حکومتی بل پاس ہونے پر اپوزیشن کا سپریم کورٹ جانےپرغور

حکومت کی جانب سے متنازعہ قوانین کوچیلنج کرنے پر غور

پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے قبل اپوزیشن جماعتوں کے اجلاس میں حکومت کی جانب سے پیش کئے گئے بل پاس ہونے کی صورت میں سپریم کورٹ جانے پر مشاورت کرلی گئی ہے۔

 بدھ کو پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے قبل صحافیوں سے غیر رسمی بات کرتے ہوئےشہبازشریف نے کہا کہ حکومت کا مقابلہ کرنےکےلیے ہمارے پاس پاس اپنی تعداد پوری ہے اور مشترکہ اجلاس میں اپوزیشن اپنا جواب دے گی۔اپوزیشن لیڈر سے سوال کیا گیا کہ کیا حکومت کو ٹف ٹائم دیں گے یا شکست دیں گے تو انھوں نے جواب دیا کہ جو اللہ کو منظورہوگا وہی ہوگا۔

پارلیمنٹ ہاؤس میں اپوزیشن رہنماؤں کا شہبازشریف کی زیر صدارت مشاورتی اجلاس ہوا جس میں اپوزیشن کے اراکین پارلیمنٹ نے شرکت کی۔ اجلاس میں مشترکہ اجلاس سے متعلق حکمت عملی طے کی گئی۔حکومت کی جانب سے متنازعہ قوانین کو چیلنج کرنے پرغور کیا گیا۔

اپوزیشن نے حکومت کی جانب سے ممکنہ طور پر پیش کئے جانے والے بلزمشترکہ اجلاس سے پاس ہونے کی صورت میں سپریم کورٹ جانے پر مشاورت کی ہے۔ اپوزیشن نے قانونی نکات کا جائزہ لینےاور بل کو چیلنج کرنے کیلئے کمیٹی قائم کرنے کا فیصلہ بھی کیا ہے۔ اپوزیشن کی قانونی کمیٹی قانونی تجاویز تیاری کرے گی اور تجاویز کی تیاری کے لئے وکلاء پینل سے مشاورت کرکےضابطے کی کارروائی مکمل کی جائے گی۔

کل کتنے ممبران ہیں

پارلیمنٹ کے مشترکا اجلاس میں بلز کی منظوری کے لیے ایوان میں موجود ارکان کی سادہ اکثریت درکار ہوگی۔ قومی اسمبلی اور سینیٹ کے دونوں ایوانوں میں ارکان کی کل تعداد 442 میں سے موجود ارکان کی تعداد 440 ہے۔

حکومتی ووٹ کتنے

حکومت اور اس کے اتحادی جماعتوں کی ارکان کی تعداد 221 اور اپوزیشن کے ارکان کی تعداد 213 ہے، جب کہ سینیٹر دلاور خان گروپ کے پاس بھی 6 نشستیں ہیں۔

قومی اسمبلی میں تحریک انصاف کے اراکین کی تعداد 156 جب کہ حکومتی اتحادی ایم کیو ایم کے پاس7 ،مسلم لیگ ق کے 5 اراکین ہیں۔ حکومتی اتحادی بلوچستان عوامی پارٹی کے پاس 5، جی ڈی اے 3 ، عوامی مسلم لیگ اور جمہوری وطن پارٹی کے پاس ایک ایک نشست ہے۔

حکومت کو قومی اسمبلی میں ایک آزاد رکن کی حمایت بھی حاصل ہے، اس طرح قومی اسمبلی میں تحریک انصاف اور اتحادیوں کے اراکین کی مجموعی تعداد 179 ہے۔

اپوزیشن کے ووٹ کتنے

دوسری طرف قومی اسمبلی میں اپوزیشن جماعتوں کے اراکین کی تعداد 162 ہے ، جس میں مسلم لیگ ن کے پاس 83 ، پیپلز پارٹی 56، ایم ایم اے 15 ،بی این پی مینگل 4،اے این پی اے کی ایک نشست ہے جبکہ قومی اسمبلی میں 3 آزاد اراکین کی اپوزیشن کو حمایت حاصل ہے۔

سینیٹ اراکین

اسی طرح ایوان بالا سینیٹ میں پی ٹی آئی کے پاس 27، ایم کیو ایم 3، ق لیگ کی 1 نشست ہے، جب کہ سینیٹ میں بلوچستان عوامی پارٹی کی 9 ، جی ڈی اے کی ایک اور ایک آزاد رکن کی حکومت کو حمایت حاصل ہے۔

سینیٹ میں حکومت اور اتحادیوں کی مجموعی تعداد 42 ہے جب کہ سینیٹ میں متحدہ اپوزیشن کے اراکین کی تعداد 51 ہے۔

Joint session

Tabool ads will show in this div