کیاقوم کوزہرپلانے والے ڈیری فارمرزحکومت وعدلیہ سے بھی طاقتور ہیں؟

دودھ والوں کے آگے انسان و جانور دونوں مجبور

ڈیری فارمرز کی زیادہ پیسہ کمانے کی دھن اور حکومت کی بے توجہی کے باعث کراچی کے عوام نا صرف دودھ مہنگا خریدنے پر مجبور ہیں بلکہ وہ غذائیت کے نام پر خود کو اور اپنے بچوں کو زہر بھی پلا رہے ہیں۔

شہر کے تقریباً تمام ہی ڈیری فارمرز کی جانب سے دودھ زیادہ سے زیادہ حاصل کرنے کیلئے بھینسوں کو ہارمون بڑھانے والے انجیکشن لگائے جاتے ہیں جو ممنوع ہونے کے باوجود انہیں بڑی آسانی سے دستیاب ہوجاتے ہیں۔

بھینسوں کو لگائے جانے والے اس بوسٹن انجیکشن کے نتیجے میں حاصل کردہ دودھ خواتين ميں بانجھ پن کے ساتھ بچوں میں قبل از وقت بلوغت اور کينسر جيسے مہلک مرض کا سبب بنتا ہے۔

دودھ بڑھانے والا یہ ممنوعہ ٹیکہ روزانہ لاکھوں جانوروں کو لگایا جاتا ہے اور اتنی بڑی تعداد میں یہ انجیکشن جنوبی افریقا اور آسٹریلیا سے پہلے دبئی اور پھر وہاں سے پاکستان اسمگل ہوتا ہے۔ پاکستان میں یہ جس آسانی سے داخل ہوجاتا ہے اسی آسانی سے ڈیری فارمرز کو بھی مل جاتا ہے، جسے روکنے پر حکومت کی کوئی توجہ نہیں ہے۔

پیدائش سے لڑکپن تک بہتر نشو و نما اور تندرستی کیلئے دودھ بچوں بڑوں سب کی اولین ضرورت ہے، اس لئے دودھ خریدنا عوام کی مجبوری ہے لیکن اس بوسٹن انجيکشن کا يہ مکروہ دھندا روکنے والا اور شہر کے ایسے خود غرض ڈیری فارمرز کو نکیل ڈالنے والا کوئی نہيں۔

ڈیری فارمرز کا کہنا ہے کہ ایک بوسٹن 20 بھینسوں کو لگایا جاتا ہے جس سے انہیں کئی گنا فائدہ ہوتا ہے، کیونکہ اگر ایک بھینس 2 کلو دودھ دیتی ہے تو انجیکشن لگنے کے بعد اس سے ایک من تک دودھ حاصل ہوجاتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ 99 فیصد ڈیری فارمرز اپنی بھینسوں کو یہ انجیکشن لگاتے ہیں جو ان کے کاروبار کیلئے ضروری ہے۔

انسانوں کے علاوہ بوسٹن بھیسنوں کیلئے بھی نقصاندہ ہے اور عدالت نے دودھ بڑھانے والے اس انجیکشن کے نقصانات کو دیکھتے ہوئے اس کی خرید و فرخت پر پابندی لگائی ہوئی ہے لیکن اس انجیکشن کا کاروبار کرنے والا مافیا اتنا طاقتور ہے کہ اب یہ انجیکشن ڈیری فارمرز کو ان کی دہلیز پر پہنچادیا جاتا ہے، بس فرق صرف اتنا ہے کہ اب اس کی قیمت 3 گنا زیادہ وصول کی جاتی ہے لیکن اس کے باوجود ڈیری فارمرز کو حاصل ہونے والا منافع اتنا زیادہ ہے کہ وہ اسے بخوشی خرید لیتے ہیں۔

ڈیری فارمرز کو ہونیوالی اس نقصاندہ انجیکشن کی ہوم ڈیلیوری کے علاوہ یہ اسمگل شدہ زہر چوری چھپے میڈیکل اسٹورز پر بھی فروخت کیلئے دستیاب ہوتا ہے، تاہم اسے خریدنے کیلئے ضرورت جان پہچان کی ہوتی ہے۔

بوسٹن انجيکشن کا يہ مکروہ دھندا انتہائی منظم طريقے سے چل رہا ہے ليکن اس کی فروخت اور استعمال روکنے کے ذمہ دار محکمہ لائيو اسٹاک کے ڈپٹی ڈائريکٹر ڈاکٹر حبيب اللہ جمالی اس معاملے سے لاعلم دکھائی دیے۔ ان کا کہنا تھا کہ عدالتی حکم پر چھاپے مارے گئے تھے تاہم یہ کام اب بھی ہورہا ہے اس کا انہیں علم نہیں۔

محکمہ لائیو اسٹاک کے ڈاکٹر آغا اسد اللہ نے اس حوالے سے بتایا کہ ہارمونز کے انجیکشن لگا کر حاصل کيا گيا دودھ خواتين میں بانجھ پن کے ساتھ قبل از وقت بلوغت اور کينسر جيسے مہلک مرض کا سبب بھی بنتا ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ اس انجیکشن سے حاصل کردہ دودھ کا پینا بچوں ميں کولون کينسر، خواتين ميں بريسٹ کينسر، مردوں ميں پروسٹيٹ کينسر کا باعث بن سکتا ہے۔

Dairy Farmers

BUFFALO HARMONES INJECTION

Tabool ads will show in this div