ریپ کے مجرم کو نامرد بنانےکی سزا شرعاً ناجائز کیوں؟

عادی مجرم شخص کو تعزیراً قتل کیا جا سکتا ہے

Chemical castration

کراچی کے جامعہ علوم اسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن اور جامعہ دارالعلوم کورنگی نے ملک میں ریپ کے مجرمان کے لیے تجویز کی گئی سزا کیمیکل کاسٹریشن (نا مرد بنایا جانا) کو شرعاً ناجائز قرار دیا ہے۔

وفاقی حکومت نے گزشتہ سال نومبر میں ریپ کے مجرمان کے خلاف سخت قوانین پر مبنی آرڈیننس جاری کرنے کا فیصلہ کیا تھا، جس کی منظوری صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے 15دسمبر 2020 کو دی۔

آرڈیننس2020 کے تحت خصوصی عدالتیں 4ماہ کے اندر ریپ کے کیسز کو نمٹائیں گی جبکہ کرائسس سیل 6گھنٹے کے اندر اندر میڈیکو لیگل معائنہ کرانے کا مجاز ہوگا۔

نادرا کی مدد سے قومی سطح پر ریپ کے مجرمان کا رجسٹر تیار کیا جائے گا۔ آرڈیننس کے مطابق ریپ کے متاثرین کی شناخت ظاہر کرنے پر پابندی ہوگی جبکہ ایسا نہ کرنا قابلِ سزا جرم ہوگا۔

سزا سے متعلق جامعہ علوم اسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن اور جامعہ دارالعلوم کورنگی سے رابطہ کرکے فتویٰ حاصل کیا گیا، جس میں دونوں اداروں نے اس عمل کو شرعی طور پر ناجائز قرار دیا اور سزا کے ناجائز ہونے سے متعلق وجوہات بھی بیان کیں۔

جامعہ دارالعلوم کورنگی کراچی

کیمیکل کاسٹریشن سزاء کے شرعی اعتبار سے ناجائز ہونے سے متعلق جامعہ دارالعلوم کورنگی کراچی نے فتوے میں واضح کیا ہے کہ ’’ریپ کے مرتکب کو کیمیکل استعمال کرکے نامرد کیے جانے کا حکم شرعی اعتبار سے درست نہیں، کیونکہ کوئی دوا یا کیمیکل وغیرہ استعمال کرکے مرد کو قوتِ مردمی سے ہمیشہ کے لیے محروم نہیں کیا جا سکتا، اس لیے کہ قطعِ نسل کا باعث ہونے کی بنا پر یہ معنی ’’اخصا‘‘ (خصی کرنے) میں داخل ہوگا، جوکہ شرعاً ممنوع ہے‘‘۔

فتوے میں کہا گیا ہے کہ ’’بہت سے فقہاء کرام نے دوا کے ذریعے جنسی صلاحیت ہمیشہ کے لیے ختم کرنے کو ناجائز اور حرام قرار دیا ہے۔ بلکہ جمہور فقہاء کے نزدیک آدمی کو قوتِ مردمی سے محروم کرنا، اس کو قتل کرنے کے مانند ہے، جس کی وجہ سے محروم کرنے والے پر پوری دیت واجب ہوگی‘‘۔

جامعہ دارالعلوم کے دارالفتاء نے فتوے میں یہ بھی لکھا ہے کہ ’’قرآن میں اللہ نے چوری کی سزا میں تو ہاتھ کاٹنے کا حکم دیا ہے لیکن حدِ زنا میں ’’عضو خاص‘‘ کاٹنے کا حکم نہیں دیا۔ اس سے بظاہر یہی مصلحت معلوم ہوتی ہے کہ ’’آلہ زنا‘‘ کاٹنا چونکہ ’’قطع نسل‘‘ کا باعث ہے، اس لیے اس کا حکم نہیں دیا گیا‘‘۔

