مارخوروں کی گمشدگی کا معمہ

ایک مارخور کی قیمت 3 سے 4 کروڑ ہوتی ہے
بشکریہ پیک پی ایکس
بشکریہ پیک پی ایکس
بشکریہ پیک پی ایکس

مارخور کو میں نے پہلی بار سال 2019 میں دیکھا تھا، مگر اس کے سینگ دیکھ کر قریب جانے کی ہمت نہ ہوسکی۔ تاہم ساتھ موجود افراد نے اس بات کا احساس ضروری دلایا کہ یہ جانور کتنا نایاب اور اہم ہے۔ اج محکمہ وائلڈ لائف خیبر پختونخوا کی رپورٹ سامنے آنے پر اس قیمتی جانور کے ساتھ ہونے والے سلوک پر افسوس ہو رہا ہے۔ اس سارے معاملے میں جو میرا سوال ہے، اس سے غالباً بہت سے لوگ اتفاق کریں گے کہ اگر مارخوروں کا شکار نہیں ہوا تو وہ کہاں غائب ہوگئے ؟ زمین کھا گئی یا آسمان نگل گیا؟۔

مارخور کو پاکستان کا قومی جانور ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔ اس کے علاوہ مارخور ان 72 جانوروں کی فہرست میں شامل ہے جن کی تصاویر عالمی تنظیم برائے جنگلی حیات کے سنہ 1976 میں جاری کردہ خصوصی سکہ جات کے مجموعے میں موجود ہے۔ خاص کر کشمیری مار خور کو ایسے جانوروں کی صف میں شمار کیا جاتا ہے جن کا وجود اس وقت خطرے میں ہے، یا یوں کہا جائے کہ اگر ان کی حفاظت کیلئے مناسب اقدامات نہ کیے گئے تو مستقبل قریب میں یہ نسل کرہ ارض پر ہمیشہ کیلئے نایاب ہو سکتی ہے۔

پاکستان میں بلوچستان، کوہستان، چترال اور گلگت بلتستان کے علاقوں میں پاکستان کا یہ قومی جانور مارخور پایا جاتا ہے۔ ان علاقوں میں شکار کیے گئے مار خور کے سینگ بطور ٹرافی گھروں میں بھی آویزاں کیے جاتے ہیں۔

[caption id="attachment_2424923" align="aligncenter" width="888"] وائلڈ لائف کی جاری کردہ رپورٹ[/caption]

محکمہ وائلڈ لائف خیبر پختونخوا

حالیہ دنوں میں محکمہ وائلڈ لائف خیبر پختونخوا کی جانب سے ایک سروے رپورٹ جاری کی گئی ہے،  جس پر شدید تحفظات کا اظہار اور تنقید کی گئی ہے۔ رپورٹ میں بات کا انکشاف کیا گیا ہے کہ گزشتہ سالوں کے مقابلے میں نیشنل پارک وائلڈ لائف میں 2 سال کے دوران 868 مارخور کم ہوئے ہیں۔ دستاویز نے 2 سال میں مارخوروں کی تعداد میں نمایاں کمی کی تصدیق کی ہے۔ محکمہ وائلڈ لائف سروے رپورٹ کے مطابق 2019ء میں مارخوروں کی تعداد 2 ہزار 868 تھی، جب کہ گزشتہ برس 2020 میں مار خوروں کی تعداد کم ہوکر 2 ہزار رہ گئی ہے۔ یہاں یہ بات سوچنے والی ہے کہ ایک معدوم ہوتی اس نایاب نسل کے غیر قانونی شکار پر پابندی کے باوجود یہ تعداد کیسے کم ہوئی ہے۔

