کیاسابق جج کابیان توہین عدالت ہے؟، ماہرقانون کی رائے

سابق چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ شائق عثمانی کیا کہتے ہیں
Nov 15, 2021

[video width="640" height="360" mp4="https://i.samaa.tv/wp-content/uploads/sites/11//usr/nfs/sestore3/samaa/vodstore/urdu-digital-library/2020/11/Usmani-Awaz.mp4"][/video]

سابق چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ اور ماہر قانون شائق عثمانی کہتے ہیں کہ کسی بھی شخص کا ایسا بیان جس سے عدالت کے وقار کو نقصان پہنچے توہین عدالت کے زمرے میں آتا ہے۔

سابق چیف جسٹس گلگت بلتستان رانا شمیم نے اپنے مصدقہ حلف نامے میں کہا ہے کہ سابق چیف جسٹس پاکستان ثاقب نثار نے ہائیکورٹ کے ایک جج کو حکم دیا تھا کہ 2018ء کے عام انتخابات سے قبل نواز شریف اور مریم نواز کو ضمانت پر رہا نہ کیا جائے۔

سماء کے پروگرام آواز میں سابق چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ اور ماہر قانون شائق عثمانی سے جب اس حلف نامے سے متعلق سوال کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ سابق چیف جسٹس گلگت بلتستان اب ایک عام آدمی ہیں، جب تک حلف نامے میں کی گئی باتیں ثابت نہ ہوجائیں ان کی کوئی اہمیت نہیں۔

علی حیدر کے سوال کہ کیا کوئی سابق جج یا عام آدمی ایسا کوئی بیان دے تو وہ توہین عدالت کے زمرے میں آتا ہے؟، پر جواب دیتے ہوئے شائق عثمانی کا کہنا تھا کہ کوئی بھی شخص عدالت کے خلاف بات کرتا ہے یا ایسا بیان دیتا ہے جو عدالت کو دوسروں کی نظر میں گرانے کے مترادف ہو تو وہ یقیناً توہین عدالت ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہی وجہ ہے کہ اسلام آباد ہائیکورٹ نے اس پر توہین عدالت کے نوٹس جاری کئے ہیں، اب وہ (رانا شمیم) عدالت میں پیش ہوکر اپنا حلف نامہ پیش کریں گے اور اپنا مؤقف رکھیں گے، توہین عدالت کی کارروائی میں تمام چیزیں سامنے آجائیں گی۔

Shaiq Usmani

Tabool ads will show in this div