فتوے میں لکھا گیا کہ ’’زنا کا ارتکاب کرنے والے شخص کو بطور سزا قوت مردمی سے ہمیشہ کے لیے محروم کرنا، خواہ وہ قطعَ ذکر کے بجائے کسی کیمیاوی طریقے سے ہو، شرعاً جائز نہیں۔ اور اگر، وہ شخص شادی شدہ ہے تو اس سے اس کی بیوی کا حق فوت ہوگا‘‘۔

فتوے کے مطابق ’’اگر کوئی شخص عادی مجرم ہو اور عورتوں کے ساتھ ریپ کرکے فساد پھیلا رکھا ہو تو اس صورت میں اس کو تعزیراً قتل کیا جا سکتا ہے‘‘۔

جامعہ بنوری ٹاؤن

جامعہ بنوری ٹاؤن نے اپنی فتویٰ میں واضح کیا کہ ’’قرآن و حدیث میں زنا کرنے والے مرد اور عورت کی سزا متعین ہے، اگر اقرار یا چار عادل مرد گواہوں کے ذریعہ زنا ثابت ہو جائے اور زنا کرنے والا شخص شادی شدہ ہو تو اسے سنگسار کیا جائے گا لیکن اگر وہ غیر شادی شدہ ہو تو اسے 100 کوڑے مارے جائیں گے‘‘۔

جامعہ کے دارالفتاء نے فتوے میں لکھا کہ ’’زنا کرنے والے شخص کو کیمیکل کے ذریعہ نامرد بنانا شرعاً درست نہیں، کیوں کہ اس سے قرآن و حدیث میں بیان کر دہ حد اور سزا کو ترک کرنا لازم آتا ہے، نیز اس عمل کے ذریعہ عملِ تولید کا سلسلہ ختم ہوجاتا ہے اور  ایسا کرنا شرعاً جائز نہیں۔ شرعی سزا کی موجودگی میں غیر شرعی عمل کو سزا کے طور پر مقرر کرنا جائز نہیں‘‘۔

جامعہ اشرفیہ لاہور

کیمیکل کاسٹریشن کی سزا سے متعلق جامعہ اشرفیہ لاہور کے مفتی عبید اللہ نے سماء ڈیجیٹل کو بتایا کہ شرعیت نے جن سزاؤں کا حکم دیا ہے، وہی دینی چاہیئں۔ شرعی سزاؤں سے تجاوز کرنا درست عمل نہیں۔

مفتی عبید اللہ نے یہ بھی کہا کہ ریپ کے مجرم کی سزا سے متعلق اسلامی نطریاتی کونسل کے فیصلے کی بھی حمایت کرتے ہیں۔

پسِ منظر

واضح رہے کہ وزیراعظم عمران خان کی جانب سے کیمیکل کاسٹریشن کی تجویز تب سامنے آئی تھی جب 9ستمبر 2020 کو لاہور میں ایک خاتون کو موٹروے پر بچوں کے سامنے گینگ ریپ کا نشانہ بنایا گیا تھا۔ واقعہ کے بعد ملک میں ریپ کیلئے سزا کے تعین پر بحث شروع ہوگئی تھی۔

وزیراعظم نے اپنے موقف کے بارے میں یہ دلیل پیش بھی کی تھی کہ دیگر کئی ممالک میں بھی نامرد بنانے کی سزا رائج ہے۔

اسلامی نظریاتی کونسل

دوسری جانب 27اکتوبر 2021 کو اسلامی نظریاتی کونسل نے اپنے 225ویں اجلاس میں فوج داری قانون (ترمیمی) آرڈیننس 2020 کے تحت ریپ کے مجرم کی آختہ کاری یعنی نامرد بنانے کے قانون کو غیر اسلامی قرار دیا تھا۔

کونسل نے یہ رائے بھی دی تھی کہ اس کی جگہ متبادل مؤثر سزائیں تجویز کی جائیں۔

CHEMICAL CASTRATION

Tabool ads will show in this div