مارخور

چترال گول کمیونٹی ڈویلپمنٹ اینڈ کنزرویشن و پارک

سماء نے جب اس سلسلے میں مار خور کی متنازعہ تعداد اور محکمہ کے پی وائلڈ لائف کی رپورٹ پر چترال گول کمیونٹی ڈویلپمنٹ اینڈ کنزرویشن و پارک ایسوسی ایشن کے چیرمین و ممبران سلیم الدین کا مؤقف جاننا چاہا تو ان کا کہنا تھا کہ ہم گزشتہ 3 سالوں سے محکمہ وائلڈ کی توجہ اس خطرناک مسئلے کی جانب مبذول کرارہے تھے کہ شکار کے باوجود چترال کے وہ علاقے جہاں شکار ممنوع ہے وہاں کیسے مارخور کی تعداد کم ہو رہی ہے۔ ہم نے ان کو مختلف رپورٹس بھی شیئر کی تاہم ہمیں کوئی تسلی بخش جواب نہ مل سکا۔

محکمہ وائلڈ لائف نے مارخور کی کم تعداد پر یہ فلسفہ پیش کیا کہ برف باری کی وجہ سے ہم ان کا سروے نہیں کرسکے۔ تاہم اسی جاری کردہ رپورٹ میں وائلڈ لائف نے اپنی ہی بات کے الٹ دوسرے پیراگراف میں یہ لکھا ہے کہ برف باری نہ ہونے کے باعث یہ مارخور پہاڑوں سے نیچے نہیں آئے، جس کی وجہ سے ہم سروے میں انہیں نہیں گنت سکے۔ وائلڈ لائف والوں کے اپنے سروے میں صاف صاف تضاد موجود ہیں۔

صرف یہ ہی نہیں بلکہ بائیو ڈائورسٹی کے حکام کیساتھ انہوں نے الگ ڈیٹا شیئر کیا ہے کہ ان علاقوں میں مارخور کی موجودہ تعداد یہ ہے، تاہم حقیقت میں اس ڈیٹا میں موجود تعداد بھی درست نہیں۔

چترال میں مارخور کی حفاظت مامور ہم لوگوں یہ بات یقین سے کہہ سکتے ہیں کہ وائلڈ لائف کی جاری کردہ اعداد و شمار میں جس تعداد کا ذکر ہے وہ اصل میں اس سے کئی کم ہے۔ وائلد لائف رپورٹ میں 2000 جب کہ ہماری اطلاعات کے مطابق یہ تعداد اب 1200 سے 800 تک رہ گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس نایاب کو کرہ ارض سے ختم ہونے کیلئے بچانے کیلئے ضروری ہے کہ کوئی تیسری پارٹی یہ سروے کرے تاکہ شفاف تحقیقات سے یہ بات سامنے آسکے کہ پابندی کے باوجود یہ مارخور گئے کہاں؟۔

انہوں نے کہا کہ محکمے سے زیادہ یہ اس کمیونٹی کا نقصان ہے جو ان کے تحفظ کیلئے کام کرتا آرہا ہے۔ جب مقامی رضا کاروں نے ان کے تحفظ کیلئے ذمہ داریاں سنبھالی تھیں تو چترال نیشنل پارک میں اس وقت یہاں تقریبا 200 کے قریب مارخور موجود تھے، جو ہمارے اقدامات کے بعد بڑھ کر 2800 تک جا پہنچے تھے۔ ہم نے اس جانور کو بچانے کیلئے اتنی احتیاط کرتے ہیں کہ اس جنگل اور نیشنل پارک سے لکڑیاں بھی نہیں کاٹی جاتیں تاکہ انہیں مکمل تحفظ کا احساس رہ سکے۔

انہوں نے خدشہ ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ مارخور کا غیر قانونی شکار جاری ہے، اس یہ سب حکومتی سطح پر ہو رہا ہے۔ سلیم الدین کے مطابق وہ مارخور جو دور علاقوں میں نہیں جا سکتے تھے اب وہ بھی نظر ہیں آرہے ہیں۔

مارخور کیا کھاتے ہیں

اس سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ مارخور بالود کے پتے، گریزنگ اور گھاس کھاتے ہیں۔

