کالمز / بلاگ

ڈبلیو ٹی اے فائنلز: ٹینس ٹائٹل کیلئے 8ٹاپ خواتین مدمقابل

فائنلز10سے 17 نومبر کو ہونگے،ایشلے اعزاز کا دفاع نہیں کرینگی

سال رواں کا اختتامی ٹینس ایونٹ ڈبلیو ٹی اے ( ویمنز ٹینس ایسوسی ایشن ) کے فائنلز بدھ 10 نومبر2021 سے میکسیکو کے شہر گواڈالاجارا میں شروع ہو رہا ہے جو 17 نومبر تک جاری رہے گا۔

اس ایونٹ میں دنیائے ٹینس کی 8 ٹاپ خواتین سنگلز ٹائٹل کیلئے کورٹ میں اتر رہی ہیں جبکہ ڈبلز ٹرافی کیلئے بھی 8جوڑیاں مد مقابل ہوں گی۔ اس ٹائٹل کا شمار بڑے ایونٹس میں ہوتا ہے اور اس کے ہر موحلے کے پوائنٹس ہیں جو عالمی رینکنگ میں شمارکیے جاتے ہیں۔

عالمی نمبر ایک اور دفاعی چیمپئن ایشلے بارٹی کرونا پابندیوں کی وجہ سے اس بار ٹورنامنٹ سے دستبردار ہوگئی ہیں۔ انہوں نے 2019 میں چینی شہر شینژن میں فائنل میں ایلینا سویٹولینا کو سٹریٹ سیٹ میں زیر کر کے پہلی مرتبہ ٹائٹل جیتا تھا۔

اس بار بھی ٹورنامنٹ کی میزبانی شینزن کو ہی کرنا تھی لیکن کرونا وائرس پابندیوں کی وجہ سے ستمبر میں ٹورنامنٹ کو میکسیکو کے شہر گواڈالا جارا منتقل کرنے کا اعلان کیا گیا تھا۔ میکسیکو کو پہلی بار ڈبلیو ٹی اے فائنلز کی میزبانی کا اعزاز حاصل ہوا ہے۔ تاہم میزبان شہر سطح سمندر سے خاصہ بلند ہے جس کی وجہ سے کھلاڑیوں کو اپنی روایتی کارکردگی دکھانے میں کچھ مشکلات پیش آ سکتی ہیں

فائنلز کیلئے کوالیفائی کرنے والی کھلاڑیوں میں عالمی نمبر 2 اریانا سبالینکا ( بیلاروس ) ‘عالمی نمبر 3 باربورا کراجیسکووا( جمہوریہ چیک ) ‘ عالمی نمبر 4 کیرولینا پلکسووا( جمہوریہ چیک ) ‘ عالمی نمبر 6 ماریہ سکاری ( یونان ) ‘ عالمی نمبر 9 ایگا سواٹیک ( پولینڈ ) ‘عالمی نمبر5 گاربین موگوروزا( اسپین ) ‘ عالمی نمبر 10 پاﺅلا بیڈوسا( اسپین ) اور عالمی نمبر 8 اینٹ کونٹاویٹ ( اسٹونیا ) شامل ہیں۔ ان میں سے چھ کھلاڑی اریانا سبالینکا ‘باربورا کراجسیکووا ‘ماریہ سکاری‘ ایگا سواٹیک ‘پاﺅلا بیڈوسا اور اینٹ کونٹا ویٹ پہلی بار فائنلز کیلئے کوالیفائی کرنے میں کامیاب ہوئی ہیں۔

سابق عالمی نمبر ایک جمہوریہ چیبک کیرولینا پلسکووا مسلسل پانچویں مرتبہ فائنلز میں جگہ بنانے میں کامیاب رہی ہیں جبکہ اسپین کی گاربین موگوروزا چوتھی مرتبہ ڈبلیو ٹی اے فائنلز کھیل رہی ہیں۔ ماریہ سکاری (یونان) ایگا سواٹیک (پولینڈ) اور اینٹ کونٹا ویٹ (اسٹونیا) کی اپنے اپنے ملکوں کی پہلی کھلاڑی ہیں جو اس سالانہ ایونٹ میں کوالیفائی کرنے میں کامیاب ہوئی ہیں۔ جبکہ پولش کھلاڑی ایگا سواٹیک ایونٹ میں شریک واحد کھلاڑی ہیں جو 21 ویں صدی میں پیدا ہوئی ہیں۔

