نیب نیازی گٹھ جوڑ کےبعداسپیکر پی ٹی آئی گٹھ جوڑسامنےآیا

اپوزیشن رہنماوں کی پارلیمنٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو

اپوزیشن لیڈر شہبازشریف کا کہنا ہے کہ ہم نے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں اسپیکر اسد قیصر کو آئین اور قانون کے حوالے دیئے مگر انہوں نے ہماری بات نہیں سنی اور حکومت نے دھونس اور جبر سے تمام بلز بلڈوز کردیئے۔

پارلیمنٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شہاز شریف کا کہنا تھا کہ آج پارلیمانی تاریخ کا سیاہ ترین دن تھا اور نیب نیازی گٹھ جوڑ کے بعد اسپیکر پی ٹی آئی گٹھ جوڑ کھل کر سامنے آیا ہے۔

شہاز شریف کا کہنا ہے کہ اسپیکر کو یاد دلایا کہ آپ اپنے کہی ہوئی بات کا الٹ کرکے زیادتی کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بطور اپوزیشن لیڈر اس اہم معاملے پر مجھے بولنے کا حق تھا مگر اسپیکر نے مجھے بولنے نہیں دیا۔

صدر ن لیگ کا کہنا تھا کہ اجلاس میں اپوزیشن اراکین کی ایک بہت بڑی تعداد نے شرکت کی صرف چند بیمار اراکین اسمبلی اجلاس میں شریک نہیں ہوسکے۔

انہوں نے کہا کہ دنیا کے ڈیڑھ سو سے زیادہ ممالک میں سے صرف 8 ممالک میں ای وی ایم کا استعمال ہورہا ہے جبکہ 9 ممالک اس سسٹم کو ترک کرچکے ہیں لیکن حکومت اس ناکام سسٹم کو نافذ کرنے کےلئے بضد ہے۔

صدر ن لیگ کا کہنا تھا کہ حکومت جتنا زور الیکٹرانک ووٹنگ مشین پر لگارہی ہے اگر اتنا زور غربت اور مہنگائی ختم کرنے پر لگاتی تو حالات اتنے خراب نہ ہوتے۔

اپوزیشن لیڈر شہبازشریف کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ آج کے جوائنٹ سیشن میں حکومت کی جیت نہیں بلکہ شکست ہوئی ہے کیونکہ رولز کے مطابق آج حکومت کو بل پاس کرانے کےلئے کم سے کم 222 ووٹ درکار تھے جو حکومت حاصل نہیں کرسکے۔

بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ اپوزیشن کے کتنے اراکین ایوان میں موجود ہیں اگر مطلوبہ ووٹ نہ مل سکے تو قانون نہیں بنتا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے آج کھبلوشن کو این آر او اور اسٹیٹ بینک کو آئی ایم ایف کے غلامی میں دینے کی کوشش کی مگر ناکام ہوگئے۔

انہوں نے کہا کہ آج کے قانون سازی کو سپریم کورٹ میں چیلنج کریں گے،آج کوئی قانون نہیں بنا کیونکہ حکومت نے رولز پورے نہیں کئے۔

BILAWAL BHUTTO

Joint session

Tabool ads will show in this div