ماحولیاتی قوانین کی خلاف ورزی والے منصوبےبند کریں، لاہور ہائیکورٹ

جوڈیشل واٹر انوائرمنٹ کمیشن رپورٹ لاہور ہائیکورٹ میں جمع
Nov 11, 2021
لاہور میں شیرانوالہ انڈر پاس کی تعمیر جاری ہے۔ فوٹو: آن لائن
لاہور میں شیرانوالہ انڈر پاس کی تعمیر جاری ہے۔ فوٹو: آن لائن
[caption id="attachment_2430788" align="alignnone" width="800"]Sheranwala Underpass لاہور میں شیرانوالہ انڈر پاس کی تعمیر جاری ہے۔ فوٹو: آن لائن[/caption]

رپورٹ: ارشد علی

ماحولیاتی آلودگی سے متعلق کیس میں لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شاہد کریم نے ریمارکس دیے کہ شاہکام انڈر پاس، شیرنوالہ فلائی اوور سمیت دیگر پراجیکٹ میں ماحولیاتی سروے نہیں ہوا تو انہیں بند کر دیں۔

جمعرات 11نومبر کو دوران سماعت جسٹس شاہد کریم نے پابندی کے باوجود فصلوں کی باقیات کو آگ لگانے پر برہمی کا اظہار کیا۔

جسٹس شاہم کریم نے ہدایت کی کہ فصلوں کی باقیات کو آگ لگانے والوں کو فوری گرفتار کیا جائے جبکہ چیف سیکریٹری پنجاب اور آئی جی پنجاب فصلوں کی باقیات کو آگ لگانے پر پابندی کے فیصلہ پر من و عن عمل کروائیں۔

عدالت نے کل 12 نومبر کو ڈپٹی کمشنر لاہور کو طلب کر لیا ہے۔

سماعت سے قبل، اسموگ کے خاتمے سے متعلق دائر درخواست پر ماحول کو صاف ستھرا رکھنے کے لیے جوڈیشل واٹر انوائرمنٹ کیمشن نے کارکردگی رپورٹ لاہور ہائیکورٹ میں جمع کروائی۔

کارکردگی رپورٹ

جمع کروائی گئی رپورٹ کے مطابق پنجاب بھر کے 4ہزار87 اینٹوں کے بھٹوں کی انسپکشن کی گئی، جس میں سے آلودگی کا باعث بننے والے بھٹہ مالکان کو 2کروڑ 74لاکھ روپے سے زائد کے جرمانے کیے گئے۔

جدید ٹیکنالوجی پر بھٹوں کو منتقل نہ کرنے والے 250 بھٹوں کو سیل کیا گیا جبکہ 742 بھٹہ مالکان کے خلاف مقدمات درج کروائے گئے۔ ماحول دشمن 22 بھٹہ مالکان کو فوری گرفتار کروایا گیا۔

رپورٹ کے مطابق پنجاب بھر کی ایک ہزار 969 فیکٹری یونٹس کی انسپکشن کی گئی، جدید ٹیکنالوجی پر منتقل نہ کرنے پر 186 فیکٹریوں کو سیل کیا گیا۔

فیکٹری مالکان کے خلاف 188 مقدمات درج کروائے گئے جبکہ 91 فیکٹری مالکان کو گرفتار بھی کروایا گیا۔

اسکے علاوہ پنجاب بھر میں 20 ہزار424 گاڑیوں کی انسپکشن کی گئی۔ دھواں چھوڑنے والی 5 ہزار201 گاڑیوں کو جرمانے کیے گئے اور مجموعی طور پر 38لاکھ 50ہزار روپے سے زائد کے جرمانے کیے گئے۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ لاہور میں ایئر کوالٹی انڈیکس سے متعلق ایک سروے بھی کیا گیا جس کے مطابق تعمیراتی جگہوں پر کام کے باعث ایئر کوالٹی انڈیکس زیادہ ہوتی ہے۔ تعمیراتی کام گلاب دیوی انڈرپاس، شیرانوالہ گیٹ فلائی اوور اور شاہ کام انڈر پاس پر جاری ہے۔

لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی (ایل ڈی اے) اس حوالے سے کوئی اقدامات نہیں کر رہا۔

PUNJAB

SMOG

Tabool ads will show in this div