مارخور کس طرح کی جگہوں پر رہتے ہیں

گرمیوں کے موسم میں نر مارخور اونچائی پر رہنا پسند کرتا ہے اور پہاڑوں کے اوپر چلا جاتا ہے۔ جب کہ مادہ مارخور جس علاقے میں موجود ہو، وہ اپنے بچوں کے ہمراہ اسی علاقے میں رہتی ہے۔

کنزرویٹر مالاکنڈ ڈویژن

محکمہ وائلڈ لائف کے پی کے کنزرویٹر مالاکنڈ ڈویژن ڈاکٹر فضل باقی کا کہنا ہے کہ مارخور کی تعداد میں کمی موسمیاتی تبدیلوں کے باعث رونما ہوئی ہے، جس رضا کار یکسر طور پر مسترد کرتے ہیں۔ چترال رضا کاروں کے مطابق اگر ایسا ہوتا تو موسمی تبدیلیاں صرف ایک نسل کے جانور پر اثر انداز نہیں ہوتی کیوں کہ ان کی اپنی رپورٹ میں موسمی تبدیلیوں کے باعث آئیبکس کی تعداد میں اضافہ ظاہر کر رہی ہے، جو کہ 200 فیصد اضافہ ہے۔ یہ رپورٹ کوئی جاری کرتے ہیں اور بیانات کچھ اور دیتے ہیں۔

انہوں نے مزید بتایا کہ اگر موسمی تبدیلیوں سے فرق پڑتا بھی ہے اور سب سے پہلے اس کے اثرات پودے اور درختوں پر نظر آتے ہیں اور اس کے بعد ایسے جانور پر اثر کرتا ہے، جو الپائن لیول سے بھی اونچائی پر رہتا ہے جیسے آئیبیکس ہے۔

اجمل وزیر خان نے گوشت کیسے کھایا

 اس موقع پر انہوں نے کچھ عرصہ قبل کے پی کے سابق وزیر کی اس پوسٹ کا ذکر بھی کیا جو سوشل میڈیا پر خوب وائرل ہوئی تھی، جس میں اجمل خان وزیر کچھ صحافیوں اور دیگر افراد کے ہمراہ نظر آرہے تھے اور تصویر کا کیپشن تھا کہ مارخور کا گوشت بہت لذیذ تھا جس کیلئے اجمل وزیر خان کا شکریہ۔ انہوں نے یہ گوشت کیسے کھایا ؟ اور ان کو یہ گوشت کہاں سے ملا۔ صرف یہ ہی نہیں بلکہ بہت سے ایسے صحافی بھی ہیں، جنہوں نے برملا اس بات کا اظہار اور اس بات کو قبول کیا ہے کہ انہوں نے مارخور کا گوشت کھایا ہے، جیسے جاوید چوہدری اور انعام اللہ خٹک وغیرہ۔

مارخور کے شکار میں استعمال ہونے والا اسلحہ کہاں گیا

سلیم الدین نے بتایا کہ مارخور کے شکار کیلئے استعمال ہونے والی نشہ آور گن سرکاری اسلحہ ہوتی ہے، تاہم یہ گن کئی عرصے تک ایک شخص کے گھر میں غیر قانونی طور پر موجود رہی، جس کا مطلب یہ نکلتا ہے کہ ہوسکتا ہے یہ گن غیر قانونی شکار میں استعمال کیلئے اس کے گھر میں موجود ہو۔ جب رضا کاروں اور کمیونٹی کی جانب سے احتجاج کیا گیا تو سرکاری گن کو تحویل میں لیا گیا۔ یہ ایک حساس گن ہوتی ہے، یہ سرکاری تحویل سے نکل کر کیسے کسی کے گھر تک پہنچی، اس پر بھی سوال ہونا چاہیئے۔

