این اے133کا ضمنی انتخاب،پی ٹی آئی امیدوار کی اپيليں مسترد

وکلاء کی بحث کے بعد فیصلہ سنا دیا
Nov 06, 2021

الیکشن ٹربیونل نے این اے 133 کے ضمنی انتخاب میں پی ٹی آئی کے امیدوار جمشید اقبال چیمہ اور مسرت چیمہ کی اپيليں مسترد کرديں۔

لاہور ہائيکورٹ کے جج جسٹس شاہد جمیل خان پر مشتمل الیکشن ٹربیونل نے ريٹرننگ آفيسر کی جانب سے کاغذات نامزدگی مسترد کيے جانے کے خلاف تحريک انصاف کے اميدوارجمشید اقبال چیمہ اور مسرت چیمہ کی اپيليں مسترد کردی ہیں۔ ٹربیونل کے جج جسٹس شاہد جمیل خان نے وکلاء کی بحث کے بعد فیصلہ سنا دیا۔

بدھ تین نومبر کو پی ٹی آئی رہنما جمشید اقبال چیمہ نے ریٹرنگ افسر کے کاغذات نامزدگی مسترد کرنے کے فیصلے کے خلاف  اپلیٹ ٹربیونل سے رجوع کرتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ ریٹرننگ آفیسر نے حقائق کے برعکس کاغذات مسترد کیے اورتجویز کنندہ حلقہ این اے133کا رہائشی ہے جبکہ غلط طریقے سے تجویز کنندہ کا ووٹ این اے130میں ڈالا گیا۔ درخواست گزار نے استدعا کی ہے کہ عدالت ریٹرننگ آفیسر کا فیصلہ کالعدم قرار دے۔

الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری فہرست کے مطابق این اے 133 کے لیے کل 21  امیدواروں نے کاغذات نامزدگی جمع کروائے۔14 امیدواروں کے کاغذات نامزدگی منظور کیے جبکہ ضمنی الیکشن میں حصہ لینے والے 7 امیدواروں کے کاغذات نامزدگی مسترد کیے گئے۔

مسلم لیگ ن کے چوہدری نصیر بھٹہ اور شائستہ پرویز ملک  کے کاغذات نامزدگی منظور کیے گئے ۔پیپلز پارٹی کے اسلم گل کے کاغذات نامزدگی منظور کیے گئے۔

اس کےعلاوہ پاکستان تحریک انصاف کے جمشید اقبال چیمہ اور مسرت جمشید کے کاغذات مسترد کیے گئے۔ اکمل خان ، رضوان الحق ، محمد عظیم ، محمد عنبر کے کاغذات نامزدگی بھی مسترد کیے گئے۔

این اے133ضمنی انتخاب:پی ٹی آئی اورپی پی پی کےامیدواروں کااعلان

این اے 133 کا ضمنی انتخاب 5 دسمبر کو ہوگا۔ الیکشن کیمشن نے بتایا کہ امیدوار کاغذات نامزدگی 11 نومبر تک واپس لے سکتے ہیں۔ امیدواروں کو 12 نومبر کو انتخابی نشانات جاری کیے جائیں گے۔

ن لیگ کے سینئر رہنما پرویز ملک وفات پاگئے

واضح رہے کہ قومی اسمبلی کی یہ نشست  پاکستان مسلم لیگ نون کے رہنما ملک پرویز کے انتقال کے باعث خالی ہوئی تھی۔ پرویز ملک گذشتہ 10 سال سے مسلم لیگ نون لاہور کے صدر بھی تھے۔ پرویز ملک 18نومبر 1947 کو پیدا ہوئے۔ مرحوم پرویز ملک کی اہلیہ اور بیٹے بھی قومی اسمبلی کے رکن ہیں۔

NA 133