تیونس سے تعلق رکھنے والی عالمی نمبر 7 انس جابر کو ایشلے بارٹی کے دستبردار ہونے کے بعد یقین تھا کہ وہ سال کے اختتامی ٹورنامنٹ میں رسائی میں کامیاب ہو جائیں گی لیکن اینٹ کونٹاویٹ نے 76 پوائنٹس کی سبقت سے انس جابر کو ڈبلیو ٹی اے فائنلز سے محروم کردیا۔ انس جابر ماسکو میں ہونے والے ٹورنامنٹ کے پہلے راﺅنڈ میں انجری کا شکار ہو گئی تھیں جو ان کیلئے بڑا دھچکہ تھا جبکہ کونٹا ویٹ نے کلیولینڈ لیڈیز اوپن ٹائٹل جیت کر فائنلز میں اپنی رسائی کو یقینی بنا لیا تھا۔ کونٹاویٹ نے فائنلزمیں جگہ بنانے کے بعد تیونسی ٹینس اسٹار کو ٹوئٹ پیغام میں لکھا تھا کہ بہت معذرت انس جابر اب اگلے سال کا انتظار کروں۔ اس کےجواب میں انسجابرو نےکا تھاکہ معذرت قبول تاہم میکسیکومیں ملاقات ہو گی میں بھی متبادل کے طور پر وہاں پہنچ رہی ہوں۔

فائنلز میں رسائی نہ کرنے کے باوجود انس جابر متبادل کھلاڑی کے طور پر میکسیکو جائیں گی۔ انس جابرکو عالمی رینکنگ میں ٹاپ 10 میں جگہ بنانے والی دنیائے عرب کی پہلی کھلاڑی ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔

اس مرتبہ ٹائٹل کیلئے اریانا سبالینکا کو فیورٹ قرار دیا جا رہا ہے جنہوں نے سال رواں میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے۔ لیکن فائنلز میں کوالیفائی کرنے والی تمام ہی کھلاڑی غیر معمولی اور حیران کن کھیل پیش کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں اور کسی اپ سیٹ کو خارج از امکان قرار نہیں دیا جا سکتا۔

ڈبلیو ٹی اے فائنلز ٹورنامنٹ میں سنگلز اور ڈبلزمیں کھلاڑیوں کو دو چار چار کے گروپوں میں تقسیم کیا جاتا ہے اور ہر ایک کو اپنے گروپ میں باقی تین کھلاڑیوں کے خلاف میچ کھیلنے ہوتے ہیں۔

دونوں گروپوں سے دو دو ٹاپ کھلاڑی سیمی فائنلز کیلئے کوالیفائی کرتی ہیں۔ ایک گروپ کی ٹاپ کھلاڑی سیمی فائنل میں دوسرے گروپ کی نمبر دو کھلاڑی سے مقابلہ کرتی ہے۔ اور فاتح کھلاڑی فائنل میں مد مقابل ہوتی ہیں۔ اس ٹورنامنٹ کیلئے کھلاڑی سال بھر ٹورنامنٹس میں اپنی کارکردگی اور فتوحات پر ملنے والے پوائنٹس کی بنیاد پر کوالیفائی کرتی ہیں۔ چاروں گرینڈ سلام ایونٹس سمیت 20 ٹورنامنٹس کی کارکردگی کو جانچا جاتا ہے جس کی بنیاد پر ٹاپ8 کھلاڑی سنگلز اور8 جوڑیاں ڈبلز مقابلوں کیلئے کوالیفائی کرتی ہیں۔

ٹورنامنٹ جیتنے اور محتلف مراحل تک پہنچنے کیلئے پوائنٹس مقرر ہیں۔ چاروں گرینڈ سلام اور ڈبلیو ٹی اے چار ٹورنامنٹس میں ونر کیلئے 1000 پوائنٹس ہیں ۔

آسٹریلیا سے تعلق رکھنے والی عالمی نمبر ایک ایشلے بارٹی سب سے زیادہ پوائنٹس حاصل کرنے کی وجہ سے ڈبلیو ٹی اے فائنلز کیلئے کوالیفائی کر چکی تھیں لیکن انہوں نے کرونا وائرس پابندیوں اور قرنطینہ سے عاجز آ کر باقی ماندہ ٹینس سیزن میں حصہ نہ لینے کا اعلان کر دیا اور اب ان کی تمام تر توجہ اپنے ہوم گراﺅنڈ پر نئے سال کے پہلے گرینڈ سلام آسٹریلین اوپن کیلئے تیاریوں پر مرکوز ہیں۔