مارخور کی افزائش نسل

مارخور کی بریڈنگ کیلئے بہترین موسم سرد موسم ہوتا ہے۔ سردیوں کی آمد پر ان کا بریڈنگ سیزن شروع ہوتا ہے۔ جو عموماً دسمبر کا پہلا ہفتہ ہوتا ہے، بارشوں کی صورت میں یہ بریڈنگ کا سلسلہ ایک زرا پہلے شروع ہو جاتا ہے، جب کہ خشک سالی کے باعث بریڈنگ کا سلسلہ دیر سے شروع ہوتا ہے۔ مادہ مارخور 135-170 روز تک حاملہ رہتی ہے۔ جون جولائی میں جا کر یہ بچے دیتے ہیں۔ مارخور کے ہاں ایک وقت میں 2 بچوں کی پیدائش ہوتی ہے۔ یہاں انہوں نے اس بات کی نشاندہی کی کہ حکومت یقین دہانی کے باوجود آج تک ان کی افزائش نسل کیلئے حکومت نے کوئی عملی اقدامات نہیں کیے ہیں۔

رضا کاروں کو فنڈز کہاں سے ملتے ہیں

اس سوال پر انہوں نے بتایا جو حکومت کی جانب سے ہمیں فنڈز دینے کا اعلان کیا گیا تھا وہ سال 2016 سے بند پڑا ہے۔ ہم رضا کارانہ طور پر چندہ اکھٹا کرتے ہیں اور ان کی حفاظت کیلئے کام کرتے ہیں۔

مارخور کو مار کر کیا کیا جاتا ہے

جس پر سلیم الدین نے بتایا کہ جو غیر ملکی مارخور کے شکار کیلئے آتے ہیں، وہ اس کے شکار کے بعد ان کے سینگ، کھال اور سر اپنے ساتھ لیکر جاتے ہیں۔ مارخور کے سینگ جتنے بڑے ہوتے ہیں، اس لحاظ سے اس کے ریٹ بھی زیادہ ہوتے ہیں۔ غیر ملکی عموماً شکار کے وقت مارخور کو ذبح نہیں کرنے دیتے ہیں۔ جب شکار کیے گئے مارخور کے گوشت سے متعلق سوال کیا گیا تو وہ معلومات نہ ہونے کے باعث جواب دینے سے قاصر تھے۔

ڈبلیو ڈبلیو ایف کا متنازعہ کردار

مارخور کی افزائش نسل اور ان کی حفاظت سے متعلق انہوں نے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس تمام تر معاملے میں ڈبلیو ڈبلیو ایف کا کردار انتہائی متنازعہ رہا ہے۔ وہ سب سے زیادہ اس معاملے میں خاموش رہے ہیں۔ یہ مسئلہ ان کے دائر کار میں بھی آتا ہے، تاہم وہ اس سلسلے میں کوئی کردار ادا نہیں کرسکے ہیں جس پر لوگوں نے بھی تنقید کی ہے۔ ابھی تک ڈبلیو ڈبلیو ایف کی جانب سے اس معاملے پر پوچھا تک نہیں گیا۔ سماء ڈیجیٹل نے جب اس سلسلے میں ڈبلیو ڈبلیو ایف کا مؤقف جاننا چاہا تو ہمیں کوئی جواب موصول نہ ہوا۔

پاکستان میں مارخور کہاں کہاں پائے جاتے ہیں

پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے علاقے چترال، شمالی علاقہ جات گلگت بلتستان، پاکستان کے زیر انتظام کشمیر اور صوبہ بلوچستان میں مارخور کے کئی قسمیں پائی جاتی ہیں۔ تاہم ان میں استور مارخور، کشمیر مارخور، سلیمان مارخور اور چلتن مارخور قابل ذکر ہیں۔ چترال میں موجود مارخور کشمیری مارخور ہے۔ جو دنیا میں پاکستان کے علاوہ کہیں نہیں پایا جاتا ہے۔ ان کے سینگوں کی لمبائی سترانچ سے زیادہ ہے۔

