٹ نے حقائق کے برعکس سزا سنائی، جس بیگ سے ہیروئن ملی وہ ان کا نہیں تھا۔

چیک ماڈل ٹريزا السکووا نے ہائی کورٹ میں سزاچیلنج کردی

 

ٹریزا نے درخواست میں تحریر کیا  کہ ان کے بیگ کو تبدیل کیا گیا،اے این ایف چیکنگ میں یہ بیگ نہیں تھا،بیگ کی تبدیلی کے بعد کسٹمز حکام کو منشیات ملی۔ انھوں نے استدعا کی کہ وہ بے قصور ہیں اورسزا کالعدم قرار دی جائے۔

واضح رہے کہ 20 مارچ 2019 کو منشیات اسمگلنگ کےجرم میں گرفتار غیر ملکی خاتون ماڈل ٹریزا السکووا کو عدالت نے 8 سال قید کی سزا سنا دی تھی ۔ ایک ملزم شواہد نہ ملنے پر بری کردیا تھا۔

منشیات اسمگلنگ کیس، گرفتار غیر ملکی ماڈل کو 8 سال قید کی سزا

 منشیات اسمگلنگ کیس کا فیصلہ 14 ماہ بعد سنایا گیا تھا۔ عدالتی فیصلے کے مطابق ٹریزا پر ہیروئن کی اسمگلنگ کا جرم ثابت ہوا تھا اور انھیں 8 سال اور 8 ماہ جیل میں گزارنا تھے۔غیر ملکی ماڈل کو قید سمیت 1 لاکھ 13 ہزار روپے جرمانے کی سزا بھی سنائی گئی تھی۔

اسمگلنگ کے الزام میں گرفتار چیک ریپبلک کی خاتون جیل منتقل

چیک ریپبلک کی ماڈل 10 جنوری 2018 کو 9 کلو ہیروئین لے جانے کی کوشش میں گرفتار ہوئی تھیں۔ لاہور ایئرپورٹ پر دبئی سے آئرلینڈ جاتے ہوئے ان کے سامان کی چیکنگ کے دوران ہیروئین برآمد ہوئی تھی۔

Tabool ads will show in this div