کلبھوشن یادوسےمتعلق قانون سازی سے بھارتی عزائم ناکام ہوگئے،اٹارنی جنرل

اپوزیشن کو کلبھوشن سےمتعلق قانون سازی پر سیاست نہ کرنےکا مشورہ

[video width="640" height="360" mp4="https://i.samaa.tv/wp-content/uploads/sites/11//usr/nfs/sestore3/samaa/vodstore/urdu-digital-library/2020/11/Attorney-General-Interview-Isb-18-11.mp4"][/video]

اٹارنی جنرل پاکستان خالد جاوید خان نے کہا ہے کہ پارلیمنٹ نے بھارتی جاسوس کلبھوشن یادو سے متعلق قانون سازی کرکے بھارت کے عزائم ناکام بنادئیے ہیں۔

سماء کو خصوصی انٹرویو میں اٹارنی جنرل پاکستان خالد جاوید خان نے اپوزیشن کو کلبھوشن یادو کے معاملے پرتفصیلی بریفنگ کی پیشکش کی ہے۔ انھوں نے کہا کہ اس قانون سازی کا فیصلہ حکومت کی قانونی ٹیم اور سکیورٹی اداروں نے کیا اور اس سے پاکستان کو تنہا کرنے کی بھارتی سازش اب ناکام ہوگئی ہے۔

اٹارنی جنرل نےمزید بتایا کہ اس معاملے پر بھارت دوبارہ عالمی عدالت انصاف،سلامتی کونسل جانا چاہتا تھا لیکن بھارت کی پاکستان پر پابندیاں عائد کرانے کی کوشش سبوتاژ ہوگئیں۔ کلبھوشن پاکستانیوں کا قاتل اور بھارتی جاسوس ہے اور  یہ قانون سازی عالمی عدالت انصاف کے فیصلے کے مطابق کی گئی۔ اسلام آباد ہائی کورٹ میں کارروائی بھی اسی قانون کے تحت ہو رہی ہے اورعالمی عدالت انصاف نے کہا تھا کہ پاکستان کی بین الاقوامی ذمہ داریاں ہیں۔عالمی عدالت انصاف نے پارلیمنٹ کو قانون سازی کی ہدایت نہیں کی تھی اوراس فیصلے پرعملدرآمد کا طریقہ پاکستان پر چھوڑا تھا۔

انتخابی اصلاحات سے متعلق وضاحت:۔

اٹارنی جنرل پاکستان نے بتایا کہ الیکٹرانک ووٹنگ کیلئے مشین کا انتخاب الیکشن کمیشن کرے گا اورحکومت صرف معاونت کرے گی۔ انتخابی اصلاحات میں الیکشن کمیشن کو جن ترمیم پر تحفظات تھے وہ مؤخر کردی گئی ہیں۔ الیکشن کمیشن نے کبھی ٹیکنالوجی کے استعمال سے انکار نہیں کیا اوران کو صرف طریقہ کار پر تحفظات تھے۔

اٹارنی جنرل نے بتایا کہ الیکٹرانک ووٹنگ مشین اور سمندر پار پاکستانیوں والا بل منظور ہوا ہے،قانون سازی کے ذریعے تارکین وطن کی ووٹنگ کیلئے گنجائش پیدا کی گئی تاہم ووٹنگ کرانے کے طریقہ کار کا صوابدیدی اختیار الیکشن کمیشن کا ہے۔اٹارنی جنرل نے مزید کہا کہ الیکشن ایکٹ میں ہونے والی ترامیم آئین کے مطابق ہیں۔

کلبھوشن کووکیل فراہمی کی درخواست اگلے ماہدوبارہ سماعت کیلئےمقرر:۔

پچھلے ماہ اسلام آباد ہائیکورٹ میں کلبھوشن  یادیو سے متعلق عالمی عدالت انصاف کے فیصلے پر عملدرآمد کے کیس کی سماعت کا تحریری حکم نامہ جاری کیا۔چیف جسسٹس اطہر من اللہ نے3 صفحات پر مشتمل حکم نامہ تحریر کیا۔ کلبھوشن کو وکیل فراہمی کی درخواست 9 دسمبر کو دوبارہ سماعت کیلئے مقرر کی گئی ہے۔

ہائی کورٹ کے حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ عالمی عدالت کے فیصلے پر موثرعمل درآمد بھارتی معاونت سے ہی ممکن ہے اور کیس میں معاونت سے بھارت کی خود مختاری متاثر نہیں ہوگی۔

حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ بھارتی قیدی جسپال کے کیس میں بھارت اس ہی عدالت میں پیروی کرچکا ہے اور جسپال کے کیس میں اس ہی عدالت نے بھارتی سفارت خانے کو ریلیف دیا اور بھارت کی خود مختاری کا مکمل خیال رکھا گیا تھا۔