بلوچستان میں پایا جانے والا مارخور سیلمان مارخور ہوتا ہے۔ یہ وہ مارخور نہیں جن کی نسل معدوم ہوتی جا رہی ہے یا جن کی نسل کو خطرہ ہے۔

چترال گول پارک

پاکستان میں ایک اندازے کے مطابق نیشنل پارکس کی تعداد مجموعی طور پر 28 ہے جن میں سے بیشتر صوبائی حکومتوں کے زیرِتحت ہیں۔ چترال نیشنل گول پارک کا کل رقبہ 7745 ایکڑ ہے۔ یہ چترال کے پہاڑی سلسلے میں واقع ہے، ہزاروں ایکڑ رقبے پرمحیط گول نیشنل پارک کی اونچائی سطح سمندر سے تقریباً دس ہزار سے بارہ ہزارفٹ تک بلند ہے۔

گول نیشنل پارل کی سرحدیں افغانستان سے ملتی ہیں تاہم یہ بین الاقوامی نیشنل پارک پاکستان کا حصہ ہے۔

چترال گول نیشنل پارک پاکستان کا وہ واحد نیشنل پارک ہے جس میں ایک ساتھ 4 قومی چیزوں کا خزانہ موجود ہے۔ یہاں آپ کو قومی پھول ( چمبیلی)۔ قومی درخت، قومی پرندہ ( چکور) اور قومی جانور ( مارخور) شامل ہے۔ انہوں نے بتایا کہ چترال میں مارخور کیلئے سب سے بہترین رہائش کی جگہ چترال گومل نیشنل پارک ہے۔ ان کیلئے سب سے زیادہ خوراک بھی یہاں میسر ہے۔ یہاں پائے جانے والی مارخور بالود کے پتے، گریزنگ اور گھاس کھاتے ہیں۔

سب سے نایاب مارخور کہاں ہے

چترال میں موجود مارخور دنیا کا نایاب ترین مارخور ہے، جس کی ختم ہوتی نسل کے تناظر میں اسے اقوام متحدہ کی ریڈ لسٹ میں بھی شامل کیا گیا ہے۔

چترال میں پایا جانے والا اس نایاب نسل کا کشمیری مارخور دنیا کے کسی کونے میں موجود نہیں۔

مارخور کی تعداد کیلئے سروے کیسے ہوتا ہے؟

چیئرمین اس پر سلیم الدین نے بتایا کہ مارخور کے سروے کیلئے حکام ان پوائنٹس کا رخ کرتے ہیں جہاں یہ مارخور پائے جاتے ہیں۔

وہاں یہ حکام جا کرتے بیٹھتے ہیں اور ان کی تعداد کو گنتے ہیں۔ یہ سروے سال میں 2 بار کیا جاتا ہے۔ ایک سردی میں اور دوسرا بہار کے موسم میں کیا جاتا ہے۔

دوسری اہم بات یہ کہ مارخور ہمیشہ جھنڈ میں رہتے اور سفر کرتے ہے۔ یہ عام طور پر اکیلئے نہیں پھرتے۔ اس لیے بھی ان کی تعداد کا اندازہ لگانا آسان ہوتا ہے۔

تعداد میں کمی کی وجوہات

اس سلسلے میں سلیم الدین نے بتایا کہ جیسے کہ مقامی افراد کو ان مارخور کے بارے میں علم ہوتا ہے کہ یہ کہاں کہاں پائے جاتے ہیں، جس کی بنا پر ہم ان کی حفاظت اور رکھوالی کرتے ہیں، تاہم کچھ عرصے سے جن پوائنٹس پر یہ مارخور پائے جاتے تھے وہاں یہ اب نظر نہیں آرہے۔ جب کہ دیگر رضا کارانہ طور پر کام کرنے والے افراد نے بھی اس جانب توجہ دلائی ہے کہ مارخور اپنے اپنے کچھ مخصوص علاقوں میں نظر نہیں آرہے ہیں۔

