فواد چوہدری نےاپنےبیان پرالیکشن کمیشن سےمعافی مانگ لی

الیکشن کمیشن نےتحریری معافی نامہ دینے کی ہدایت کردی

[video width="640" height="360" mp4="https://i.samaa.tv/wp-content/uploads/sites/11//usr/nfs/sestore3/samaa/vodstore/urdu-digital-library/2020/11/MA-FAWAD-ON-PMLN-MONTAGE-KAZIM-16-11.mp4"][/video]

وفاقی وزیراطلاعات فواد چوہدری نے الیکشن کمیشن سے متعلق اپنے بیان پرادارے سے معافی مانگ لی ہے۔ الیکشن کمیشن نے فواد چوہدری کو تحریری معافی نامہ دینے کی ہدایت کردی ہے۔

الیکشن کمیشن کی جانب سے 16 ستمبر کو جاری نوٹسز میں فواد چوہدری اور اعظم سواتی سے الیکشن کمیشن اور چیف الیکشن کمشنر کے خلاف لگائے گئےالزامات کی حمایت میں ثبوت فراہم کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔

منگل 16 نومبر کوالیکشن کمیشن میں پیش ہوکر فواد چوہدری نے اپنے بیان پر معافی مانگ لی۔ الیکشن کمیشن نے فواد چوہدری کو تحریری معافی نامہ دینے کی ہدایت کردی۔

الیکشن کمیشن کے باہر صحافیوں سے بات کرتے ہوئے فواد چوہدری نے کہا کہ ادارے کا بہت احترام ہے اور کسی شوکاز کےچکر میں نہیں پڑنا چاہتا،بطور وزیراطلاعات حکومت اور کابینہ کا ترجمان ہوں۔ انھوں نے مزید کہا کہ چیف الیکشن کمشنرکا بہت احترام کرتا ہوں، وکیل ہوں اورکبھی عدالتوں سےجھگڑا نہیں ہوا جب کہ بہت سے بیان میرے نہیں ہوتے۔انھوں نے واضح کیا کہ الیکشن کمیشن میں تحریری معافی نامہ نہیں دوں گا کیوں کہ ذاتی حیثیت میں معذرت کرچکا ہوں۔ اگر الیکشن کمیشن کوتحریری معافی نامہ چاہیے تو وفاقی کابینہ سے لے لے۔

نون لیگ سے متعلق فواد چوہدری نے کہا کہ نوازشریف کی ہر پیشی سے پہلے ایسی سازش گھڑی جاتی ہے اور مکمل منصوبے کے تحت ہمیشہ معاملہ آگے بڑھایا جاتا ہے۔اس وقت نون لیگ نے فوج کے بعد عدالتوں کےخلاف مہم شروع کر رکھی ہے۔ ن لیگ کی روایت ہے کہ عدالتوں پر حملہ کرتی ہے اور ملک کے اداروں کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی جارہی ہے۔

انھوں نے کہا کہ سابق وزیراعظم نوازشریف کے خرچے پر گلگت بلتستان کےسابق چیف جج رانا شمیم لندن میں رہ رہے ہیں اور ان کے بیان حلفی کی فیس بھی نوازشریف نے ادا کی ہے۔

الیکشن اصلاحات سے متعلق ان کا کہنا تھا کہ تحریک انصاف الیکشن کمیشن کا احترام کرتی ہے، جب بھی الیکشن ہوتے ہیں توالیکشن اصلاحات کا مطالبہ کیاجاتا ہے، امید ہے کہ الیکشن کمیشن میرے جواب کو مثبت لے گا۔ وزیراطلاعات نے پیشکش کی کہ اپوزیشن الیکشن اصلاحات پرکھلے دل سے غور کرے ۔فواد چوہدری نے واضح کردیا کہ الیکٹرانک ووٹنگ مشین اور انتخابی اصلاحات کا بل بدھ 17 نومبر کو پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے منظور کرائیں گے۔

الیکشن کمیشن پر الزامات، فواد چوہدری کی طلبی کا نوٹس جاری

واضح رہے کہ 2 ماہ قبل حکومت کی جانب سےالیکٹرانک ووٹنگ مشین متعارف کرانے کے فیصلے اوراس پر اپوزیشن کے ساتھ الیکشن کمیشن کےاعتراضات کے بعد سامنے آنے والا تنازع اس وقت طول پکڑ گیا تھا جب 10 ستمبر کوسینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے پارلیمانی امور کے اجلاس میں الیکشن (ترمیمی) ایکٹ 2021 میں مجوزہ ترامیم پر تبادلہ خیال کے دوران اعظم سواتی نے کہا تھا کہ الیکشن کمیشن ہمیشہ دھاندلی میں ملوث رہا ہے اور ایسے اداروں کو آگ لگا دینی چاہیے۔

اس ہی دن شام میں وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات فواد چوہدری نے پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ چیف الیکشن کمشنر ’اپوزیشن کے آلہ کار‘ کے طور پر کام کرنا چاہتے ہیں لیکن اگر انہیں سیاست کرنی ہے تو الیکشن کمیشن چھوڑ کر الیکشن لڑیں۔ انہوں نے الزام لگایا تھا کہ الیکشن کمیشن،اپوزیشن کے ہیڈکوارٹرز میں تبدیل ہوگیا ہے۔

بعد ازاں الیکشن کمیشن نے چیف الیکشن کمشنر اور کمیشن پر عائد کیے گئے الزامات کا نوٹس لیتے ہوئے وفاقی وزرا فواد چوہدری اور اعظم سواتی کو نوٹسز جاری کر دیئے تھے۔

وزیر اعظم کے مشیر برائے پارلیمانی امور بابر اعوان کے ہمراہ پریس کانفرنس میں اعظم سواتی نے کہا کہ چیف الیکشن کمشنر کی تعیناتی سے متعلق بہت سی باتیں صیغہ راز میں ہیں لیکن انہوں نے اس بارے میں مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں۔

ان کا کہنا تھا کہ چیف الیکشن کمشنر کے تقرر پر حکومت کو ’کڑوی گولی‘ کھانی پڑی تاکہ آئینی ادارے کی ساکھ کو بحال رکھا جاسکے۔انہوں نے کہا کہ اس ادارے کو تباہی سے بچانا ہوگا، کیا الیکشن کمیشن بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو ان کے ووٹ کے حق سے محروم رکھنا چاہتا ہے؟۔

ECP

PML N

FAWAD CHAUDARY

Tabool ads will show in this div