Technology

روس نے خلا بازوں کی جان خطرے میں ڈال دی

خلا بازوں کو ہر ممکن احتیاط کی ہدایت
بشکریہ دی ورج
بشکریہ دی ورج
[caption id="attachment_2436248" align="alignnone" width="900"] بشکریہ دی ورج[/caption]

روس کی جانب سے زمینی مدار پر سیٹلائیٹ مار گرانے کے بعد ملبہ جمع ہونے سے خلائی اسٹیشن میں موجود خلا بازوں کی جان خطرے میں پڑ گئی ہے۔

امریکی حکام کا کہنا ہے کہ روسی سیٹلائٹ کو مار گرانے والے میزائیل کے تجربے سے زمین کے نچلے مدار میں ملبہ جمع ہو گیا ہے، جو خلائی اسٹیشن میں موجود خلا بازوں کیلئے خطرہ بن سکتا ہے۔ امریکا کے مطابق اس ملبے سے بین الاقوامی خلائی اسٹیشن کو بھی خطرہ لاحق ہے۔

خبر رساں ادارے کی جانب سے ناسا کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ اس روسی تجربے کے بعد خلائی اسٹیشن میں موجود 4 امریکییوں، 2 روسیوں اور ایک جرمن خلا باز پر مشتمل ٹیم کو دو گھنٹے تک احتیاطاً اسپیس شپ کیپسول میں پناہ لینے کی ہدایت کی گئی تھی تاکہ ضرورت پڑنے پر تیزی سے باہر کی جانب نکالا جا سکے۔

واضح رہے کہ خلا میں موجود تحقیقی لیب زمین سے 250 میل کی بلند سطح پر مدار میں چکر لگا رہی ہے اور وہ اس ملبے کے قریب یا اس کے پاس سے ہر ڈیڑھ گھنٹے بعد گزرتی ہے، تاہم لیب کے تیسری بار اس ملبے کے پاس سے گزرنے کے بعد ناسا کے سائنسدانوں نے نیتجہ نکالا کہ خلا بازوں کا اسٹیشن کے اندرونی حصے میں واپس جانا محفوظ ہوگا۔

صورت حال کو دیکھتے ہوئے ناسا نے خلائی عملے کو بین الاقوامی خلائی اسٹیشن کے متعدد ماڈیولز کے داخلی راستوں کو سیل کرنے کا بھی حکم دیا تھا۔

Russian Military Publishes First Video From Successful Anti-Satellite  Missile Test - 16.11.2021, Sputnik International

دوسری جانب ناسا کے سربراہ بل نیلسن کا اپنے بیان میں کہنا ہے کہ خلائی ایجنسی مدار میں موجود عملے کی حفاظت کیلئے آنے والے دنوں میں اس تجربے سے پیدا صورت حال کو مانیٹر کرتی رہے گی۔

خلائی ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسے تجربات جو خلا میں سیاروں کو تباہ کرتے ہیں، ٹکڑوں کے بادل بنا دیتے ہیں جس سے خلا میں رکاوٹ پیدا ہوتی ہے، کیونکہ یہ ٹکڑے خلا میں دوسری اشیا سے ٹکرا سکتے ہیں اور اس طرح زمین کے مدار میں ردعمل کا ایک سلسلہ چل نکلنے کا اندیشہ ہو سکتا ہے۔

RUSSIA

EARTH

SATELLITE IN

Tabool ads will show in this div