پاکستان میں ووٹنگ کا طریقہ کارتبدیل،اب ٹھپہ نہیں بٹن دبےگا

بل کی حق میں 221 ووٹ پڑے جبکہ 203 ووٹ مخالفت میں پڑے
[video width="640" height="360" mp4="https://i.samaa.tv/wp-content/uploads/sites/11//usr/nfs/sestore3/samaa/vodstore/urdu-digital-library/2020/11/TEHREEK-MANZOOR-NAT-17-11.mp4"][/video] National Assembly

پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں انتخابی اصلاحات کا بل منظور ہوگیا جس کے تحت ووٹ دینے کیلئے الیکٹرانک ووٹنگ مشین متعارف کروادی گئی ہے۔ اب الیکشن کے دوران ووٹر بیلٹ پیپر پر ٹھپہ لگانے کے بجائے الیکٹرانک مشین استعمال کیا کریں گے۔ 

پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس اسپیکر اسد قیصر کی زیر صدارت 12 بجے کے بجائے ایک گھنٹہ تاخیر سے ایک بجے شروع ہوا، مشترکہ اجلاس میں حکومت کے بل کے حق میں 221 ووٹ جبکہ 203 ووٹ مخالفت میں پڑے۔پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں حکومت کی برتری ثابت ہوگئی۔ اپوزیشن کے 16ارکان اجلاس سے غائب رہے۔ نویدقمر،یوسف تالپور،علی وزیر،اخترمینگل ایوان سےغیرحاضر رہے۔ انتخابی اصلاحات کے بل کی منظوری کے بعد ووٹنگ کے عمل میں الیکٹرانک ووٹنگ مشین استعمال ہوگی۔

مزید جانیے: نیب نیازی گٹھ جوڑ کےبعداسپیکر پی ٹی آئی گٹھ جوڑسامنےآیا

مشترکہ اجلاس میں وزیرپارلیمانی امور بابراعوان نے انتخابی دوسری ترمیم کا بل پیش کیا۔ بل کے حق میں 221 ووٹ جبکہ 203 ووٹ مخالفت میں پڑے۔ الیکشن ایکٹ دوسری ترمیم کے بل پر محسن داوڑ نے زبانی رائے شماری کو چیلنج کردیا۔ محسن داوڑ نے اسپیکر سے رائے شماری کا مطالبہ کیا جس کے بعد اسپیکر نے دوبارہ زبانی رائے شماری کرادی۔

اس دوران اپوزیشن نے ایوان میں شور شرابا کیا۔ نون لیگ کے رکن قومی اسمبلی احسن اقبال نے مشیر بابر اعوان کے بل پیش کرنے پر اعتراض اٹھا دیا۔ اسپیکر نے بابراعوان کے معاملے پر رولنگ دے دی۔بابراعوان نے بتایا کہ حاضر اراکین کی اکثریت سے قانون سازی ہوگی۔ بیرسٹرفروغ نسیم نےکہا کہ مشترکہ اجلاس میں تمام بلز ماسوائے آئینی ترامیم کے موجود سادہ اکثریت سے منظورہوگی۔بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ جوائنٹ سٹنگ کے رولز بڑے واضح ہیں اور دونوں ایوانوں کی کل تعداد کے اراکین کی اکثریت سے سادہ قانون سازی ہوگی۔

اپوزيشن کوپارليمان کےمشترکہ اجلاس ميں اپنےچندارکان کی غيرحاضری کاخدشہ

اسپیکر قومی اسمبلی کا کہنا تھا کہ حکومتی تحریک پر گنتی بالکل درست ہوئی، ہاؤس رولز کے مطابق چلے گا۔

پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں منظور ہونے والے بل

اسپیکر قومی اسمبلی نے الیکٹرانک ووٹنگ مشین کے بارے میں بابر اعوان کی ترمیم منظور کرلی جبکہ سینیٹر مشتاق اور سینیٹر شیری رحمان کی ترامیم مسترد کردیں۔

وفاقی وزیر قانون نے کلبھوشن یادیو کیس سے متعلق بل عالمی عدالت انصاف نظر ثانی وغورمکرربل 2021 اکثریت رائے سے منظور کرلیا گیا۔