اس سلسلے میں مقامی لوگوں کا یہ ماننا ہے کہ مارخور کے غائب ہونے میں محکمے کے اپنے ہی لوگ ملوث ہے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ یہ تعداد جو کم ہوئی ہے وہ گزشتہ 3 سالوں میں زیادہ کم ہوئی ہے۔ مارخور کی حفاظت کیلئے متعین کردہ ٹیکسز میں بھی یا تو کٹوتی کردی گئی ہے یا پھر انہیں بند کردیا گیا ہے۔

محکمہ وائلڈ لائف کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ محکمے سے ہم غائب ہونے والے مارخور پر سوال کرتے ہیں تو ان کی جانب سے یہ مؤقف اپنایا جاتا ہے کہ وہ مر گئے ہیں، تاہم ایسا کیسے ممکن ہے کہ چلیں مار خور مر گیا مگر اس کے سینگ کہاں گئے وہ تو مٹی میں نہیں مل سکتے نا، اگر ان کی بات جائز ہے بھی تو ان مرے ہوئے مارخور کے سینگ موجود ہونے چاہیئے اور اگر کہیں بیچ دیئے گئے ہیں تو اس کا ریکارڈ کہاں ہے؟۔

مارخور کے سینگ

یہاں دلچسپ بات یہ ہے کہ مارخور کے مرنے کے بعد اس کے سینگ گوشت کی طرح مٹی میں تحلیل نہیں ہوتے ہیں اور ایک سینگ کی قیمت تقریبا 4 سے 5 لاکھ پاکستانی روپے ہوتی ہے۔

عبدالا اکبر چترالی

ممبر قومی اسمبلی چترال مولانا عبد الاکبر چترالی نے چترال گول نیشنل پارک میں روز بروز گھٹتی مارخوروں کی تعداد پر شدید رد عمل کا اظہارکرتے ہوئے کہا ہے کہ چیف کنزر ویٹر وائلڈ لائف اور ڈی ایف او وائلڈ لائف کی غفلت عدم دلچسپی اور فرائض سے لاپرواہی سے اس قومی اور نایاب جانور کی نسل معدوم ہوتی جا رہی ہے۔ مولانا عبد الاکبر چترالی کا کہنا ہے کہ قومی جانوروں کا غیر قانونی شکار ہو رہا ہے۔ کروڑوں روپے کے فنڈز کے باوجود مارخور کی نسل ختم ہو رہی ہے۔

اسی وجہ سے پروٹیکیڈ ایریا منیجمنٹ پراجیکٹ کے تحت مارخور کی افزائش کیلئے اسے نیشنل پارک قرار دیا گیا تھا ۔ جس کیلئے نے بیس کروڑ روپے فراہم کئے تھے۔ اس سے جنگل کے تحفظ کیلئے تئیس واچرز اور دیگر اسٹاف رکھے گئے ۔ جس سے مارخوروں کی تعداد بڑھ کر 2868 تک پہنچ گئی تھی، تاہم بد قسمتی سے سنہ 2016 سے اسٹاف کو تنخواہیں دینا بند کر دیا گیا ۔ جس سے نیشل پارک میں مارخوروں کی تعداد میں مسلسل کمی آئی۔ اب وائلڈ لائف ڈویژن چترال گول کے سروے کے مطابق ماخوروں کی تعداد دو ہزار رہ گئی ہے۔ جب کہ حقیقت میں ان کی تعداد 800 سے بھی کم رہ گئی ہے۔

