کالمز / بلاگ

یہ ٹی 20 کرکٹ ہے

پاکستان کی شاندار فتوحات نے سب کو حيران کرديا۔کپتان بابر اعظم اور محمد رضوان کے کھيل کی جتنی تعريف کی جائے اتنی کم ہے
Australian's cricketers celebrate with their winning trophy at the end of the ICC men’s Twenty20 World Cup final match between Australia and New Zealand at the Dubai International Cricket Stadium in Dubai on November 14, 2021. (Photo by INDRANIL MUKHERJEE / AFP)
Australian's cricketers celebrate with their winning trophy at the end of the ICC men’s Twenty20 World Cup final match between Australia and New Zealand at the Dubai International Cricket Stadium in Dubai on November 14, 2021. (Photo by INDRANIL MUKHERJEE / AFP)

تحریر: اویس احمد

بھارت کی ٹيم ورلڈکپ جيتےگی،پاکستان فيورٹ ہے،اسپن وکٹوں پر ميچ ہیں فائنل ايشيائی ٹيميں ہی کھيليں گی،ٹی 20 ورلڈ کپ کا ميلہ سجا تو ہر طرف يہی تبصرے ہورہے تھے اورکرکٹ پنڈتوں نے پيشگوئياں کرنا شروع کردیں کہ پاکستان،بھارت،انگلينڈ اور ويسٹ انڈيز کی ٹيميں سيمی فائنل ميں جائيں گی۔جوں جوں ٹورنامنٹ آگےبڑھا ٹی 20 کا اصل رنگ ديکھنے کو ملا اور فائنل ان دو ٹیموں نے کھیلا جن کا ذکر کوئی بھی نہیں کررہا تھا۔

يہ چھوٹی کرکٹ ہے ليکن يہاں بڑی چاليں چلنی پڑتی ہيں۔20 اوورز کے کھيل ميں صرف بڑے نام ہی فتح کی ضمانت نہيں۔ايک اچھا کيچ يا اچھی تھرو آپ کو ميچ ميں ہيرو بنا سکتی ہے۔کرکٹ کے اس فارميٹ ميں 40 گيندوں پر بنائی جانے والی ففٹی شائد اتنی کارآمد نہ ہو جتنی 7 گيندوں پر20 رنز کی اننگز، صرف ايک اچھا اوور ہاری ہوئی ٹيم کو فاتح اور برا اوور جيت کے قريب پہنچنے والی ٹيم کو ميچ سے باہر کرديتا ہے۔ سيمی فائنل ميں بھی پاکستان کےساتھ کچھ ايسی ہی صورتحال پيش آئی،اس ميچ ميں بابراعظم سےکپتانی اور فيلڈرز سے فيلڈنگ ميں بھی کچھ چوک ہوئی،پريشرميچ ميں ہم دباؤ ميں آگئے۔ دوسری جانب ورلڈ چيمپئن بننے والی آسٹريلوی ٹيم کے ہر کھلاڑی نے ہر مقابلے میں ميچ کی صورتحال کے مطابق کردار نبھايا،ميگا ايونٹ شروع ہونےسے پہلے وارنر بری طرح آف کلر تھے ليکن ايک اچھي اننگز نے انہيں اعتماد ديا اور وہ ٹورنامنٹ کے بہترين کھلاڑی قرار پائے،مچل مارش،میتھیو ویڈ،ایڈم زمپا سب کا کھیل قابل دید رہا۔کیویز کی مستقل مزاجی انہیں فائنل تک تو لے گئی لیکن ایک بار پھر قسمت نے ان کےساتھ یاوری نہ کی اورانہیں خالی ہاتھ لوٹنا پڑا۔