پارلیمنٹ نے اسلام آباد میں رفاہی اداروں کی رجسٹریشن اور انضباط کا بل منظور کرلیا۔

پارلیمنٹ نے اسٹیٹ بنک آف پاکستان بینکنگ سروسز کارپوریشن ترمیمی بل منظور کرلیا۔

نیشنل کالج آف آرٹس انسٹیٹیوٹ بل2021 منظور کرلیا گیا۔

پارلیمنٹ نے مسلم عائلی قوانین میں ترمیم کے دو بل منظور کرلیے۔

انسداد زنا بالجبر تحقیقات و سماعت بل2021 منظورکرلیا گیا۔

خواتین اور بچوں کے خلاف جنسی تشدد روکنے کا بل منظور

کارپوریٹ تنظیم سازی کمپنیز بل 2021ء کثرت رائے سے منظور

مالیاتی ادارے (محفوظ ٹرانزیکشن) ترمیمی بل کی بھی منظوری

اسلام آباد میں رفاحی اداروں کی رجسٹریشن، انضباط کا بل منظور

صنعتی زرعی اور تجارتی قرضہ جات ترمیمی بل، کمپنیات ایکٹ 2017ء میں مزید ترمیم کا بل، قومی کمیشن برائے پیشہ ورانہ تکنیکی تربیت کا بل بھی منظور کرلیا گیا۔

پورٹ قاسم اتھارٹی ترمیمی بل 2021ء منظور کرلیا گیا۔

پاکستان نیشنل شپنگ کارپوریشن ترمیمی بل 2021ء بھی کثرت رائے سے منظور

مشترکہ اجلاس میں گوادرپورٹ اتھارٹی ترمیمی بل 2021ء منظور کرلیا گیا۔

میری ٹائم سیکیورٹی ایجنسی ترمیمی بل منظور کرلیا گیا۔

پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں حیدرآباد انسٹیٹوٹ فار ٹیکنیکل و مینجمنٹ سائنسز بل 2021ء بھی کثرت رائے سے منظور کیا گیا۔

اسلام آباد فوڈ اسٹینڈرڈ اینڈ کوالٹی اتھارٹی بل، امتناع ذخیرہ اندوزی بل 2021، الکرم انٹرنیشل انسٹی ٹیوٹ بل 2021ء اور اکادمی ادبیات ترمیمی بل 2021ء بھی منظور کرلئے گئے۔

یہ بھی دیکھیں: پارلیمنٹ مشترکہ اجلاس،اسپیکرقومی اسمبلی اورپی پی رکن کےدرمیان تلخ کلامی

فواد چوہدری کی پریس کانفرنس

وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آج ہمارا ووٹنگ سسٹم پرانا ہوگيا ہے، آئندہ اليکشن الیکٹرانک ووٹنگ مشین سے ہوں گے جبکہ 90 لاکھ اوورسيز پاکستانيوں کو بھی ووٹ کا حق ملے گا۔

وزیراعظم عمران خان کے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب نہ کرنے پر ان کا کہنا تھا کہ پارليمنٹ ميں 70 قوانين پاس ہونے ہيں، قانون سازی مکمل ہوگی تو پھر وزیراعظم تقریر کریں گے۔

وزیر اطلاعات نے کہا کہ انتخابی اصلاحات پر اپوزيشن سے اتفاق رائے کی کوشش کی، آج کی شکست اپوزيشن کو طويل عرصہ ياد رہے گی، ثابت ہوگيا پاکستان تحریک انصاف ملک کی سب سے بڑی جماعت ہے، حکومت کو قومی اسمبلی ہی نہيں سينيٹ ميں بھی برتری حاصل ہے۔

فواد چوہدری نے بتایا کہ اينٹی ريپ کے قانون ميں بھی تراميم کی گئيں، ريپ کيسز کو ديکھنے کيلئے خصوصی عدالتيں قائم کی جائیں گی، اتنی بڑی قانونی سازی آج تک ایک دن میں نہیں ہوئی، عدالت ميں جانا سب کا حق ہے، بلاول شوق سے جائيں۔

Tabool ads will show in this div