آسٹریلیا سے باہر جانے کے بعد وطن واپس آنے والے شہریوں کو حکومت کے مقرر کردہ ہوٹلوں میں 15 دن کا لازمی قرنطینہ کرنا پڑتا ہے اور اس سخت قرنطینہ میں کمرے کی کھڑکی کھولنے کی اجازت بھی نہیں ہوتی۔

ایشلے بارٹی مارچ میںآسٹریلیا سے باہر گئی تھیں اور ٹوکیو اولمپکس سمیت ٹینس سیزن میں شرکت کے بعد گزشتہ ماہ آسٹریلیا واپس لوٹی تھیں انہوں نے آسٹریلوی حکام سے گھرمیں قرنطینہ کرنے کی درخواست کی تھی جس کومسترد کر دیا گیا تھا اور انہیں 15 دن کا قرنطینہ ہوٹل میں کرنے پر مجبور ہونا پڑا تھا۔ اس صورت حال کی وجہ سے انہوں نے بیرون ملک ٹورنامنٹس میں شرکت کا ارادہ ترک کر دیا۔ اس سال ایشلے بارٹی کو ڈبلیو ٹی اے فائنلزمیں اپنے اعزاز کا دفاع کرنا تھا۔ انہوں نے 2019 میں شینژن چین میں پہلی بار یہ اعزاز جیتا تھا۔

امریکہ کی کرس ایورٹ چار ‘ یوگوسلاویہ اور امریکہ کی نمائندگی کرنے والی مونیکا سیلیز اور بلجیئم کی کم کلسٹرز تین تین ‘ سوئس مس مارٹینا ہنگز اور ارجنٹینا کی گبریلا سباٹینی ‘ ا?سٹریلیا کی ایوانے گولاگونگ کاﺅلے اور بلجیئم کی جسٹن ہین دو دو مرتبہ چیمپئن رہ چکی ہیں۔ لنزے ڈیونپورٹ ‘ ایمیلی موریسمو ‘ ماریہ شراپووا ‘ وینس ولیمز ‘ ٹریسی آسٹن ‘ پیٹراکیوٹوا ‘ کیرولین وزنیاسکی ‘ جانا نووتنا ‘ سلویا ہینیکا ‘ اگنیسکا روڈوانسکا ‘ ڈومینیکا سبیلکووا اور ایشلے بارٹی ایک ایک بار ڈبلیو ٹی اے فائنلز ٹرافی اپنے نام کرنے میں کامیاب رہی ہیں۔

امریکہ کی پام شرائیور نے 10 ڈبلز ٹائٹلز کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہیں جبکہ امریکہ ہی کی بلی جیتن کنگ اور لیزا ریمنڈ نے چار چار مرتبہ ڈبلز ٹرافی جیتی ہے۔

اس ٹور نامنٹ کا آغاز 1972 میں ہوا تھا اور افتتاحی ٹورنامنٹ ڈبلیو ٹی اے ٹور چیمپئن شپ کے نام سے بوکاریٹن فلوریڈا میں منعقد ہوا تھا جس کو ورجینیا سلمز نے اسپانسر کیا تھا اور اسی وجہ سے اس وفت اس کا نام ورجینیا سلمز پڑا تھا۔ اولین ٹورنامنٹ کی فاتح امریکہ کی کرس ایورٹ تھیں جنہوں نے فائنل میں آسٹریلوی کھلاڑی کیری میلویلی ریڈ کو شکست دی تھی۔

یہ ٹورنامنٹ 1972 سے 1974 تک اکتوبر میں منعقد ہہوا جس کے بعد منتظمین نے ٹورنامنٹ کو مارچ میں منعقد کرنے کا فیصلہ کیا اور پھر 1975 سے 1984 تک ٹورنامنٹ کا انعقاد ہر سال مارچ میں ہوتا رہا ۔ اس مرحلے پر ڈبلیو ٹی اے نے ٹینس سیزن کا دورانیہ جنوری سے نومبر کرنے کا فیصلہ کیا اور ڈبلیو ٹی اے فائنلز کو سال کے آخری ایونٹ کے طور پر منعقد کرنے کی منظوری دی گئی۔ اس طرح 1986 میں اس سال میں دو ایونٹ منعقد ہوئے تھے۔

