امریکا میں گھڑیاں ایک گھنٹہ پیچھے کیوں کردی گئیں

پاکستان میں بھی گھڑیوں کو آگے پیچھے کیاگیا تھا
فائل فوٹو
فائل فوٹو
فائل فوٹو
فائل فوٹو
[caption id="attachment_2428978" align="alignnone" width="900"] فائل فوٹو[/caption]

امریکا میں سردیوں کے آغاز کے ساتھ ہی گھڑیوں کو ایک گھنٹہ پیچھے کردیا گیا ہے۔ تاہم امریکیوں کی اکثریت نے گھڑیاں ایک گھنٹہ پیچھے کرنے کے اقدام پر ناپسندیدگی ظاہر کی ہے۔

امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق امریکا کی بیشتر ریاستوں میں اتوار 7 نومبر سے رات 2 بجے سے وقت ایک گھنٹہ پیچھے کر دیا گیا ہے، جس کے ساتھ ہی روشنی بچانے کی مہم ختم اور سردیوں کی آمد کا اعلان کیا گیا۔ اکثر امریکی شہریوں نے ہفتے کی رات کو سونے سے پہلے اپنی گھڑیوں کو ایک گھنٹہ پیچھے کیا۔

وقت تبدیل کرنے کا سب سے پہلے یہ خیال ایک موجد بینجمن فرینکلن کو 1784 میں آیا تھا، جب انہوں نے کہا تھا کہ گرمیوں میں ایک گھنٹہ پہلے اٹھنے سے آپ روشنی کا زیادہ دیر تک استعمال کر سکتے ہیں۔ اس خیال کو پذیرائی ملی اور دنیا کے بہت سے ممالک نے اس تجویز کو مناسب سمجھ کر اپنے اپنے ملکوں میں رائج کیا۔

حال ہی میں امریکا میں جو سروے کیے گئے ہیں، ان میں بہت سے امریکیوں نے کہا کہ انہیں گھڑیوں کو سال میں دو بار آگے پیچھے کرنا پسند نہیں ہے۔

خبر رساں ادارے 'ایسوسی ایٹڈ پریس' کے حالیہ سروے سے معلوم ہوا کہ صرف 25 فیصد امریکی دن اور رات کا وقت گھٹانے کو پسند کرتے ہیں۔ تینتالیس فی صد امریکی کہتے ہیں کہ وہ سارا سال ایک ہی وقت میں اپنے شب و روز گزارنا پسند کرتے ہیں۔ 32 فی صد چاہتے ہیں کہ پورے سال وہی وقت رہے جو موسمِ گرما میں ہوتا ہے یعنی ڈے لائٹ سیونگ ٹائم۔

[caption id="attachment_2428983" align="aligncenter" width="900"] فائل فوٹو[/caption]

کچھ ریاستیں پابندی سے آزاد

امریکا کی سبھی ریاستوں میں گھڑیوں کی سوئیوں کو آگے پیچھے نہیں کیا جاتا اور چند ریاستیں سارا سال ایک ہی وقت رکھتی ہیں۔

ہوائی، امریکن سیموا، گوام، پورٹو ریکو، ورجن آئی لینڈ اور ایریزونا ریاستیں اپنی گھڑیوں کو تبدیل نہیں کرتیں۔

What Happened the Day the US Adopted Standardized Time Zones | Time

اب سردیوں کے یہ اوقات 13 مارچ 2022 کو تبدیل ہوں گے۔ سات نومبر سے امریکا کے ایسٹرن ٹائم اور پاکستان کے وقت میں 10 گھنٹے کا فرق ہوگیا ہے، جب کہ گرمیوں میں یہ فرق گھٹ کر 9 گھنٹے ہو جاتا ہے۔

یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ ایران ، ترکی، مصر اور شام سمیت کئی اسلامی ممالک سمیت دنیا کے تقریبا اسی ممالک دن کی روشنی سے استفادہ حاصل کرنے کیلئے اپنا وقت آگے پیچھے کرتے رہتے ہیں۔

پاکستان

واضح رہے کہ پاکستان میں پہلی بار سورج کی روشنی سے فائدہ اٹھانے کی خاطر وقت آگے پیچھے کرنے کی سوچ سن انیس سو چورانوے میں پیدا ہوئی جب پیپلز پارٹی کی حکومت تھی، جب کہ سابق صدر پرویز مشرف کے دور حکومت میں بھی اپریل سال 2002 میں ایک گھنٹہ وقت آگے کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا لیکن بعد میں اس پر عمل نہیں ہوسکا۔

برطانیہ

برطانیہ میں بھی ایسا ہوتا ہے جہاں مارچ کے آخری ہفتہ میں گھڑیوں کو ایک گھنٹہ آگے کر کے اکتوبر کے آخری ہفتہ میں پھر ایک گھنٹہ پیچھے کر لیا جاتا ہے۔

برطانیہ میں وقت کو ایک گھنٹہ آگے پیچھے کرنے کی وجہ یہ بیان کی جاتی ہے کہ وہاں سورج کے نکلنے اور ڈوبنے کے اوقات میں سال کے دوران بہت بڑا فرق پڑ جاتا ہے اور سردیوں کے موسم میں جب سورج بہت دیر سے طلوع ہونے لگتا ہے تو دفتروں اور سکولوں کے آغاز کا وقت بالکل رات کے آخری حصہ میں چلا جاتا ہے، کیونکہ وہاں عام طور پر دفتری اور تعلیمی اوقات کا آغاز آٹھ بجے ہوتا ہے اس لیے گھڑیوں کو ایک گھنٹہ پیچھے کر لیا جاتا ہے تاکہ آٹھ ایک گھنٹہ تاخیر سے بجیں اور سکولوں اور دفتروں کے اوقات کار میں تبدیلی نہ کرنا پڑے۔ گویا سردیوں میں وہاں آٹھ اپنے پرانے وقت کی بجائے نو بجے بجتے ہیں اور گرمیوں میں پھر واپس جا کر پرانے وقت پر بجنے لگتے ہیں۔

اس خبر میں شامل معلومات خبر رساں ادارے 'ایسوسی ایٹڈ پریس' سے لی گئی ہیں۔

USA

time

daylight

Tabool ads will show in this div