میڈیکل کالج کامعاملہ:موہٹہ پیلس گیلری ٹرسٹ کی فریق بننےکی درخواست دائر

قصرفاطمہ کوکالج میں تبدیل کرنےفیصلہ یک طرفہ طورپرکیا گیا

سندھ ہائی کورٹ میں موہٹہ پیلس گیلری ٹرسٹ نے فریق بننے کی درخواست دائر کردی ہے۔

موہٹہ پیلس کومیڈیکل کالج میں تبدیل کرنے کے معاملے میں موہاٹہ پیلس گیلری ٹرسٹ نے فریق بننے کی درخواست سندھ ہائی کورٹ میں دائرکردی ہے۔

درخواست میں موقف اختیار کیا گیا کہ قصرفاطمہ کوکالج میں تبدیل کرنے کا فیصلہ یک طرفہ طورپرکیا گیا۔ قصرفاطمہ کوسندھ حکومت نےوزیراعظم کی ہدایت پرخریدا تھا اورصوبائی حکومت نے انتظام چلانے کیلئے موہٹہ پیلس گیلری ٹرسٹ قائم کیا تھا۔

درخواست گزار کا کہنا ہے کہ ٹرسٹ اہم فریق ہے اور ٹرسٹ کا موقف سنے بغیر فیصلہ نہ کیا جائے۔ قصر فاطمہ ہیریٹیج بلڈنگ ہے اور اس کو کالج یا اسپتال نہیں بنایا جاسکتا۔عدالت حتمی حکم جاری کرنے سے پہلے ٹرسٹ کا موقف بھی سنے۔

تین نومبر کو سندھ حکومت نے قصر فاطمہ کو میڈیکل کالج میں تبدیل کرنے کے ہائی کورٹ کے سنگل بینچ کے حکم کو چیلنج کرنے کا فیصلہ کیا اور اس سلسلے میں ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل نے عدالت کو آگاہ کردیا ہے۔

ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل نے عدالت کو بتایا کہ ہیریٹیج بلڈنگ میں کالج نہیں بنایا جاسکتا، سنگل بینچ کا حکم غیرقانونی ہے،ہم 2 رکنی بینچ کومطمئن کریں گے۔سرکاری وکیل کا یہ بھی کہنا تھا کہ سنگل بینچ نے نام کی تبدیلی کا بھی غیر قانونی حکم دیا۔درخواست گزار کے وکیل ایڈوکیٹ خواجہ شمس نے کہا کہ سندھ حکومت اور دیگر قصر فاطمہ میں کاروبار کررہے ہیں اور میڈیکل کالج بننے سے سندھ حکومت کا کاروبار بند ہوجائےگا۔ عدالت نے کیس کی سماعت 15 نومبر تک ملتوی کردی ہے۔

میڈیکل کالج بنانے کا تحریری حکم

تیس اکتوبر کو سندھ ہائی کورٹ نے قصر فاطمہ کی اصل شکل اور ثقافتی ورثے کی حیثیت برقرار رکھتے ہوئے میڈیکل کالج بنانے کا تحریری حکم جاری کیا ہے۔

عدالتی حکم نامے میں بتایا گیا ہے کہ قصر فاطمہ کی اصل شکل اور ثقافتی ورثہ کی حیثیت برقرار رہے گی۔عدالت نے قصرفاطمہ ميں ميڈيکل کالج کے قيام کيلئے نيا ٹرسٹ بنانے کی بھی ہدايت کردی ہے۔ قصرفاطمہ میں گرلز میڈیکل کالج بنانے پر فریقین نے رضا مندی ظاہر کردی ہے۔تحریری فیصلے میں قصر فاطمہ میں تقریبات سےحاصل آمدنی کی تفصیلات پیش کرنےکاحکم دیا گیا ہے۔

عدالت نے آفیشل اسائنی کو قصر فاطمہ میں موجود تمام اشیاءکی فہرست بنانےکاحکم بھی دیا ہے جبکہ عمارت کی تصاویر کے ساتھ رپورٹ بھی طلب کی گئی۔ عدالت نے یہ بھی حکم دیا کہ قصر فاطمہ کو گرلز میڈیکل ڈینٹل کالج میں تبدیل کرنے کے لیے جو تختی لگائی جائے گی اس پر تمام قانونی ورثا کے نام درج کئے جائیں گے۔

سندھ ہائی کورٹ نےقصرفاطمہ کیلئےموہٹہ پیلس کانام استعمال کرنےسےروک دیا

نو اکتوبر کو سندھ ہائی کورٹ نے قصر فاطمہ کے لیے موہٹہ پیلس کا نام استعمال کرنے سے روک دیا تھا۔ ناظرکی جانب سےسال 2016 میں پیش کی گئی رپورٹ کے مطابق محترمہ فاطمہ جناح کے ترکے میں 9کروڑ روپے کے ڈیفنس سیونگ سرٹیفکیٹس،اسٹاک کے شیئرز اور دیگر چیزیں شامل ہیں۔

