انتہاء پسندی کی وجہ مدارس نہیں اسکول وکالج ہیں، وزیراطلاعات

شدت پسندی سے لڑنے کیلئے اتناتیار نہیں جتنا ہوناچاہئے تھا
Nov 18, 2021

وفاقی وزير اطلاعات و نشريات فواد چوہدری نے انتہاء پسندی کی وجہ اسکول اور کالجوں کو قرار دیدیا۔ کہتے ہیں کہ ریاست شدت پسندی سے لڑنے کیلئے اتنی تیار نہیں جتنا ہونا چاہئے تھا، ٹی ایل پی کے معاملے میں بھی حکومت کو پیچھے ہٹنا پڑا، 80 اور 90 کی دہائی ميں ايسے اساتذہ بھرتی کئے گئے جو شدت پسندی پڑھا رہے ہيں۔

اسلام آباد میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات  فواد چوہدری نے کہا کہ انتہاء پسندی ملک یا قوم کو تنہا اور تباہ کرسکتی ہے، سیاسی خارجی وجوہات کی بنا پر صوفیا کی سر زمین کو انتہاء پسندی کی جانب بڑھنے دیا گیا، انتہاء پسندی کی وجہ مدارس نہیں، اسکول اور کالجز ہیں۔

فواد چوہدری نے کہا کہ ریاست یا حکومت انتہاء پسندی سے لڑنے کیلئے اتنی تیار نہیں تھی جتنا ہونا چاہئے تھا، ہمیں ٹی ایل پی کے واقعے پر بھی دیکھنا پڑا کہ ریاست پیچھے ہٹی ہے، مسئلہ دینی تعلیمات نہیں اس کی تشریحات کرنے والوں کا ہے، ہمارے ہاں ایک ہی نظریے کے سوا دوسری سوچ یا بات پر کفر کا فتویٰ لگادیا جاتا ہے، اسلام توازن اور امن کی تعلیمات دیتا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ بھارت کبھی پاکستان کا مقابلہ نہیں کرسکتا، پاکستان کو بھارت، امریکا یا یورپ سے نہیں بلکہ اندر سے خطرہ ہے، انتہاء پسندی کو معاشرے سے خود ٹھیک کرنا ہے۔

واضح رہے کہ حکومت نے تحریک لبیک پاکستان کو رواں سال اپریل میں کالعدم قرار دیدیا تھا تاہم گزشتہ ماہ ایک بار پھر پرتشدد مظاہروں اور دھرنوں کے بعد ٹی ایل پی کا اسٹیٹس تبدیل کردیا گیا جبکہ آج تحریک لبیک پاکستان کے سربراہ سعد حسین رضوی کو بھی کوٹ لکھپت جیل سے رہا کردیا گیا ہے۔

INFORMATION MINISTER

Tabool ads will show in this div