بھارت میں اتنے ٹوائلٹس نہیں جتنے موبائل فونز ہیں

دنیا بھرکےٹوائلٹس سےسالانہ290بلین کلو فضلہ پیداہوتاہے
فائل فوٹو
فائل فوٹو
[caption id="attachment_2438443" align="alignnone" width="900"] فائل فوٹو[/caption]

دنیا میں بھر آج ورلڈ ٹوائلٹ ڈے منایا جا رہا ہے، تاہم کیا آپ جانتے ہیں کہ دنیا میں 4 ارب سے زائد افراد اس بنیادی انسانی سہولت سے محروم ہیں۔

اپنے پڑوسی ملک بھارت کی بات کی جائے تو گزشتہ 2 ادوار میں بھارت میں ٹوائلٹس تعمیر کرنے کے جنون میں کچھ تیزی دیکھنے میں ملی ہے، جہاں حکومت نے 2019 تک کھلے علاقے میں رفع حاجت کے مسئلے سے نمٹنے کیلئے 20 بلین ڈالر (15 بلین پاؤنڈ) مختص کرنے کا اعلان کیا تھا۔ مگر اس کے باوجود ایک سروے میں یہ حیران کن بات سامنے آئی ہے کہ بھارت میں آدھے سے زیادہ گھروں میں موبائل فونز تو موجود ہیں مگر ٹوائلٹس نہیں۔

بھارتی ذرائع ابلاغ کے مطابق آدھے انڈیا میں 1.2 بلین افراد کے گھروں میں ٹوائلٹ جیسی بنیادی سہولت موجود نہیں۔ سروے میں بتایا گیا ہے کہ 246.6 ملین افراد میں سے صرف 46.9 فیصد افراد کے گھروں میں ٹوائلٹ موجود ہے، جب کہ 49.8 فیصد رفع حاجت کیلئے کھلے علاقوں کا رخ کرتے ہیں۔ جب کہ صرف 3.2 فیصد ایسے ہیں جو اس ضرورت کے وقت پبلک ٹوائلٹس کا رخ کرتے ہیں۔

بھارت میں ٹوائلٹ سے متعلق لوگوں میں آگاہی اور اس سہولت کو زیادہ سے زیادہ عام کرنے کیلئے حکومتی سطح پر سوچھ بھارت مشن کے تحت دیہی علاقوں میں صفائی کا اعلان کیا گیا تھا۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق سنہ 2019 تک، 699 اضلاع کے تقریباً 6 لاکھ دیہاتیوں کو کھلے علاقوں میں رفع حاجت سے پاک قرار دیا گیا۔ اس مہم میں تقریباً 11 کروڑ بیت الخلاء بنائے گئے تھے۔ سنہ 2014 میں سوچھ بھارت مشن کے آغاز سے لے کر 2019 تک کے پانچ سالوں میں، دیہی علاقوں میں تقریباً 60 کروڑ لوگوں کو اس سہولت سے متعلق آگاہی فراہم کی گئی۔

گاؤں دیہات اور دور دراز علاقوں میں رہنے والے افراد کا کہنا ہے کہ پبلک ٹوائلٹس یا کھلے علاقوں میں رفع حاجت کیلئے جانا کسی خطرے سے کم نہیں ہوتا، ایسی جہگوں پر لوگوں کے علاقوں جانوروں سے بھی ڈر ہوتا ہے، جب کہ عموماً یہ جہگیں حکومت سرپرستی سے محروم ہوتی ہیں اور یہاں صفائی کا فقدان ہوتا ہے۔

دی وائر کی جانب سے شائع کیے گئے سروے کے مطابق سال 2020 میں بھارتی کی 17 ریاستوں میں صفائی، ٹوائلٹس سیوریج نظام سے متعلق 2 فیصد بہتری آئی ہے۔

اپریل سال 2021 میں جاری اعداد و شمار کے مطابق بھارت کے 1 لاکھ 20 ہزار سے زائد ٹوائلٹس میں پانی کی فراہمی کا کوئی نظام ہی موجود نہیں، جب کہ دیہی علاقوں میں 6 لاکھ سے زائد ایسے ٹوائلٹس ہیں جنہیں پانی کی قلت کا سامنا ہے۔

عالمی ادارہ صحت کے مطابق دنیا کی صرف 39 فیصد آبادی جس ٹوائلٹ کو استعمال کرتی ہے، وہ محفوظ سیوریج سسٹم سے منسلک ہے۔ ہیٹی، بنگلا دیش، افغانستان اور پاپا نیوگینی کا شمار ایسے ممالک میں ہوتا ہے جہاں آدھی سے زیادہ آبادی کو ٹوائلٹس تک رسائی اور بہتر سیوریج سسٹم موجود نہیں ہے۔

বিশ্ব টয়লেট দিবস ২০১৯

ترقی پذیر ممالک میں تقریباً 2/3 پرائمری اسکولوں میں لڑکیوں اور لڑکوں کیلئے الگ الگ باتھ روم کی سہولت تک نہیں ہیں۔

ایک اندازے کے مطابق عام آدمی دن بھر میں 4 سے 10 بار ریسٹ روم یا ٹوائلٹ کا رخ کرتا ہے۔

World Toilet Org (@WorldToilet) / Twitter

دنیا بھر کے ٹوائلٹس سے سالانہ 290 بلین کلو فضلہ پیدا ہوتا ہے۔

ایک رپورٹ کے مطابق 75 فیصد امریکی ٹوائلٹس میں بھی موبائل فونز استعمال کرتے ہیں۔

TOILET، WATER

Tabool ads will show in this div