بھارت کو کلبھوشن کو وکیل فراہم کرنے کا ایک اور موقع

مزید یہ بھی کہا گیا ہے کہ بھارت کو اگر کوئی خدشات ہیں تو اس عدالت کو آگاہ کرسکتا ہے۔ عالمی عدالت کے فیصلے پرعمل اورفئیر ٹرائل یقینی بنانا حکومت پاکستان کا فرض ہے، مناسب ہوگا کہ کلبھوشن کیلئے وکیل فراہمی کا بھارت کوایک اورموقع اورفراہم کیا جائے اور رجسٹرار آفس 9 دسمبر کو دوبارہ یہ کیس سماعت کے لئے مقرر کرے۔

 عدالت کو بتایا گیا کہ 5 مئی کے عدالتی حکم پر بھارت کو پیغام بھجوایا گیا لیکن کوئی جواب نہیں آیا۔اٹارنی جنرل خالد جاوید نے کہا کہ یہ عدالت کلبھوشن کیلئے وکیل مقرر کرے اور وہ اپیل دائر کرے گا، حکومت پاکستان اپنی طرف سے یہ نہیں کرسکتی، عدالت ہی کر سکتی ہے۔جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیئے کہ کس قانون کے تحت ہم یہ سب کریں ؟جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کہا کہ بھارت جب اپیل میں خود آہی نہیں رہا تو ہم کیسے سنیں؟

چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیئے کہ عالمی عدالت انصاف کے فیصلے پر ہم نے عمل کرانا ہے، جو مؤثر کارروائی سے ہی ہوسکتا ہے،ہم نے ویانا کنونشن کے مطابق ہی آگے بڑھنا ہے،کیس میں کلبھوشن کی زندگی کا سوال ہے،ہم نے بھارت کو ہر آپشن دیا، یہ شاید ہمارے لئے مناسب نہیں ہوگا کہ وکیل خود فراہم کریں، ہم اب بھی توقع کرتے ہیں بھارت کلبھوشن کیس میں آگے بڑھے گا۔

کلبھوشن عدالت آئیگا توتحفظ کا معاملہ دیکھ سکیں گے،عدالت

اپریل 2021 میں بھارتی سفارتخانے کے وکیل بیرسٹر شاہ نواز نون نے کلبھوشن کیس میں پیروی سے معذرت کرلی تھی جس کے بعد اسلام آباد ہائیکورٹ میں متفرق درخواست دائر کی گئی۔

انہوں نےعدالت میں متفرق درخواست میں بتایا تھا کہ بھارتی جاسوس کلبھوشن کیس میں میرے پاس کوئی وکالت نامہ موجود نہیں۔کیس میں بھارت کی جانب سے کوئی بیان نہیں دے سکتا۔

 اس سے قبل 6 اکتوبر 2020 کو سینیر وکلاء مخدوم علی خان اور عابد حسن منٹو نے عدالتی معاونت سے معذرت کرلی تھی۔عدالت عالیہ نے سینیر وکیل عابد حسن منٹو اور مخدوم علی خان کو کلبھوشن کیس میں عدالتی معاون مقرر کیا تھا۔ دونوں نے عدالت میں جمع جواب میں یہ ذمہ داری نبھانے سے معذرت کرتے ہوئے جواب عدالت میں جمع کرادیا تھا جس میں عابد حسن منٹو نے خراب صحت اور مخدوم علی خان نے پیشہ وارانہ وجوہات کا جواز بنایا ۔

بھارت کو کلبھوشن یادیو کو کونسل رسائی کاایک اور موقع

عابد منٹو نے مؤقف اپنایا کہ اپنی عمر اور جسمانی کمزوری کے باعث عدالت میں پیش ہونے سے قاصر ہوں۔ کچھ سال قبل وکالت سے ریٹائر بھی ہوچکا ہوں۔ عدالت معذرت قبول کرے۔

مخدوم علی خان کہنا ہے کہ عدالت کی جانب سے معاون مقرر کیا جانا باعث فخر ہے لیکن پیشہ ورانہ وجوہات کی بنیاد پر معاونت نہیں کرسکتا۔ واضح رہے کہ وزارت قانون نے عالمی عدالت انصاف کے فیصلے پر عمل درآمد کے سلسلے میں وکیل مقرر کرنے کی درخواست دائر کر رکھی ہے۔

بھارتی نیوی کے حاضر افسر کلبھوشن یادھوکو3 مارچ 2016 میں اس وقت گرفتار کیا گیا، جب وہ غیر قانونی طریقے سے پاکستان میں داخل ہوا تھا۔

KULBHUSHAN JADHAV

Tabool ads will show in this div