ايونٹ کا مختصراحوال بيان کريں تو ون ڈے کی ورلڈ چيمپئن انگلينڈ نے پہلے ميچ ميں ہی دفاعی چيمپئن ويسٹ انڈيز کو چھٹی کا دودھ ياد دلا دياليکن سب سے بڑا ميچ تو پاک بھارت ٹاکرا ہونے جارہاتھا جس ميں شاہينوں نے بھارتی سورماوں کو ايسا پٹخا کہ ريکارڈ بکس کے اوراق پلٹا کر کے رکھ ديےپاکستان نے پہلی بار ورلڈ کپ ميں بھارت کو شکست دی۔ٹی 20 ميں گرين شرٹس کی 10 وکٹ کے مارجن سے يہ پہلي جيت تھی تو دوسری طرف بھارت بھی پہلی بار کسی ٹيم سے 10وکٹ سے ہارا تھاپاکستان اور انگلينڈ کی شاندار فتوحات کے بعد دونوں ٹيميں ٹورنامنٹ کيلئے ہاٹ فيورٹ ہوگئيں لیکن ستم ظریفی یہ کہ کوئی ٹیم بھی فائنل میں نہ پہنچ سکی۔

گروپ ميچ جيسے جيسے آگے بڑھتے گئے اگر مگر کا چکر بھی گہرا ہوتا گيا ،دونوں گروپوں کی صورتحال يکسر مختلف ليکن انتہائی دلچسپ تھی،ايک لمحہ تو ايسا آيا کہ انگلينڈ چار ميچ جيت کر بھي سيمی فائنل کيلئے کواليفائی نہيں کر سکا تھا تو دوسري جانب مسلسل تين ميچ ہارنےوالے بنگلا ديش کے پاس بھی فائنل فور ميں پہنچنے کی اميد تھی ،گروپ ٹو ميں بھارت کو پہلے2 ميچوں ميں بری طرح شکست ہوئی۔کوہلی اليون نے اگلے دونوں ميچ بڑے مارجن سے جيتے اور پھر وہ لمحہ بھی آيا جب پورے بھارت ميں افغانستان کی نيوزی لينڈ کےخلاف فتح کی دعائيں مانگی گئيں۔

پاکستان کی شاندار فتوحات نے سب کو حيران کرديا۔کپتان بابر اعظم اور محمد رضوان کے کھيل کی جتنی تعريف کی جائے اتنی کم ہےليکن ہر بار مين آف دی ميچ مختلف تھا يعنی ٹيم نے کسی ايک پر انحصار نہيں کيا ٹيم ايک يونٹ کي طرح لڑتی نظر آئی۔

جنوبی افریقن ٹیم ماضی کی طرح اس بار بھی ورلڈ کپ کی سب سے بدقسمت ٹیم ٹھہری،پروٹیز پانچ میں سے چار میچ جیت کر بھی فائنل فور میں نہ پہنچ سکے۔۔بنگلا دیش نے میگا ایونٹ سے پہلے اپنی مرضی کی وکٹیں بنا کر آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کیخلاف سیریز تو اپنے نام کی لیکن شو پیس ایونٹ میں بنگال ٹائیگرز بھیگی بلی بنے رہے۔ ویسٹ انڈیز اونچی دکان پھیکا پکوان کی عملی تصویر نظر آئی۔ گیل، براوو، پولارڈ، رسل اور سمنز جیسے بڑے نام بری طرح ناکام رہے۔

ورلڈکپ کے دوران ايک اور چيز جو سب سے زيادہ توجہ کا مرکز رہی وہ ٹاس تھی، ٹاس جيتنے والی ٹيموں نے پہلے فيلڈنگ کو ترجيح دی اور بيشتر ميچوں ميں فتح بھی انہی کا مقدر بنی۔ میچز کےاوقات طے کرتے وقت ٹاس فیکٹر کو بھی مدنظر رکھنے کی ضرورت ہے تاکہ مسابقتی مقابلے دیکھنے کو ملیں۔

کینگروز نے عرب کے صحرا میں بھی اپنا سکہ جما دیا ہے۔آسٹریلیاکو پہلی بار ٹی 20 چیمپین بننے اور آئی سی سی کو ایونٹ کے کامیاب انعقاد پر مبارکبادیں دی جارہی ہیں۔ اگلا ورلڈ کپ آسٹریلوی سرزمین پر کھیلا جائےگا جہاں کسی بھی ٹیم کیلئے ان سے چیمپئن کا اعزاز چھیننا کسی صورت بھی آسان نہیں ہوگا۔

T 20 WORLD CUP

Tabool ads will show in this div