پاکستان کی 65 فیصد آبادی موٹاپے کا شکار ہے،ماہرین

تین کروڑ سے زائد افراد شوگر کے مریض ہیں

رپورٹ: محمد وقار بھٹی

پاکستان کی دو تہائی آبادی یعنی تقریبا 65 فیصد افراد موٹاپے کا شکار ہیں جب کہ اس وقت ملک میں 3 کروڑ سے زائد افراد ذیابطیس کی بیماری میں مبتلا ہو چکے ہیں۔

ان خیالات کا اظہار ماہرین امراض ذیابطیس اور محکمہ صحت سندھ کے حکام نے کراچی پریس کلب میں منعقدہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ پریس کانفرنس کا انعقاد پاکستان اینڈوکرائن سوسائٹی نے ڈسکورنگ ڈائبیٹیز پروجیکٹ کے تعاون سے کیا تھا۔ اس موقع پر پیدل چلنے کی اہمیت اجاگر کر کے لیے علامتی واک بھی منعقد کی گئی۔

ماہرین کا یہ بھی کہنا تھا کہ ذیابطیس کے مرض کی پیچیدگیوں کے نتیجے میں ہر سال نہ صرف لاکھوں لوگ جاں بحق ہورہے ہیں بلکہ ہزاروں افراد پیروں اور ٹانگیں کٹنے سے معذور بھی ہو رہے ہیں۔

اس موقع پر پاکستان اینڈوکرائن سوسائٹی کی پبلکیشن سیکریٹری اور نامور ماہر ذیابطیس ڈاکٹر مسرت ریاض نے انکشاف کیا کہ پاکستان کی دو تہائی آبادی یعنی 65 فیصد سے زائد افراد اس وقت موٹاپے کا شکار ہیں جبکہ عالمی اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں شوگر کے مریضوں کی تعداد 3 کروڑ سے زائد ہو چکی ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ تقریبا 3 کروڑ مزید افراد شوگر کے مرض میں مبتلا ہونے جا رہے ہیں جس کے بعد خدشہ ہے کہ پاکستان آنے والے چند سالوں میں ذیابطیس کے مریض رکھنے والا دنیا کا سب سے بڑا ملک بن جائے گا۔

انہوں نے بتایا کہ پاکستان میں ایک کروڑ سے زائد بچے موٹاپے کا شکار ہو چکے ہیں، اب ضرورت اس امر کی ہے کہ اپنے بچوں کو اس مرض میں مبتلا ہونے سے بچایا جائے، پاکستان میں اسکولوں کے نصاب میں صحت کی اچھی عادات کے حوالے سے اسباق شامل کرنے کی ضرورت ہے، ہر اسکول میں تقریبا ایک گھنٹہ جسمانی کھیل کود کو لازمی قرار دیا جانا چاہیے جبکہ اسکولوں کے اندر اور اطراف میں کولڈ ڈرنکس اور جنک فوڈ یعنی برگر، سموسے، چپس وغیرہ کی فروخت قطعاً ممنوع قرار دے دینی چاہیے۔

انہوں نے اس موقعے پر عوام الناس سے اپیل کی کہ وہ اپنی روزمرہ کی عادات کو تبدیل کریں، روزانہ 40 سے 50 منٹ کی ورزش کو اپنا شعار بنائیں، پیدل چلنا شروع کریں اور باہر کے کھانوں کے بجائے گھر پر تیار کردہ کھانے جس میں سبزیوں اور پھلوں کا مناسب حصہ ہو ان کا استعمال کریں۔

نامور ماہر امراض قلب اور ڈائریکٹر ہیلتھ کراچی ڈاکٹر اکرم سلطان کا کہنا تھا کہ ذیابطیس یا شوگر کا مرض اب میٹابولک ڈس ارڈر کا حصہ کہلاتا ہے، میٹابولک ڈس آرڈر میں دل کی بیماری، فالج اور ذیابطیس کا مرض شامل ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ان تمام بیماریوں کی جڑ ایک ہی ہے یعنی غیر صحت مندانہ طرز زندگی جس کے نتیجے میں لوگ موٹاپے کا شکار ہوکر ان بیماریوں میں مبتلا ہو رہے ہیں۔

انہوں نے اس موقع پر انکشاف کیا ذیابطیس کے مرض میں مبتلا افراد میں مرنے کی شرح ان افراد کے مقابلے میں زیادہ ہوتی ہے جنہیں دل ایک کا دورہ پڑ چکا ہو، سندھ میں متعدی امراض کے ساتھ ساتھ اب غیر متعدی امراض، جن میں شوگر کا مرض بھی شامل ہے، کے لیے آگاہی پیدا کی جا رہی ہے، محکمہ صحت سندھ اور نجی اداروں کے تعاون سے ذیابطیس اور میٹابولک ڈس آرڈر کے دیگر امراض کے حوالے سے آگاہی پھیلانے کا سلسلہ شروع کیا جا چکا ہے۔

جناح اسپتال سے وابستہ ماہر امراض ذیابطیس ڈاکٹر عروج لعل الرحمان کا کہنا تھا کے پاکستان میں اب بڑی تعداد میں بچے بھی شوگر کے مرض میں مبتلا ہو رہے ہیں، جس کی سب سے بڑی وجہ بچوں میں موٹاپے کا بڑھتا ہوا مسئلہ ہے، پاکستان شوگر کے مریضوں کی تعداد کے حوالے سے دنیا میں تیسرے نمبر پر آ چکا ہے جو کہ انتہائی خطرناک بات ہے، بدقسمتی سے شوگر کے مرض میں مبتلا زیادہ تر افراد اپنی بیماری کے حوالے سے لاعلم ہیں۔

ڈاکٹر عروج نے اس موقع پر تجویز دی کہ پاکستان میں مصنوعی طور پر میٹھے مشروبات پر ٹیکس بڑھا کر انہیں عام افراد کے لیے ناقابل استطاعت بنایا جائے، جبکہ فریش جوسز  کے استعمال کی بھی حوصلہ شکنی کی جانی چاہیے۔

ڈسکو رنگ ڈائبیٹیز کے کوآرڈینیٹر عبدالصمد کا کہنا تھا کہ ان کا ادارہ پاکستان میں شوگر کے مرض میں مبتلا افراد کو ڈھونڈنے کا مشن اسٹارٹ کر چکا ہے، اس سال ان کا ہدف تقریبا دس لاکھ افراد کو مفت شوگر ٹیسٹ کی سہولیات مہیا کرنا ہے، شوگر کے مرض میں مبتلا افراد کو مفت ٹیلی ہیلتھ کی سہولت اور دیگر سہولیات کی فراہمی کے لیے کام کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ شوگر چیک کروانے والے افراد 66766-0800 پر کال کرکے بلامعاوضہ شوگر ٹیسٹ اور ماہرین سے ٹیلی کنسلٹیشن کی سہولت حاصل کر سکتے ہیں۔

paksistan

Obesity patients

Tabool ads will show in this div