نورمقدم کیس:ظاہرکےملازمين بھی جُرم ميں برابرکے شريک ہيں،وکیل

پولیس کے پاس ٹھوس شہادتيں ہيں
Nov 15, 2021

نور مقدم کے والد کے وکیل کا کہنا ہے کہ کيس بہت مضبوط ہے۔ ٹھوس شہادتيں ہيں۔ ملزم سخت سے سخت سزا سے بچ نہيں پائے گا۔

سماء سے گفتگو کرتے ہوئے وکيل شاہ خاورنے کہا کہ سی سی ٹی وی فوٹیج نہ صرف مرکزی ملزم ظاہر جعفر بلکہ اُس کے ملازمين کيخلاف بھی اہم ثبوت ہے۔ يقين ہے تمام ضابطے مکمل ہونے کے بعد عدالت سزا سُنائے گی۔

انہوں نے کہا کہ کيس درست سمت ميں ہے، کوئی تاخير نہيں ہو رہی۔ ضابطے کی تمام کارروائی مکمل ہونا ضروری ہے۔ ظاہر جعفر کے ملازمين بھی جُرم ميں برابر کے شريک ہيں۔

پس منظر

واضح رہے کہ اسلام آباد کے پوش علاقے میں رواں سال 20 جولائی کو نور مقدم کا قتل ہوا تھا۔ جب کہ 21 جولائی کو پولیس نے ملزم ظاہر جعفر کو گرفتار کر کے اس کا 3 روزہ جسمانی ریمانڈ لیا تھا۔

کب کیا ہوا

بعد ازاں 24 جولائی پولیس نے عدالت کو بتایا کہ ظاہر جعفر سے پستول، چاقو، چھری اور ایک آہنی ہتھیار برآمد کیا گیا ہے۔ 25 جولائی کو پولیس نے ظاہر جعفر کے والدین اور گھریلو ملازمین کو گرفتار کیا۔ جس کے بعد 26 جولائی کو پولیس نے دعویٰ کیا کہ ظاہر جعفر نے اعتراف جرم کرلیا ہے۔

اسی ماہ 27 جولائی کو تفتیشی افسر نے ظاہر جعفر اور نور مقدم کے موبائل فونز ظاہر جعفر کی رہائش گاہ سے برآمد کیے۔

مقدمے کی کارروائی کے دوران 2 اگست کو عدالت نے ملزم ظاہر جعفر کا 14 روزہ جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا۔ جس کے بعد 5 اگست کو ملزم ظاہر جعفر کے والدین کی درخواست ضمانت مسترد ہوئی۔ 15 اگست کو تھراپی ورکس کے مالک اور 5 ملازم کو گرفتار کیا گیا۔ تاہم گرفتاریوں کے ایک ہفتے بعد 23 اگست کو تمام 6 افراد کو ضمانت مل گئی۔

اگست 25 کو نور مقدم کے والد نے نے تھراپی ورکس کے 6 ملازمین کی ضمانت کو چیلنج کر دیا۔ اور 4 ستمبر کو تھراپی ورکس کے سی ای او طاہر ظہور احمد یہ بیان دیا کہ ظاہر شرابی تھا مگر پاگل نہیں۔

کیس کی کارروائی آگے بڑھتی رہی اور 14 اکتوبر کو مرکزی ملزم ظاہر جعفر سمیت تمام 12 ملزمان پر فرد جرم عائد کر دی گئی۔ 10 نومبر کو استغاثہ کے 18 میں سے9 گواہان کے بیانات قلمبند اور جرح بھی مکمل ہوگئی تاہم پسٹل، مکا، چاقو برآمدگی کے حوالے سے 2 گواہان کے قدرے متضاد بیانات سامنے آئے۔

ZAHIR JAFFAR

NOOR MUQADAM

Tabool ads will show in this div