کراچی:واش روم میں کیمروں پر اسکول انتظامیہ کامؤقف سامنےآگیا

طلبہ والدین کی اسکول ڈی سیل کرنے کی اپیل
Nov 09, 2021

[video width="640" height="360" mp4="https://i.samaa.tv/wp-content/uploads/sites/11//usr/nfs/sestore3/samaa/vodstore/urdu-digital-library/2020/11/School-Camera-Issue-Khi-Pkg-06-11-Hasan-1.mp4"][/video]

کراچی کے علاقے صفورا چورنگي پرخفيہ کيمروں کی شکايت پرسيل کيے گئے نجي اسکول نے محکمہ تعليم سندھ کے يکطرفہ اقدام پرحيرت کااظہار کيا ہے جبکہ اسکول انتظاميہ اور زير تعليم بچوں کے والدين نے رجسٹريشن معطلی کا فيصلہ واپس لينے کي اپيل کی ہے۔

دی ہيرکس اسکول کا کہنا ہے کہ ڈی جی اسکولز ایجوکیشن منسوب صدیقی کی يہ يکطرفہ اور برق رفتارکارروائی حيران کن ہے اور اسکول کی رجسٹريشن  انتظاميہ کامؤقف سنے بغيرمعطل کی گئی ہے۔

اسکول انتظامیہ نے کہا کہ جس خاتون ٹيچرکی شکايت پر فوری کارروائی کی گئی ہے اس کے خلاف انضباطی کارروائی کی گئی تھی۔ ٹيچر کےخلاف اسکول کے ايکشن کے بعد اس کے بھائی نے اسکول انتظاميہ کو دھمکياں دی تھیں۔ يکم نومبرکو دوپہر 2 بج 7 منٹ پر ٹیچر کے بھائی نے واٹس ايپ کال کرکے رجسٹريشن منسوخ کرانےکی دھمکی دی تھی جس کاريکارڈ موجود ہے۔

ڈی جی اسکولزکے  نوٹيفکيشن ميں بھی واضح تھا کہ ٹوائلٹ ميں کوئی کيمرا نصب نہيں تھا جب کہ اسکول انتظاميہ کاکہنا ہے کہ واش بيسن کے قريب لگے کيمروں کا اسکول کے بچوں اوراساتذہ کوعلم تھا۔

اسکول سيل ہونے کي وجہ سے ہفتے کےپہلے دن پڑھنے کے ليے آنے والے بچے واپس لوٹ گئے۔ سو سے زائد بچوں اوران کے والدين نے دی جی اسکولز منسوب صديقی کو تحريری درخواست کرکے رجسٹريشن معطلی کا فيصلہ واپس لينے کي اپيل کی ہے۔

والدين کا کہنا ہے کہ جتنی جلدی ممکن ہواسکول کوڈی سیل کیا جائے تاکہ طلبہ تعلیمی سرگرمیاں شروع کرسکیں۔

Krachi

Cameras in school

Tabool ads will show in this div