تحریک لبیک پاکستان کے سربراہ سعد رضوی رہا

سات ماہ سے زائد قیدمیں رہے

 تحریک لبیک پاکستان کے سربراہ سعد رضوی کو جیل سے رہا کردیا گیا۔ 

تحریک لبیک پاکستان نے تصدیق کی ہے کہ سعد رضوی کو کوٹ لکھپت جیل سے رہا کردیا گیا ہے۔محکمہ داخلہ پنجاب کی جانب سے 11 نومبر کو  نوٹی فیکیشن کے ذریعے بتایا گیا تھا کہ 487 افراد کے ناموں کو فورتھ شیڈول کی فہرست سے نکال دیا گیا جس میں ٹی ایل پی کے سربراہ سعد رضوی کا نام بھی شامل ہے۔

گیارہ اپریل 2021 کوسعد رضوی کو گرفتار کیا گیا تھا اور 16 اپریل کوان کا نام فورتھ شیڈول کی فہرست میں شامل کیا گیا تھا۔ ان کی رہائی کے خلاف تنظیم کی جانب سے سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں درخواست دائر کی گئی تھی۔ سعد رضوی کو نقص امن کیلئے خطرہ اور ملک بھر میں کالعدم تنظیم کے مظاہروں اور سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے کے الزام میں پنجاب حکومت نےگرفتار کیا گیا تھا۔

 بارہ اکتوبر کو سپریم کورٹ لاہور رجسٹری  کے 2 رکنی بینچ نے کالعدم ٹی ایل پی کے سربراہ سعد رضوی کی رہائی کے فیصلہ پر عمل درآمد روکتے ہوئے معاملہ واپس لاہور ہائیکورٹ کو بھجوا دیا تھا۔

واضح رہے کہ حکومت پنجاب نے کالعدم تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) کے سربراہ سعد حسین رضوی کو رہا کرنے کا لاہور ہائی کورٹ کا فیصلہ پیر 11 اکتوبر کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا تھا۔ صوبائی حکومت نے درخواست میں سعد رضوی کے چچا امیر حسین کو فریق بناتے ہوئے مؤقف اختیار کیا تھا کہ لاہور ہائی کورٹ کے سعد رضوی کو رہا کرنے کے حکم میں قانونی تقاضے پورے نہیں کیے گئے۔ درخواست میں یہ بھی کہا گیا کہ ہائی کورٹ کو کیس سے متعلق تفصیلی ریکارڈ بھی فراہم کیا گیا تھا جب کہ سعد رضوی کو نظر بند کرنے کا حکومتی فیصلہ قانونی طور پر درست ہے۔ حکومت پنجاب نے درخواست میں سپریم کورٹ سے استدعا کی ہے کہ سعد رضوی کو رہا کرنے کے لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کو کالعدم قرار دیا جائے۔

لاہور ہائی کورٹ

یاد رہے کہ لاہور ہائی کورٹ نے یکم اکتوبر کو علامہ سعد رضوی کی نظر بندی کو کالعدم قرار دے دیا تھا۔ جسٹس طارق سلیم شیخ نے سعد رضوی کے چچا امیر حسین کی درخواست پر فیصلہ سنایا تھا۔ عدالت میں سعد رضوی کے چچا کے وکیل برہان معظم ملک نے دلائل دیئے، جب کہ پنجاب حکومت اور وفاقی حکومت کے وکلا نے درخواست کی مخالفت کی تھی۔

ڈپٹی کمشنر کے حکم میں ہائی کورٹ کے علاوہ سپریم کورٹ کے وفاقی جائزہ بورڈ کے حراست کے حوالے سے لیے گئے پہلے دو فیصلوں کا حوالہ بھی دیا تھا۔ اس میں کہا گیا کہ سعد رضوی کی نظر بندی میں توسیع کے لیے بورڈ کے سامنے 29 ستمبر کو ایک ریفرنس دائر کیا گیا تھا اور بورڈ نے 2 اکتوبر کو ٹی ایل پی سربراہ کی حراست کی مدت میں ایک ماہ کی توسیع کی تھی۔

اس وقت ڈپٹی کمشنر لاہور نے انسداد دہشت گردی ایکٹ 1997 کے سیکشن 11-ای ای ای (مشتبہ افراد کو گرفتار اور حراست میں لینے کے اختیارات) کے تحت ایک نیا نوٹیفکیشن جاری کیا تھا اور سعد رضوی کو مزید 90 دنوں کے لیے حراست میں لے لیا گیا تھا۔

فورتھ شیڈول کیا ہے؟

فورتھ شیڈول ایک ایسی فہرست ہے جس میں انسداد دہشت گردی ایکٹ 1997 کے تحت دہشت گردی اور فرقہ واریت کے جرم میں مشتبہ افراد کو رکھا جاتا ہے۔

ٹی ایل پی پر پابندی

تحریک لبیک پاکستان کی جانب سے پُرتشدد مظاہروں اور احتجاج کے بعد حکومت پاکستان نے اپریل 2021 میں تنظیم کو کالعدم قرار دیتے ہوئے اس پر 1997ء کے انسداد دہشت گردی قانون کے تحت پابندی عائد کرنے کا فیصلہ کیا تھا جس کے بعد جولائی 2021 میں آزاد کشمیر میں ہونے والے انتخابات کیلئے کالعدم ٹی ایل پی پر آزاد کشمیر انتخابات میں حصہ لینے پر بھی پابندی عائد کی گئی۔

العدم تحریک لبیک پاکستان نے 2018ء کےعام انتخابات میں 22 لاکھ سے زیادہ ووٹ حاصل کیے تھے جب کہ سندھ اسمبلی میں اس جماعت کے 3 اراکین موجود ہیں۔

SAAD RIZVI

Tabool ads will show in this div