پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس،اپوزیشن کے قانون دانوں نےبائیکاٹ کامشورہ دیاتھا

اپوزیشن لیڈر نے کوئی واضح حکمت عملی نہیں دی

[video width="640" height="360" mp4="https://i.samaa.tv/wp-content/uploads/sites/11//usr/nfs/sestore3/samaa/vodstore/urdu-digital-library/2020/11/Samaa-thelka.mp4"][/video]

پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں اپوزیشن کے 2 قانون دانوں نے کارروائی سے بائیکاٹ کی تجویز دی تھی تاہم شہباز شریف نے اجلاس میں شرکت کرنے کا کہا تھا۔

سماء کے نمائندہ خصوصی نعیم اشرف بٹ نے بتایا ہے کہ بدھ کواپوزيشن کی پارليمانی ميٹنگ ميں 2ماہر قانون سينيٹرز نے پارلیمنٹ میں قانون سازی کے بائيکاٹ کا مشورہ ديا تھا۔ پيپلزپارٹی کے رضا ربانی اور فاروق نائيک نے اليکشن اصلاحات بل کے بائيکاٹ کا کہا۔ اس موقع پررضا ربانی نے يہ بھی کہا تھا اگر اپوزیشن  قانون سازی کا حصہ بن گئی تو عدالت ميں اپوزیشن کے ليے مشکلات ہوں گی۔ فاروق ایچ نائیک کا کہنا تھا کہ اپوزیشن کو صرف تقريريں کرکے بل پيش ہونے پر واک آؤٹ کرناچاہيے۔

تاہم شہبازشريف نے کہا کہ ابھی ايوان ميں جاتے ہيں اوروہيں فيصلے سے آگاہ کردوں گا۔ پارلیمنٹ کا اجلاس شروع ہونے کے بعد اپوزيشن شہباز شريف کے اشارے کا انتظار کرتی رہی اور بل منظورہوگيا۔

ای وی ايم بل کی منظوری کے بعد شہبازشريف اوربلاول بھٹو ايوان سےچلےگئے اور میڈیا سے مشترکہ بات کی۔اس موقع پر اپوزيشن اراکين کو کہا گيا کہ وزيراعظم عمران خان کو تقرير نہيں کرنے دينی ہے اور اپوزیشن کے دیگر اراکین ایوان میں رہیں۔

Joint session

Tabool ads will show in this div