موہٹہ پیلس کی تاریخ :۔

اس پیلس کا ڈیزائن آغا احمد حسین نے تیار کیا۔ ان کا شمار برصغیر کے پہلے مسلم آرکیٹیکٹ میں ہوتا ہے۔ یہ عمارت 18500 مربع فٹ رقبے پر تعمیر کی گئی۔ اس عمارت کے سامنےوالے حصے میں خوبصورت کھڑکیاں،محرابیں،پتھروں کے کنارے،چھوٹے گنبد اور دلکش ریلنگس ہیں۔

کراچی کے معروف تاریخ دان عثمان ڈموہی نے اپنی کتاب کراچی تاریخ کے آئینے میں ،درج کیا ہے کہ یہ پیلس شیورتن موہٹہ کے لیے تعمیر کیا گیا۔ شیورتن ماروڑی کاروباری شخصیت تھے۔انھوں نے پٹیالہ طرز کی عمارت تعمیر کروائی۔ آرکیٹیکٹ آغا احمد حسین نے جے پور سے آکر یہ عمارت ڈیزائن کی۔

سندھ ہائیکورٹ کا موہٹہ پیلس کومیڈیکل کالج میں تبدیل کرنے کاحکم

عمارت کی تعمیر میں مغل فن تعمیر کے انداز کو پیلے گزری اسٹون میں ڈھالا گیا اور جودھپوری پنک اسٹون کا بھی اس میں استعمال کیا گیا۔

پیرزادہ سلمان نے اپنی کتاب کراچی:لیگیسیز آف ایمپائرز میں بتایا ہے کہ شیورتن موہٹہ کی اہلیہ بیمار تھیں اور ڈاکٹرز نے انھیں مشورہ دیا تھا کہ سمندر کی تازہ ہوا ان کی صحت کے لیے مفید رہے گی۔

موہٹہ پیلس محکمہ اوقاف کی جانب سے ثقافتی ورثہ قراردئیے گئے مقامات میں شامل ہے۔ فاطمہ جناح کے انتقال کے بعد یہ عمارت ان کی بہن شیریں جناح کو منتقل ہوگئی اور انھوں نے وہاں رہائش اختیار کی۔ ان کے انتقال کے بعد یہ عمارت ٹرسٹیز کے نام منتقل ہوگئی اور ان کے درمیان تنازع شروع ہوا۔سال 1971 میں یہ عمارت سیل کردی گئی۔

عمارت سندھ حکومت کو فروخت کی گئی:۔

سال 1993 یا 1994 میں سندھ حکومت نے اس عمارت کے حصول کے لیے عدالت سے رجوع کیا۔ سندھ ہائی کورٹ میں چیف جسٹس صبیح الدین احمد کی سربراہی میں بینچ نے حکم دیا کہ عمارت کے تخمینے کے بعد اس کو سندھ حکومت کو فروخت کردیا جائے۔اس وقت اس عمارت کی قیمت 68 لاکھ روپے تھی۔ تاہم یہ سوال تھا کہ یہ رقم کہاں سے آئے گی۔ اس وقت کی وزیراعظم بےنظیر بھٹو نے وزیراعلیٰ سندھ محمود ہارون سے اس سلسلے میں بات کی۔اس وقت سیکریٹری کلچر خواجہ شاہد حسین تھے۔ ٹرسٹیز نے اس پر کوئی اعتراض نہیں کیا اور اس عمارت کو میوزیم میں تبدیل کرکےموہٹہ پیلس گیلری ٹرسٹ کا نام دیا گیا۔

سال 1947 کے بعد اس عمارت میں دفترخارجہ کے دفاتر قائم کئے گئے اور بعد میں اس میں فاطمہ جناح نے رہائش اختیار کرلی۔

اینڈومنٹ فنڈ ٹرسٹ کے تحت سندھ کے ثقافت ورثے ( موہٹہ پیلس ) کے تحفظ اور تعمیر نو کے لیے 1 کروڑ روپے مختص کئے گئے جس سے عمارت کی چھت کی مرمت اور لکڑی کا کام مکمل کیا گیا۔

کراچی:موہٹہ پیلس سے وابستہ اہم حقائق

ٹرسٹی حماد آخوند نے سماء ڈیجیٹل سے بات کرتےہوئے بتایا کہ اس عمارت کو اسپتال میں تبدیل کرنے کا عدالتی نوٹس تاحال موصول نہیں ہوا ہے۔ اس وقت اس عمارت میں پانی کا کوئی کنکشن نہیں ہے اورسیوریج کا نظام بھی غیر فعال ہے۔ اس ٹرسٹ کے زیادہ تر ٹرسٹیز انتقال کرچکے ہیں اور ان کے بیٹے ٹرسٹ کے ساتھ منسلک ہیں۔

  حماد آخوند نے مزید بتایا کہ یہ عمارت عدالت سے خریدی گئی تھی اور اس کے دستاویز بھی موجود ہیں۔ کسی بھی ٹرسٹیز نے اعتراض نہیں اٹھایا تھا کہ اس عمارت میں میوزیم کیوں بنایا گیا ہے۔

MOHATTA PALACE

Tabool ads will show in this div