سعد رضوی کا نام فورتھ شیڈول سے نکال دیا گیا

مزید 487 افراد کے نام نکال دیئے گئے

تحریک لبیک پاکستان کے سربراہ علامہ سعد حسین رضوی کا نام فورتھ شیڈول کی فہرست سے نکال دیا گیا ہے۔

محکمہ داخلہ پنجاب کی جانب سے جاری نوٹی فیکیشن کے مطابق 487 افراد کے ناموں کو فورتھ شیڈول کی فہرست سے نکال دیا گیا ہے، جس میں ٹی ایل پی کے سربراہ سعد رضوی کا نام بھی شامل ہے۔

ایڈیشنل چیف سیکریٹری داخلہ کی جانب سے جاری اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ فورتھ شیڈول سے نام نکالنے کے لیے متعلقہ اضلاع کی پولیس رپورٹ پر کارروائی کی گئی اور اب تک تحریک لبیک پاکستان کے 577 افراد کے نام فورتھ شیڈول کی فہرست سے نکالے جا چکے ہیں۔

واضح رہے کہ 16 اپریل 2021 کو علامہ سعد رضوی کا نام فورتھ شیڈول کی فہرست میں شامل کیا گیا تھا۔

واضح رہے کہ کالعدم ٹی ایل پی کے سربراہ سعد حسین رضوی ان دنوں پنجاب کی جیل میں زیر حراست ہے۔ ان کی رہائی کے خلاف تنظیم کی جانب سے سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں درخواست دائر کی گئی ہے۔ سعد رضوی کو رواں سال نقص امن کیلئے خطرہ اور ملک بھر میں کالعدم تنظیم کے مظاہروں اور سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے کے بعد پنجاب حکومت کی جانب سے گرفتار کیا گیا تھا۔

فورتھ شیڈول کیا ہے؟

فورتھ شیڈول ایک ایسی فہرست ہے جس میں انسداد دہشت گردی ایکٹ 1997 کے تحت دہشت گردی اور فرقہ واریت کے جرم میں مشتبہ افراد کو رکھا جاتا ہے۔

ٹی ایل پی مجلس شوریٰ کے اراکین رہا

قبل ازیں تحریک لبیک پاکستان کی مرکزی مجلس شوریٰ کے اراکین علامہ غلام غوث بغدادی، علامہ فاروق الحسن اور انجینیر حفیظ اللہ علوی کو انسداد دہشت گردی عدالت سے ضمانت منظور ہونے پر رہا کیا گیا۔ ترجمان ٹی ایل پی کے مطابق کارکنان اور رہنماؤں کو صاحبزادہ سعد حسین رضوی کی رہائی کا انتظار ہے۔ تنظیم کے 450 کارکنان کے نام بھی فورتھ شیڈول سے نکال دیئے گئے ہیں۔ ترجمان کے مطابق سربراہ ٹی ایل پی کی رہائی سے اعتماد مزید بڑھے گا اور معاہدہ پورا ہوگا۔ شرکاء ناموسِ رسالت مارچ اپنے قائدین کے استقبال کے لئے بے تاب ہیں۔

ٹی ایل پی پر پابندی

تحریک لبیک پاکستان کی جانب سے پُرتشدد مظاہروں اور احتجاج کے بعد حکومت پاکستان نے اپریل 2021 میں تنظیم کو کالعدم قرار دیتے ہوئے اس پر 1997ء کے انسداد دہشت گردی قانون کے تحت پابندی عائد کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ جس کے بعد جولائی 2021 میں آزاد کشمیر میں ہونے والے انتخابات کیلئے کالعدم ٹی ایل پی پر آزاد کشمیر انتخابات میں حصہ لینے پر بھی پابندی عائد کی گئی۔

ٹی ایل پی پر پابندی کے خلاف تنظیم کی جانب سے وزارت داخلہ میں درخواست بھی دائر کی گئی تھی۔ جس میں موقف اپنایا گیا کہ حکومت کی جانب سے نقص امن و کار سرکار میں مداخلت کے الزامات پر 15 اپریل 2021 کو تحریک لبیک پاکستان پر پابندی عائد کی گئی، جو حقائق کے منافی ہے۔

یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ کالعدم تحریک لبیک پاکستان نے 2018ء کے عام انتخابات میں 22 لاکھ سے زیادہ ووٹ حاصل کیے تھے جب کہ سندھ اسمبلی میں اس کے 3 اراکین موجود ہیں۔ تنظیم کے سربراہ سعد حسین رضوی اپریل سے کوٹ لکھپت جیل میں قید ہیں جسے ان کے والد خادم حسین رضوی کی وفات کے بعد سربراہ بنایا گیا تھا۔

PUNJAB

SAAD RIZVI

Tabool ads will show in this div