کراچی: ہاتھ سے بنے جوتے برینڈڈ جوتوں سے کم نہیں

جدید مشینوں کے دور میں ہاتھوں کا ہنر آج بھی زندہ
Nov 10, 2021
[iframe width="100%" height="435" frameborder="0" scrolling="no" marginheight="0"marginwidth="0" src="https://www.youtube.com/embed/FoBOzwP29wE"] ویسے تو پاکستان میں ہاتھ سے چمڑے کے جوتے بنانے کا فن ناپید ہوتا جا رہا ہے، لیکن مصنوعی چمڑے، ریگزین سے بنے چین کے جوتے بازار میں آنے کی وجہ سے یہ فن سیکھنے کا رجحان ختم ہونے کے باوجود کراچی کے علاقے انچولی میں سن 1987 سے قائم کارخانے میں جدید طرز کی مشینوں کا استعمال کیے بغیر ہاتھوں کے ذریعے چمڑے کی مختلف اشیاء جن میں نت نئے ڈیزائن کے جوتے ، والٹ ، بیلٹ ، چشمے کے پاوچ اب بھی بنائے جاتے ہیں۔ کارخانے کے مالک سجاد حسین کے مطابق اس فن کے معدوم ہونے کی بنیادی وجہ کاری گروں کی کمی ہے۔ ان کے پاس 50 سے 90 سال تک کی عمر کے باہنر کاریگر موجود ہیں، جن کی بنائی ہوئی چمڑے کی اشیاء، ڈیزائن اور ان کی پائیداری اپنی مثال آپ ہیں۔ ان کی کوشش ہے کہ مہنگائی کے اس دور میں عام آدمی کیلئے معیاری جوتے مناسب قیمت پر فراہم کیے جا سکیں، جو کہ شہر کی بڑی دکانوں پر مشینوں کی مدد سے تیار ہونے والے جوتوں کے مقابلے میں آدھی قیمت پر دستیاب ہونگے۔ کارخانے کے مالک کا یہ بھی کہنا ہے کہ چمڑے کے جوتے بیچنے والی بڑی براینڈڈ کمپنیاں اور بیرون ملک سے آنے والے بھی من پسند ڈیزائن اور سائز کے مطابق آرڈر پر ان سے جوتے بنواتے ہیں۔

HAND MADE

Tabool ads will show in this div