کابل:امریکی فوجی کےحوالے کیے جانےوالا افغانی بچہ کہاں گیا؟

بچہ 19اکست کو والدین سےبچھڑا تھا

اگست میں امریکی فوج کے افغانستان سے انخلاء کے وقت کابل ایئرپورٹ پر شدید افراتفری اور بدنظمی دیکھنے میں آئی تھی جس کی متعدد ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تھیں۔

انیس اگست کو کابل ایئرپورٹ پر بے پناہ ہجوم ہونے کے سبب والدین نے اپنے بچے کو کسی ممکنہ حادثے سے بچانے کے لیے اسے ایئرپورٹ کی دیوار پر کھڑے امریکی فوج کے حوالے کیا تھا جس کی تصویر سوشل میڈیا پر وسیع پیمانے پر وائرل ہوئی تھی۔

اس واقعے میں نظر آنے والے بچے کے باپ اور امریکی سفارت خانے میں 10 برس تک سیکورٹی اہل کار کی ملازمت انجام دینے والے مرزا علی احمدی کا کہنا ہے کہ اس روز وہ اپنی بیوی اور 5 بچوں سمیت کابل ہوائی اڈے کے مرکزی دروازے کے باہر جم غفیر میں پریشان حال کھڑا تھے۔

مرزا علی احمدی کا کہنا ہے کہ اچانک ہوائی اڈے کی دیوار پر کھڑے امریکی فوجیوں میں سے ایک نے اس سے پوچھ لیا کہ آیا کسی مدد کی ضرورت ہے۔ اس پر میں نے اپنے 22 ماہ کے بچے سہیل کو اس فوجی کے ہاتھوں میں دے دیا تاکہ اس مقام پر پھیلی افراتفری میں کہیں بچے کو کوئی نقصان نہ پہنچ جائے۔

عرب میڈیا کے رپورٹ کے مطابق جب آدھے گھنٹے بعد احمدی اوراپنے اہلخانہ کے ہمراہ ایئرپورٹ کے اندر پہنچ گئے تو انہیں اپنا بچہ کہیں نظر نہیں آیا۔ ایئرپورٹ انتظامیہ کا کہنا تھا کہ اس کے بچے کو بچوں کے لیے قائم خصوصی زون منتقل کر دیا گیا ہے۔ تاہم اس زون میں پہنچنے پر معلوم ہوا کہ وہ جگہ خالی تھی۔

احمدی اور اس کی بیوی ثریا اپنے بچوں کے ہمراہ پہلے قطر روانہ ہوئے اور پھر وہاں سے جرمنی کے راستے امریکی ریاست ٹیکساس پہنچ گئے۔

افغان پناہ گزینوں کو سہارا دینے والے گروپ نے لاپتہ بچے کو ڈھونڈنے میں بھی مدد کی اور امریکی فوجی حکام کی جانب سے بھی تمام امریکی فوجی اڈوں سمیت تمام متعلقہ ایجنسیوں کو آگاہ کر دیا گیا۔

مذکورہ بچے سہیل کو آخری مرتبہ کابل ہوائی اڈے پر افراتفری کے درمیان امریکی فوجی کے حوالے کرتے ہوئے دیکھا گیا تھا تاہم تمام تر کوششوں کے باجود اب تک کسی کو وہ بچہ مل نہیں سکا ہے۔

Kabul Airport

US WITHDRAWAL

Tabool ads will show in this div