مولانا چترالی نے مزید بتایا کہ یہ وائلڈ لائف ڈویژن چترال گول اور چیف کنزر ویٹر وائلڈ لائف کی ناکامی کا منہ بولتا ثبوت ہے کہ ترقی کرتا نیشنل پارک زبو حالی کا شکار ہو چکا ہے، جس سے چترال کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا ہے۔ حکومت غیر جانبدار ادارے کے ذریعے ماخوروں کا سروے کر کے صحیح تعداد کو سامنےلایا جائے۔ غفلت کے مرتکب آفسران کے خلاف انکوئری کی جائے۔ نیشنل پارک کے انتظامات کیلئے پارک ایسوسی ایشن کو فنڈ ریلیز کیا جائے، تاکہ پارک کے ملازمین کی تنخواہیں ادا کی جا سکیں۔

ممبر قومی اسمبلی نے مطالبہ کیا کہ وزیر اعلی کی طر ف سے اعلان کردہ ایک ہزار فارسٹ گارڈ میں سے چالیس فارسٹ گارڈز اور کمیونٹی واچرز کی آسامیاں چترال گول نیشنل پارک کیلئے مخصوص کئے جائیں اور ایمر جنسی کیلئے اسٹاک پائل فراہم کیا جائے۔ انہوں نے اسلام آباد میں کے قائم کردہ انڈومنٹ فنڈ کو خیبرپختونخوا منتقل کرنےکا بھی مطالبہ کیا۔

اس موقع پر پارک ایسوسی ایشن کے صدر سلیم الدین نے کہا ۔ کہ نیشنل پارک سے متعلق مطالبات منظور نہ ہونے کی صورت میں مقامی کمیونٹی نیشنل پارک پر اپنا حق استفادہ دوبارہ بحال کرے گی ۔ جس کی تمام تر ذمہ داری محکمہ وائلڈ لائف اور ایف پی اے پر عائد ہوگی۔

مارخور، آئی بیکس، اڑیال، بلیو شیپ، چترال، ٹرافی ہنٹنگ، گلگت بلتستان، پاکستان

ٹرافی ہنٹنگ

پاکستان میں ٹرافی ہنٹنگ کا آغاز 21 ویں صدی میں ہوا۔ محکمہ وائلڈ لائف کے مطابق ٹرافی ہنٹنگ ایک ایسا ذریعہ ہے جس کی مدد سے وہ جنگلی حیات کے تحفظ کے لیے کام کرتے ہیں۔ ٹرافی ہنٹنگ کیلئے سال میں ایک سے 2 پرمٹ جاری کیے جاتے ہیں۔ نیشنل پارک میں ٹرافی ہنٹنگ کی اجازت نہیں ہوتی ہے۔ ٹرافی ہنٹنگ کیلئے اکثر مارخور کی بولی 2 سے 3 کروڑ بھی لگائی جاتی ہے۔

اس سے قبل سن 2020 میں ضلع چترال کے علاقے توشی میں امریکی شہری جوزف بریڈ نے 85 ہزار امریکی ڈالر کے عوض 39 انچ لمبے سینگ والے مارخور کا شکار کیا۔ یہ شکار تیر کمان کے ذریعے کیا گیا جب کہ اس کے برعکس عام طور پر شکار کے لیے جدید ہتھیار کا استعمال کیا جاتا ہے۔

ٹرافی ہنٹنگ کیلئے 3 سے 4 علاقے ہیں۔

ٹرافی ہنٹنگ کیلئے 15 سے 30 سال کے درمیان کے مارخور کو شکار کیلئے منتخب کیا جاتا ہے، پھر یہ بھی دیکھا جاتا ہے کہ کس مارخور کے سینگ زیادہ بڑھے ہیں، کیوں کہ جو غیر ملکی شکار کیلئے آتے ہیں، انہیں زیادہ بڑے والے سینگ کے مارخور میں زیادہ دلچسپی ہوتی ہے۔

شکار کیلئے چھوٹے مارخور یا مادہ مارخور کا شکار نہیں کیا جاتا ہے۔

وائلڈ لائف حکام

خیبر پختونخوا میں سال 2020 میں ماخور کے شکار کیلئے 4 لائسنس جاری کے گئے ہیں۔ یہ چاروں لائسنس ڈیڑھ لاکھ ڈالر فی لائسنس کی قیمت پر فروخت ہوئے۔