دبیلو ٹی اے کے اس اختتامی ٹورنامنٹ کا انعقاد اپنے آغاز سے 2000 ءتک میں امریکہ کے شہروں کیلیفورنیا ‘ نیویارک ‘ اوکلینڈ کیلیفورنیا میں منعقد ہوتا رہا ۔ 2001 میں میونخ جرمنی نے ٹورنامنٹ کی میزبانی کی۔ 2002-2005 تک لاس اینجلس ‘2006-2007 میں میڈرڈ اسپین ‘ 2008 سے 2010 تک دوحہ قطر ‘2011 سے 2013 تک استنبول ترکی نے اس ایونٹ کی میزبانی کے فرائض انجام دیئے ۔ 2014 کے ڈبلیو ٹی اے فائنلز کی میزبانی حاصل کرنے کیلئے 43 ملکوں نے دل چسپی ظاہر کی تھی تاہم سنگاپور کو اگلے پانچ سال کیلئے میزبانی دینے کا اعلان کیا گیا ۔ 2019 میں چین کے شہر شینژن نے اس ٹونامنٹ کی میزبانی کی تھی۔ جبکہ کرونا وائرس کی وجہ سے 2020 میں ٹینس ایونٹ منعقد نہیں ہو سکا تھا۔

ڈبلیو ٹی اے فائنلز کے فائنل میچ کا فیصلہ 1984 سے 1998 تک بیسٹ آف فائیو سیٹس میں ہوتا تھا جو ویمنزسرکٹ کا واحد ایونٹ تھا جو فیصلہ بیسٹ آف فائیو سیٹس فارمیٹ پر کھیلا جاتا تھا۔ 1901 میں یو ایس نیشنل ٹینس چیمپئن شپ میں پہلی مرتبہ خواتین کے میچز میں بیسٹآف فائیو سیٹ فارمیٹ متعارف کروایا گیا تھا۔ ڈبلیو ٹی اے فائنلز میں اس فارمیٹ کو کم کر کے بیسٹ آف تھری سیٹ میں تبدیل کر دیاگیا تھا ۔ 2014 کے بعد سے ڈبلیو ٹی اے فائنلز سنگلزچیمپئن کو بلی جین کنگ ٹرافی دی جاتی ہے۔ اس ٹورنامنٹ کو مختلف کمپنیاں اسپانسر کرتی ہیں۔

ڈبلیو ٹی اے کے ٹینس سیزن کے اس سالانہ اختتامی ایونٹ پر امریکی خواتین کی بالادستی قائم رہی جنہوں نے 17 مرتبہ ٹائٹل جیتے ہیں۔ جرمنی کی چھ ‘چیکوسلواکیہ اور جمہوریہ چیک اور بلجیئم کی پانچ پانچ ‘ آسٹریلیا ‘ یوگوسلاویہ سربیا کی تین تین اور ارجنٹینا ‘ سوئیزرلینڈ کی دو دوکھلاڑیوں نے ڈبلیو ٹی اے فائنلزسنگلز ٹائٹل جیتنے کا کارنامہ انجام دیا ہے۔ فرانس‘ روس ‘ڈنمارک ‘یوکرائن‘ پولینڈ اور سلواکیہ نے ایک ایک مرتبہ سنگلز چیمپئن شپ جیتی ہے۔

ٹینس لیجنڈ مارٹینا نیوراٹیلووا کوسب سے زیادہ سنگلز اور ڈبلز ٹائٹلز جیتنے کا اعزاز حاصل ہے انہوں نے 8 ڈبلیو ٹی اے فائنلز سنگلز اور 13 ڈبلز ٹرافیاں اپنے نام کی ہیں ۔ انہوں نے 1982 سے 1986 تک مسلسل پانچ سنگلز ٹائٹل جیت کر ریکارڈ قائم کیا ۔ امریکہ کی سرینا ولیمز اور جرمنی کی اسٹیفی گراف نے پانچ پانچ مرتبہ سنگلز ٹرافیاں جیتی ہیں ۔ یوگوسلاویہ کی مونیکا سیلیز کو 1990سے 92 اور امریکہ کی سرینا ولمیز کو 2012 سے 2014 تک مسلسل تین ٹائٹل جیت کر ہیٹ ٹرک کرنے کا اعزاز حاصل ہے۔

WTA Finals

Women Contestants

Tabool ads will show in this div