کراچی: علیزہ آرکیڈ کی چوتھی منزل مسمار کرنے کا حکم

کارروئی کرکے رپورٹ 9دسمبر کو طلب کرلی
[caption id="attachment_2066656" align="alignnone" width="800"]Sindh-High-Court-1 فوٹو: سماء ڈیجیٹل[/caption]

سندھ ہائیکورٹ نے غیر قانونی تعمیرات کیس میں گلشن اقبال 13 ڈی میں واقع علیزہ آرکیڈ کی چوتھی منزل مسمار کرنے کا حکم دے دیا۔

جمعرات 11نومبر کو ہائیکورٹ میں غیر قانونی تعمیرات کیس کی سماعت ہوئی۔

دوران سماعت عدالت نے غیر قانونی تعمیرات مسمار نہ کرنے پر ایس بی سی اے اور دیگر پر برہمی کا اظہار کیا۔ ایس بی سی اے حکام نے مؤقف اپنایا کہ ہماری ٹیم متعلقہ جگہ پر کارروائی کے لیے گئی تھی لیکن نقص امن کے مسئلے اور احتجاج کے باعث ٹیم واپس آگئی۔

عدالت نے حکم دیا کہ علاقہ پولیس کی مدد لے کر چوتھی منزل خالی کروا کر مسمار کریں اور کارروائی کرکے رپورٹ 9دسمبر کو طلب کرلی۔

جسٹس ظفر راجپوت نے ریمارکس دیے کہ عدالت واضح کرچکی ہے کہ صرف بلڈرز کے خلاف کارروائی نہیں ہوگی بلکہ ایس بی سی اے حکام کے خلاف بھی کارروائی ہوگی۔ غیر قانونی تعمیرات کے خلاف کارروائی نہ کرنے والوں کو نہیں چھوڑیں گے۔

عدالت نے ریمارکس دیے کہ ایک پلر بھی غیرقانونی تعمیر ہوگا تو ایس بی سی اے عمارت سیل کرسکتی لیکن یہاں افسران کی ملی بھگت سے غیرقانونی تعمیرات کی بھر مار ہے۔ غیر قانونی تعمیرات کرنے والے سمجھ رہے ہیں کوئی کچھ نہیں بگاڑ پا رہا۔

عدالتی ریمارکس میں کہا گیا کہ گراؤنڈ پلس تھری کی اجازت تھی تو گراؤنڈ پلس فور کیسے تعمیر ہوگیا؟ چوتھا فلور بنتا رہا اور آپ منہ دیکھتے رہے۔

جسٹس فیصل کمال نے ریمارکس دیے کہ کہیں کہیں صرف کاسمیٹک کارروائی کی جاتی ہے، مکمل کارروائی کریں اور الاٹیز کو معاوضہ بھی دلوائیں۔

واضح رہے کہ اس سے قبل سندھ ہائی کورٹ نے مکہ ٹیرس کو بھی مسمار کرنے کا حکم دیا تھا۔

Tabool ads will show in this div