سعدرضوی کوفرانس کامعاملہ پارلیمنٹ میں لانے پرقائل کرلیا،شیخ رشید

نہیں معلوم کس کے کس کیساتھ مذاکرات ہورہےہیں
Nov 04, 2021

شیخ رشید احمد کا کہنا ہے کہ ٹی ایل پی کے سربراہ سعد رضوی سے بات چیت ہوئی تو وہ فرانسیسی سفیر کو واپس بھیجنے اور سفارتخانہ بند کرنے کا مطالبے پر قائم تھے اور انہیں آمادہ کیا گیا کہ معاملہ پارلیمنٹ میں لائیں گے۔

لاہور میں پاکستان ریسکیو ٹیم کی دوسری سالگرہ کی تقریب سے خطاب میں وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید احمد کا کہنا تھا کہ میرے ساتھ جب ٹی ایل پی کے سربراہ سعد رضوی سے بات چیت ہوئی تو وہ فرانسیسی سفیر کو واپس بھیجنے اور سفارت خانہ بند کرنے کا مطالبے پر قائم تھے اور انہیں آمادہ کیا گیا کہ معاملہ پارلیمنٹ میں لائیں گے۔

انہوں نے مزید کہا کہ میں نے دستخط کیے ہیں، میں اس پر قائم ہوں جب کہ اب 2 وزیر مقرر ہوگئے ہیں، وہ آپ کو تازہ صورت حال پر جواب دیں گے۔ تاہم مزید اس موضوع پر گفتگو سے پرہیز کرتے ہوئے شیخ رشید نے بتایا کہ اس میٹنگ میں عمران خان صاحب کا پیغام آیا ہے کہ تحریک لبیک کے معاملے پر بات نہیں کرنی ہے۔

اپنی وزارت سے متعلق شیخ رشید نے ہنستے ہوئے کہا کہ مجھے عجیب محکمہ مل گیا ہے، حالات ایسے ہیں کہ صبح اٹھو تو کچھ اور رات اٹھو تو کچھ اور ہوتے ہیں، جب ریلوے کی وزارت میرے پاس تھی تو پر سکون تھا، جب تک ٹرین نہ گرے کوئی پوچھتا نہیں تھا۔

نیب قوانین سے متعلق پوچھے گئے سوال پر ان کا کہنا تھا کہ نیب قوانین کے حوالے سے وزیر قانون بہتر بتا سکتے ہیں۔

نئے انتخابات پر کیے گئے سوالوں پر وفاقی وزیر نے جواب دیا کہ آئندہ انتخابات میں بھی بھرپور طریقے سے آئیں گے۔ میں عمران خان کیساتھ ہوں اور میری دعا بھی ہے کہ وہ 5 سال پورے کریں گے۔ میں 15 وزرائے اعظم کے ساتھ کام کر چکا ہوں وزارت بہت چھوٹی نوکری ہے۔

واضح رہے کہ کالعدم تنظیم تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) اور حکومت کے مابین طے پانے والے معاہدہ کی تفصیلات تاحال منظر عام پر نہیں آسکی تاہم فرانسیسی سفیر کو واپس بھیجنے، سفارت خانہ بند کرنے سے متعلق وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید کے تازہ اور مفتی منیب الرحمان کے بیان کے بعد نئی بحث کا آغاز ہوگیا ہے۔

اسلام آباد سے واپسی پر کراچی ایئرپورٹ میں میڈیا سے گفتگو میں مفتی منیب الرحمان نے ٹی ایل پی کے مطالبات پر وضاحت کرتے ہوئے کہا تھا کہ میڈیا پر کہا گیا فرانسیسی سفیر کو واپس بھیجنے، سفارت خانہ بند کرنے اور یورپی یونین سے تعلقات منقطع کرنے کے مطالبات ہیں جو سراسر جھوٹ تھا۔

انہوں نے ٹی ایل پی سے مذاکرات کے حوالے سے کہا کہ مطالبہ تھا کہ حکومت کے مجاز اور سنجیدہ نمائندوں پر مشتمل کمیٹی قائم کی جائے، جس کے پیچھے ان کے پاس ریاست اور حکومت کی طرف سے فیصلہ کرنے کا پورا پورا اختیار ہو، اس لیے تحریک لبیک پاکستان اور اہلسنت کے لوگ ڈسے ہوئے تھے کہ صبح معاہدہ کیا جاتا اور شام کو ٹی وی پر بیٹھ کر کہا جاتا کہ اس معاہدے کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔

مفتی منیب نے یہ بھی کہا تھا کہ جب حکومت کے لوگ عوام میں جھوٹ بولنا شروع کردیں تو پھر کسی پر اعتماد کیسے قائم ہوں، لہٰذا ہمیں اسی صورت بات کرنا ممکن تھا کہ جب ذمہ داری قبول کی جائے، معاہدہ ہوجائے تو اس پر عمل درآمد کی پوری پوری ضمانت ہو۔ آپ بہت جلد تحریک لبیک پاکستان کو آئینی اور قانونی جماعت کی حیثیت سے میدان عمل میں دیکھیں گے، جب ٹی ایل پی نے کہا اس مسئلے کو اسمبلی میں لے جاؤ تو کیا یہ آئین اور قانون کی پابندی ہے یا نہیں ہے۔

Mufti Muneeb

SAAD RIZVI

Tabool ads will show in this div