ملزمہ سے غیرانسانی سلوک، لیڈی پولیس انسپکٹرکو’’جبری ریٹائرمنٹ‘‘ کی سزا

شبانہ ارشاد کو جبری طورپر ریٹائر کردیاگیا، نوٹیفکیشن جاری
[caption id="attachment_2303649" align="alignnone" width="800"]Quetta police station فائل فوٹو[/caption]

کوئٹہ میں خاتون ملزمہ کے ساتھ غیرانسانی سلوک پر لیڈی پولیس انسپکٹر کو جبری ریٹائرڈ کردیا گیا۔ نوٹیفکیشن کے مطابق پولیس اسٹاف کی جانب سے ملزمہ کو ریمانڈ کے دوران برہنہ کرنے اور سندھی گانے پر رقص کرنے پر مجبور کیا گیا تھا۔

ڈپٹی انسپکٹر جنرل پولیس کوئٹہ محمد اظہر اکرم کے دستخط سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق کوئٹہ پولیس کی لیڈی انسپکٹر شبانہ ارشاد کو ملازمت سے جبری ریٹائرڈ کردیا گیا ہے، پولیس انسپکٹر پر خاتون ملزمہ کے ساتھ غیرانسانی سلوک کا الزام تھا، تحقیقات کے دوران جرم ثابت ہونے پر انضباطی کارروائی کی گئی۔

نوٹیفکیشن میں مزید کہا گیا ہے کہ خاتون پولیس انسپکٹر شبانہ ارشاد نے اختیارات کا غلط استعمال کیا، لاپرواہی، بدانتظامی اور غیر پیشہ وارانہ طرز عمل کا مظاہرہ کیا۔

تھانہ جناح ٹاؤن کوئٹہ کو قتل کے کیس کی تفتیش مکمل کرنے کیلئے آئی پی شبانہ ارشاد کے حوالے کیا گیا تھا، مذکورہ کیس کی تفتیش کے دوران لیڈی پولیس اسٹاف کی جانب سے ایک ویڈیو بنائی گئی، جس میں ملزمہ کو ریمانڈ  کے دوران لباس اتارنے اور سندھی گانے پر رقص کرنے پر مجبور کیا گیا۔

لیڈی انسپکٹر شبانہ ارشاد کو دفاع کا بھرپور موقع دیا گیا، مگر وہ وضاحت دینے میں ناکام رہیں، لہٰذا انکوائری آفیسر کی سفارشات سے اتفاق کرتے ہوئے انہیں ’’سرکاری سروس سے لازمی ریٹائرمنٹ‘‘ کی سزا دی گئی ہے۔

واضح رہے اس سے قبل رواں سال 24 ستمبر کو اس ہی کیس میں خاتون ملزمہ کے ساتھ غیرانسانی سلوک پر پولیس کی 5 خواتین اہلکاروں کو بھی ملازمتوں سے برطرف کیا گیا تھا، برطرف اہلکاروں میں بشریٰ افضل، ہما فیصل، عظمیٰ نسرین، فرح خلیل اور ثمینہ منظور شامل ہیں۔

LADY POLICE INSPECTOR

FORCE RETEIRED

Tabool ads will show in this div