پارلیمنٹ کا اہم مشترکہ اجلاس آج،کس کے پاس کتنے اراکین ہیں

اراکین کو حاضری یقینی بنانے کی ہدایت
فائل فوٹو
فائل فوٹو
فائل فوٹو

پارلیمنٹ کا مشترکا اجلاس آج ہو رہا ہے، جس کا ایجنڈا جاری کردیا گیا ہے۔ اجلاس دن 12 بجے شروع ہوگا۔

ایجنڈے کے مطابق اجلاس میں انتخابی اصلاحات سے متعلق 2 بل پیش کیے جائیں گے۔ انتخابی اصلاحات سے متعلق بل مشیر برائے پارلیمانی امور بابر اعوان پیش کریں گے۔

الیکشن ایکٹ ترمیمی بلز ای وی ایم اور سمندر پار پاکستانیوں کے انٹرنیٹ ووٹنگ سے متعلق ہیں۔ الیکشن ایکٹ ترمیمی بل میں ووٹرز فہرستوں کا اختیار نادرا کو دینے کی ترمیم شامل ہے۔

کلبھوشن کو اپیل کا حق دینے سے متعلق بین الاقوامی عدالت انصاف نظرثانی بل ایجنڈے کا حصہ ہے، جب کہ انسداد جنسی زیادتی تحقیقات اور ٹرائل کا بل بھی ایجنڈے میں شامل ہے جو خصوصی تحقیقاتی ٹیمز اور عدالتوں کی تشکیل سے متعلق ہے۔ بل وفاقی وزیر قانون فروغ نسیم پیش کریں گے۔

حیدرآباد انسٹیٹیوٹ فار ٹیکنیکل اینڈ مینجمنٹ سائنسز کے قیام، خواتین اور بچوں کے خلاف جنسی زیادتی کی روک تھام سے متعلق کریمنل لاء ترمیمی بل اور بچوں کی جسمانی سزا کے تدارک کا بل بھی اجلاس میں پیش کیا جائے گا۔ مردم شماری سے متعلق تحفظات پر مشترکا مفادات کونسل کے فیصلے کے خلاف سندھ حکومت کا ریفرنس بھی ایجنڈے کا حصہ ہے۔ اجلاس کے دوران مسلم فیملی لا کے دو بل مشترکہ اجلاس میں پیش کئے جائیں گے۔

صدر مملکت

واضح رہے کہ صدر مملکت عارف علوی نے پارلیمنٹ کا مشترکا اجلاس آج بروز بدھ دوپہر 12 بجے طلب کیا تھا، جب کہ اپوزیشن نے قانون سازی کو روکنے کی حکمت عملی طے کی ہے۔

کل کتنے ممبران ہیں

پارلیمنٹ کے مشترکا اجلاس میں بلز کی منظوری کے لیے ایوان میں موجود ارکان کی سادہ اکثریت درکار ہوگی۔ قومی اسمبلی اور سینیٹ کے دونوں ایوانوں میں ارکان کی کل تعداد 442 میں سے موجود ارکان کی تعداد 440 ہے۔

حکومتی ووٹ کتنے

حکومت اور اس کے اتحادی جماعتوں کی ارکان کی تعداد 221 اور اپوزیشن کے ارکان کی تعداد 213 ہے، جب کہ سینیٹر دلاور خان گروپ کے پاس بھی 6 نشستیں ہیں۔

قومی اسمبلی میں تحریک انصاف کے اراکین کی تعداد 156 جب کہ حکومتی اتحادی ایم کیو ایم کے پاس7 ،مسلم لیگ ق کے 5 اراکین ہیں۔ حکومتی اتحادی بلوچستان عوامی پارٹی کے پاس 5، جی ڈی اے 3 ، عوامی مسلم لیگ اور جمہوری وطن پارٹی کے پاس ایک ایک نشست ہے۔

حکومت کو قومی اسمبلی میں ایک آزاد رکن کی حمایت بھی حاصل ہے، اس طرح قومی اسمبلی میں تحریک انصاف اور اتحادیوں کے اراکین کی مجموعی تعداد 179 ہے۔

اپوزیشن کے ووٹ کتنے

دوسری طرف قومی اسمبلی میں اپوزیشن جماعتوں کے اراکین کی تعداد 162 ہے ، جس میں مسلم لیگ ن کے پاس 83 ، پیپلز پارٹی 56، ایم ایم اے 15 ،بی این پی مینگل 4،اے این پی اے کی ایک نشست ہے جبکہ قومی اسمبلی میں 3 آزاد اراکین کی اپوزیشن کو حمایت حاصل ہے۔

سینیٹ اراکین

اسی طرح ایوان بالا سینیٹ میں پی ٹی آئی کے پاس 27، ایم کیو ایم 3، ق لیگ کی 1 نشست ہے، جب کہ سینیٹ میں بلوچستان عوامی پارٹی کی 9 ، جی ڈی اے کی ایک اور ایک آزاد رکن کی حکومت کو حمایت حاصل ہے۔

سینیٹ کے حکومت

اور اتحادیوں کی مجموعی تعداد 42 ہے، جب کہ سینیٹ میں متحدہ اپوزیشن کے اراکین کی تعداد 51 ہے۔

ELECTION

Overseas Pakistani

Joint session

Tabool ads will show in this div