بیٹے کی تلاش میں6ماہ سے دریائے جہلم کے چکرلگانے والاباپ

توقیر 17مئی کو دریا پر نہاتے ہوئے ڈوب گیا تھا
Nov 14, 2021
[video width="640" height="360" mp4="https://i.samaa.tv/wp-content/uploads/sites/11//usr/nfs/sestore3/samaa/vodstore/urdu-digital-library/2020/11/JHANG-MISSING-SAMAA-POST-MARTUM-PKG-KAZIM-13-11.mp4"][/video]

دريائے جہلم کے کنارے گورنمنٹ کالج کے ايک پروفيسر 6 ماہ سے روزانہ پابندی سے آ رہے ہیں اور انہیں دیکھ کر احساس ہوتا ہے کہ ان کی زندگی ایک ہی جگہ پر ٹھہر سی گئی ہے۔

وہ کنارے آکر کسی کو آوازیں دیتے ہیں یوں لگتا ہے جیسے وہ دریا سے کسی کو بلانا چاہتے ہیں لیکن جب کوئی بھی نہیں آتا تو پھر وہ تھک ہار کر وہاں سے چلے جاتے ہیں، اگلے دن پھر آنے کے لیے۔

جھنگ کے پروفيسرمحمد بشارت کا 17 مئی کے بعد سے اب یہی معمول ہے وہ دریا پر آتے ہیں ان کی نگاہیں ادھر ادھر کسی کو تلاش کرتی ہیں اور وہ خود توقیر توقیر کی صدا لگا رہے ہوتے ہیں۔ اس تمام کوشش کا بظاہر کوئی نتیجہ نہیں نکل پاتا تو وہ اگلے دن دوبارہ آنے کے لیے اپنے گھر لوٹ جاتے ہیں۔

در اصل 17 مئی کو اسی جگہ پر 4 نوجوان پانی میں ڈوب گئے تھے جن میں سے 3 تو بچ گئے تھے لیکن چوتھے کا کوئی سراغ نہیں ملا۔ وہ چوتھا توقیر ہی تھا پروفیسر محمد بشارت کا جواں سال بیٹا۔

اس وقوعے کے بعد پروفیسر اپنے اہل خانہ کے ساتھ وہیں دریا کنارے خیمہ لگا کر کئی مہینوں تک بیٹھ گئے تھے۔ سارے ہی پل پل بچے کے لیے دعا کرتے رہے لیکن نہ تو توقير کی لاش ملی اور نہ ہی اس کے زندہ ہونے کی کوئی خبر آئی۔

جب ایک طویل عرصے تک وہاں ان کے بیٹے کا کچھ پتہ نہ چلا تو پروفیسر اور ان کے اہل خانہ مغموم اپنے گھر تو چلے گئے لیکن اب پرفیسر روز آکر اپنے بیٹے کو تلاش کرتے ہیں شاید اس امید پر کہ وہ زندہ یا مردہ انہیں کسی طرح مل ہی جائے۔

ريسکيو والوں نے 30 دن بعد توقير کہ تلاش يہ کہہ کر بند کردی تھی کہ اب مزيد ڈھونڈنا ممکن نہيں۔ ریسکیو اہلکاروں نے اسے جھنگ کی تاریخ کا عجیب واقعہ قرار دیتے ہوئے بتایا کہ وہ توقیر کو مسلسل 30 دنوں تک پانی میں تلاش کرتے رہے لیکن کوئی سراغ ہاتھ نہ آیا۔

پولیس نے امکان ظاہر کیا ہے کہ شاید نوجوان کو قتل کردیا گیا ہو اور اس پہلو سے تفتیش بھی جاری ہے لیکن فی الحال کوئی نتیجہ برآمد نہیں ہوسکا ہے۔

پروفيسر کے شک پر پوليس نے توقير کے 3 کزن کے خلاف قتل کا مقدمہ درج کيا۔ یہ تینوں وہی تھے جو صحيح سلامت بظاہر دريا سے نکل کر کنارے تک آگئے تھے بس ان کے ساتھ توقیر نہیں تھا۔

اس سے قبل پروفیسر بشارت کا چھوٹا بیٹا نامعلوم وجوہات پر انتقال کرگیا تھا۔ جس کی موت کا دکھ کيا کم تھا کہ اب دوسرا بيٹا بھی ان لہروں ميں لاپتہ ہوگیا۔

توقير قتل ہوا، واقعی کسی حادثے کا شکار ہوا يا پھر کسی سازش کی بھينٹ چڑھ گیا یہ فی الحال ایک معمہ ہی ہے لیکن جو بات سب پر عیاں ہے وہ یہ کہ بیٹے کی گمشدگی پر باپ زندہ درگور ہوگیا ہے۔ پروفیسر بشارت کی زندگی ميں غم نے اب تک گھر کيا ہوا ہے جس کا اندازہ دیکھنے والوں کو روزانہ دریا کنارے ان کی چیخوں اور چہرے کی بے بسی سے بخوبی ہوتا ہے۔

JHANG

Tabool ads will show in this div