شام میں مفتی اعظم کا منصب ختم کردیا گیا

صدربشارالاسد نےفرمان جاری کیا،وجوہات نہیں بتائی گئیں

شام کے صدر بشار الاسد نے پیر کو واضح وجوہات اور پس منظر کے بغیر ایک فرمان کے ذریعے ملک میں مفتی اعظم کے عہدے کو ختم کر دیا۔

عرب میڈیا کے مطابق نئے حکم نامے نے وزارت اوقاف میں فقہ کونسل کے اختیارات کو بھی تقویت بخشی ہے جس کا سربراہ وزیر ہوگا جب کہ مفتی کو اس میں ایک رکن کا عہدہ ملے گا۔ صدارتی فرمان نے کونسل کو وہ کام تفویض کیے جو مفتی کو سونپے گئے تھے۔

نئی فرمان کے بعد کونسل کے اختیارات میں قمری مہینوں کے آغاز اور اختتام کی تاریخوں کا تعین کرنا، روئیت ہلال، اسلامی مذہبی عبادات اور رسومات کے نتیجے میں ہونے والے فقہی احکام کا اعلان کرنا، فتوے جاری کرنا اور فتووں کے لیے معیارات اور طریقہ کار وضع کرنا شامل ہے۔

خیال رہے کہ یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ الاسد نے اسلامی اوقاف کے کام کی تنظیم میں ترمیم کی ہو۔ سن 2018 میں انہوں نے ایک قانون جاری کیا جس میں وزیر اوقاف کو وسیع اختیارات دیے گئے اور جمہوریہ کے مفتی کی 3 سال مدت مقرر کی گئی تاہم اس میں توسیع کی گنجائش رکھی گئی تھی۔

واضح رہے کہ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ مفتی اعظم مصر مفتی حسون اور صدر اسد کےدرمیان بعض معاملات پر اختلافات کے باعث صدر نے مفتی اعظم کے عہدے کو ختم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

SYRIA CONFLICT

Grand mufti

Tabool ads will show in this div