گلگت بلتستان کیلئے سال 2019 میں سب سے زیادہ لائسنس جاری کیے گئے۔ ان میں 100 آئی بیکس، چار مارخور اور 19 بلیو شیپ شامل ہیں۔ ان میں بلیو شیپ کے لائسنس کی کم از کم قیمت 8100 ڈالر، آئی بیکس 5000 ڈالر جبکہ مارخور کی قیمت ایک لاکھ ڈالر رکھی جاتی ہے۔

ٹرافی ہنٹنگ کی رقم

مارخور کے ٹرافی ہنٹنگ سے ملنے والی رقم کا 80 فیصد مقامی آبادی میں تقسیم کیا جاتا ہے جبکہ 20 فیصد رقم اس قومی جانور کے تحفظ پر لگا دی جاتی ہے۔ آج کل اس جانور کے تحفط میں مقامی افراد ہی سب سے زیادہ پیش پیش رہے ہیں۔ مقامی لوگوں کے مطابق بیشتر رقم علاقے میں بنیادی ڈھانچہ بہتر بنانے پر خرچ کی جاتی ہے۔

مارخور کا شکار کرنے کےلیے ہر سال امریکہ، برطانیہ، سپین، روس، ترکی اور دیگر یورپی ممالک سے بڑی تعداد میں شکاری لاکھوں روپے خرچ کرکے پاکستان آتے ہیں۔ غیر ملکی شکاریوں کےلیے کسی بھی نایاب جانور کا شکار کرنا ایک بڑا کھیل سمجھا جاتا ہے اور پھر مارخور اس وجہ سے بھی اہمیت کا حامل ہے کیونکہ اس کے سینگ دنیا بھر میں منفرد سمجھے جاتے ہیں جنہیں شکاری اپنے پاس ہمیشہ ہمیشہ کے لیے محفوظ کردیتے ہے۔

مارخور کو انٹرنیشنل یونین فار کنزرویشن آف نیچر کی ریڈ لسٹ میں خطرے سے دوچار کے طور پر درج کیا گیا ہے۔

پاکستان میں مارخور کے سینگوں کی دو بنیادی شکلیں سیدھی اور بھڑکتی ہیں۔ سیدھے سینگوں کی مثالیں کابل اور سلیمان مارخور ہیں، جو 3 سرپل تک بنتے ہیں، پہلے والے کھلے اور ڈھیلے موڑ کے ساتھ اور بعد والے ایک کھلے اور تنگ موڑ کے ساتھ جو کارک سکرو سے مشابہت رکھتے ہیں۔ کشمیر مارخور میں ہلکے سے درمیانے درجے کے بھڑکتے ہوئے سینگ ہوتے ہیں، بڑے سینگ سرپل میں 2-3 موڑ ہوتے ہیں، اور استور مارخور کے سینگ بیس کے قریب بڑے پیمانے پر بھڑکتے ہیں اور عام طور پر 1.5 سے زیادہ نہیں ہوتے۔ ان چار مارخور ذیلی انواع میں سے ہر ایک کو مخصوص درجہ بندی کا درجہ دیا گیا ہے۔

خطرہ

ڈبلیو ڈبلیو ایف کے مطابق مارخور کو درپیش خطرات میں متعدد عوامل شامل ہیں، جیسے آبادی، گوشت اور کھیل (ٹرافیاں) کا شکار، رہائش گاہ کی تبدیلی اور تجاوزات، باڑ لگانا، چارے کیلئے گھریلو مویشیوں کے ساتھ مقابلہ، مویشیوں میں بیماری کی منتقلی اور جگہ اور انسانوں میں اضافہ شامل ہیں۔

ANIMAL

HUNTING

Trophy Hunting

RED LIST

Tabool ads will show in this div