رنگ روڈ کرپشن کیس:سابق کمشنر راولپنڈی کی درخواست ضمانت منظور

پروجیکٹ ڈائریکٹر وسیم تابش کی درخواست ضمانت بھی منظور
Nov 18, 2021
[caption id="attachment_2180324" align="alignnone" width="662"] فائل فوٹو[/caption]

راولپنڈی رنگ روڑ منصوبے میں مبینہ کرپشن کے کیس میں سابق کمشنر راولپنڈی محمد محمود کی درخواست ضمانت لاہور ہائی کورٹ نے منظور کرلی ہے۔

جمعرات 18 نومبر کولاہورہائی کورٹ میں جسٹس شہرام سرورچوہدری نےملزمان کی درخواست ضمانت بعدازگرفتاری پر سماعت کی۔

لاہور ہائیکورٹ میں سابق کمشنر راولپنڈی محمد محمود کی درخواست ضمانت منظور کی گئی۔ عدالت نے پروجیکٹ ڈائریکٹر وسیم تابش کی درخواست ضمانت بھی منظورکی۔عدالت نے ملزمان کو ایک ایک کروڑ روپے کے مچلکے جمع کروانے کا حکم دیا۔

چیئرمین نیب کا رنگ روڈ راولپنڈی منصوبے کی تحقیقات کاحکم

درخواست گزارکے وکلا نے عدالت کو بتایا کہ ملزمان کے خلاف اینٹی کرپشن حکام نے مقدمہ درج کررکھا ہے اور یہ  مقدمہ قانون کے برعکس درج کیا گیا۔ وکلا نے بتایا کہ ملزمان سے دوران حراست کوئی چیز برآمد نہیں ہوئی اورعدالت ٹرائل کے حتمی فیصلے تک ضمانت پر رہائی کے احکامات جاری کرے۔

دو ماہ قبل لاہور کی اینٹی کرپشن عدالت نے رنگ روڈ راولپنڈی منصوبے میں مبینہ کرپشن کیس میں سابق کمشنر راولپنڈی محمد محمود اور پروجیکٹ ڈائریکٹر وسیم تابش کی درخواست ضمانت مسترد کردی تھی۔

راولپنڈی رنگ روڈ معاملے پر انکوائری کا آغاز

واضح رہے کہ 28جولائی کو لاہور کی ضلع کچہری نے رنگ روڑ راولپنڈی منصوبے میں مبینہ کرپشن اور بے ضابطگیوں کے کیس میں گرفتار سابق کمشنر راولپنڈی محمد محمود اور پروجیکٹ ڈائریکٹر وسیم تابش کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا تھا۔

رنگ روڈ روالپنڈی منصوبے کی ابتدائی تحقيقاتی رپورٹ میں کابینہ کے کسی رکن کے ملوث ہونے کا ذکر نہیں کیا گیا۔ رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ رنگ روڈ منصوبے سے متعلق ہاؤسنگ سوسائیٹیز کی تحقیقات نیب کرے گا۔

پنڈی رنگ روڈکی تحقيقات 2ہفتوں ميں مکمل ہوجائے گی، وزیراعظم

یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ رنگ روڈ میں کیس میں زلفی بخاری اور غلام سرور خان کے ملوث ہونے کا الزام تھا۔ الزامات کے بعد زلفی بخاری نے معاون خصوصی کےعہدے سے استعفیٰ ديا تھا۔

رنگ روڈ منصوبے کی تحقیقاتی رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ الائنمنٹ تبدیل کرنے کی منظوری صوبائی ڈویلپمنٹ بورڈ سے نہیں لی گئی تھی۔ رنگ روڈ کیس میں الائنمنٹ تبدیل کرنا اور غیر قانونی ایوارڈ ہونا ثابت ہوا ہے۔

رنگ روڈ کیس:سابق کمشنر اور لینڈ ایکوزیشن آفیسر راولپنڈی گرفتار

تحقیقاتی رپورٹ کی روشنی میں ڈپٹی پراجیکٹ، پراجیکٹ ڈائریکٹر اور دیگر متعلقہ افراد کیخلاف مقدمہ درج کیا گیا ۔ تحقیقاتی رپورٹ مرتب کرنے کیلئے ‏6 رکنی جے آئی ٹی نے تحقیقات میں 21 ہزار صفحات کی جانچ پڑتال کی۔ اسی رپورٹ میں ‏پراجیکٹ ڈائریکٹر کا وزیراعلیٰ پنجاب سے ہدایات لینے کا دعویٰ بھی غلط ثابت ہوا ہے۔

رپورٹ کے متن کےمطابق ہاؤسنگ سوسائیٹیزکو فائدہ پہنچانے کیلئے 5 نئے انٹر چینجز تجویز کیے گئے۔ ‏رنگ روڈ منصوبے میں وزیراعظم کی ہدایات کی خلاف ورزی کی گئی

رنگ روڈ کرپشن کیس:سابق کمشنر راولپنڈی کی درخواست ضمانت مسترد

‏منصوبے کی لاگت میں پی سی ون میں تبدیل کرنے سے 10 ارب روپے اضافہ ہوا۔ 51.7 کلو میٹر کا منصوبہ 6 ارب 24 کروڑ روپے میں مکمل ہونا تھا۔ منصوبہ بڑھ کر 66.3 کلو میٹر اور لاگت 16 ارب 30 کروڑ روپے ہوگئی۔ زمین کی خریداری میں حکومت کو 2 ارب 10 کروڑ روپے کا نقصان ہوا۔

چھ ماہ قبل چیئرمین نیب نے رنگ روڈ راولپنڈی منصوبے میں مبینہ طور پر اربوں روپے کی بدعنوانی، بے ضابطگیوں اور غیر قانونی لینڈ ایکوزیشن کا نوٹس لیتے ہوئے نیب راولپنڈی کو تحقیقات کا حکم دیا تھا۔جسٹس (ر) جاوید اقبال کی جانب سے ڈی جی نیب راولپنڈی کو ہدایت کی گئی کہ میرٹ پر شفاف انداز میں تحقیقات مکمل کرنے کے ساتھ  تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا جائے۔

RAWALPINDI RING ROAD CASE

Tabool ads will show in this div