سپریم کورٹ کا زلزلہ متاثرہ اسکولوں کوجون2022تک مکمل کرنے کا حکم

ایرا افسران صرف تنخواہیں اور مراعات لے رہے ہیں

Supreme Court

[video width="640" height="360" mp4="https://i.samaa.tv/wp-content/uploads/sites/11//usr/nfs/sestore3/samaa/vodstore/urdu-digital-library/2020/11/WhatsApp-Video-2021-11-09-at-3.42.13-PM.mp4"][/video]

سپریم کورٹ نے خیبرپختونخوا میں زلزلہ متاثرہ اسکولوں کی تعمیر میں تاخیر پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ایرا کو تمام پراجیکٹس جون 2022 تک مکمل کرنے کا حکم دیا ہے۔

منگل کو سپریم کورٹ میں خیبرپختونخوا کے زلزلہ زدہ علاقوں میں اسکولوں کی عدم تعمیر کے کیس کی سماعت ہوئی۔چیئرمین ایرا عدالت عظمیٰ میں پیش ہوئے۔ عدالت نے استفسار کیا کہ متاثرہ علاقوں میں اسکول تعمیر کیوں نہیں ہوئے؟۔ چیف جسٹس گلزار احمد نے چیئرمین ایرا پر برہمی کا اظہار کرتےہوئے کہا کہ ایرا افسران صرف تنخواہیں اور مراعات لے رہے ہیں،آپ کے اپنے بچےاسکول سے محروم ہوتے تو کیا پھرآپ کام کرتے، زلزلے سے متاثرہ علاقے تو ایک سال میں ہی بن جانے چاہیے تھے۔ دوران سماعت چیئرمین ایرا نے بتایا کہ 14 ہزار پراجیکٹس میں 3 ہزار رہ گئے۔ تعلیم اور صحت کے منصوبے اولین ترجیح ہے۔

خیبرپختونخوامیں زلزلہ متاثرہ اضلاع میں اسکول6ماہ میں فعال کرنےکاحکم

چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے کہ اگرتعلیم اور صحت ترجیح ہوتی توآج یہ منصوبے مکمل ہوتے۔ ایڈووکیٹ جنرل خیبر پختونخوا نےعدالت کوبتایا کہ 540 میں سے 238 اسکول مکمل کرچکے ہیں۔جسٹس قاضی امین نے ریمارکس دیئے کہ حکومتوں کی غفلت نے تعلیم کو صنعت بنا دیا ہے۔ پہلے 8 روپے کالج کی فیس ہوتی تھی تاہم اب چھوٹے بچوں کی 30 ہزارروپے ماہانہ ہے۔ ریاست کی ذمہ داری ہے کہ مفت تعلیم فراہم کرے اور خیبرپختونخوا حکومت ایرا کے پیچھے چھپنے کی کوشش نہ کرے۔

عدالت نے ایرا کو تمام زیر تعمیر منصوبے جون 2022 تک مکمل کرنے کا حکم دیتے ہوئے صوبائی حکومت سے پیشرفت رپورٹ طلب کرلی۔عدالت نے تعمیر شدہ تعلیمی اداروں میں طلبہ و اساتذہ کی تفصیلات بھی مانگ لیں۔ کیس کی مزید سماعت 1 ماہ بعد ہوگی۔

Tabool ads will show in this div