عوام کی مشکلات میں مزید اضافہ، بجلی بھی مہنگی ہوگئی

کےالیکٹرک سمیت تمام کمپنیوں کےصارف پراضافی بوجھ
Electricity فوٹو: اے ایف پی

نیپرا نے حکومتی درخواست منظور کرتے ہوئے بجلی ٹیرف میں ایک روپیہ 39 پیسے فی یونٹ اضافے کی منظوری دے دی جس کے بعد اوسط ٹیرف 15 روپے 36 پیسے ہوگیا۔

اضافے کا اطلاق وفاقی حکومت کے نوٹیفیکیشن کے بعد ہوگا جس کے بعد کے الیکٹرک سمیت تمام تقسیم کار کمپنیوں کے صارفین اضافی بوجھ برداشت کریں گے۔ بجلی کی قیمتوں میں 2 ماہ کےدوران تقریبا 30 فیصد اضافہ ہوچکا ہے۔

نیپرا نوٹیفکیشن کے مطابق بجلی کی فی یونٹ اوسط قیمت 13 روپے 97 پیسے سے بڑھ کر 15 روپے 36 پیسے ہوگئی۔ ایک سال کے لیے سہہ ماہی ایڈجسٹمنٹ کی مد میں لاگو ایک روپیہ 68 پیسے فی یونٹ شامل کریں تو ٹیرف 17 روپے 4 پیسے ہوگا۔ اس اضافے کے سبب حکومت کی سالانہ آمدن میں 139 ارب روپے اضافہ ہوگا۔

ماہانہ 200 یونٹ تک استعمال کرنے والے صارفین حالیہ فیصلے کی زد میں آنے سے بچ گئے۔ اگست 2018 میں بجلی کا اوسط یکساں ٹیرف 12 روپے 35 پیسے فی یونٹ تھا۔

پی ٹی آئی دور میں اب تک 3 مرتبہ مجموعی طور پر 4 روپے 69 پیسے فی یونٹ اضافہ ہو چکا۔ ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی مد میں وصول کیے جانے والے کھربوں روپے اس کے علاوہ ہیں۔

Power Tariff

national tariff policy

Tabool ads will show in this div