اسٹاک مارکیٹ میں مندی، ڈالر تاریخ کی بلندترین سطح پر

آئی ایم ایف مذاکرات میں تاخیرسے سرمایہ کاروں میں تشویش
[caption id="attachment_2421913" align="alignnone" width="800"]PSX-Pakistan-Stock-Exchange-KSE-Online فوٹو: آن لائن[/caption]

آئی ایم ایف سے قرض پروگرام کی منظوری میں تاخیر کے باعث امریکی ڈالر کا پاکستانی روپے پر دباؤ بڑھ گیا ہے اور 12 نومبر کو انٹر بینک میں امریکی ڈالر مزید 1 روپے 80 پیسے بڑھ گیا جبکہ اوپن مارکیٹ میں بھی ڈالر 1 روپے کے اضافے سے 177.30روپے کی تاریخی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا۔

اسٹاک مارکیٹ میں بھی صبح سے مندی کا رجحان رہا ہے اور پی ایس ایکس 100 انڈیکس میں کاروبار کے اختتام پر 599 پوائنٹس کی کمی سے 45 ہزار 749 پوائنٹس کی سطح پر بند ہوا۔

فاریکس ایسوسی ایشن پاکستان کے مطابق انٹربینک مارکیٹ میں دن کے اختتام پر امریکی ڈالر 175.80 روپے جبکہ اوپن مارکیٹ میں 177.80 روپے میں فروخت ہورہا تھا۔

معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف مذاکرات کی تاحال بحالی نہ ہونے سے ڈالر کی قدر میں پھر سے اضافہ ہو رہا ہے اور جب تک آئی ایم ایف مذاکرات کے حوالے سے کوئی مثبت نتیجہ سامنے نہیں آتا تب تک روپے پر دباو برقرار رہے گا جب کے سرمایہ کار بھی حصص کی خریدوفروخت میں محتاط رہیں گے جس کے زیر اثر اسٹاک مارکیٹ پر دباو برقرار رہے گا۔

ظفر پراچہ کا کہنا تھا کہ سعودی امداد کے اعلان کے  بعد روپے کی قدر میں کچھ اضافہ ہوا تاہم سعودی امداد تاحال نہیں مل سکی جس سے روپے پر دباو بڑھتا جارہا ہے اور ڈالر کی قیمت دن بدن بڑھ رہی ہے۔

ظفر پراچہ کے مطابق آئی ایم ایف پروگرام کے علاوہ کوئی ایسی وجہ نظر نہ آتی جس سے ڈالر کی قدر میں اضافہ ہو اور اس وقت ڈالر کو 155 روپے کی سطح پر آجانا چاہیے تھا۔

اُن کا کہنا تھا کہ مشینری کی درآمدات میں اضافہ ہوا ہے جو ایک مثبت چیز ہے کیونکہ جتنا زیادہ مشینری درآمد ہوگی اسی لحاظ سے پیداوار میں بھی اضافہ ہوگا جو کہ برآمدات کو بڑھانے میں مددگار ثابت ہوگا تاہم پاکستان کو جون 2022 تک 12 ارب روپے سے 14 ارب روپے تک کی  بیرونی قرضوں کی ادائیگی  کرنی ہے جس سے روپے پر مزیڈ دباو آئے گا۔

Tabool ads will show in this div