ایشلے بارٹی 100ہفتے عالمی نمبر ایک پر براجمان پہلی آسٹریلین

رواں سال ومبلڈن سنگلز ٹائٹل سمیت 5 ٹینس ٹورنامنٹ جیتے

آسٹریلیا کی25 سالہ ٹینس اسٹار ایشلے بارٹی ڈبلیو ٹی اے کی تازہ ترین ریکنگ میں عالمی نمبر ایک کی پوزیشن پر 100 ہفتے فائز رہنے والی دنیا کی آٹھویں اور آسٹریلیا کی پہلی خاتون کھلاڑی ہیں۔

ایشلے بارٹی مینز اور ویمنز کیٹیگری دونوں میں عالمی نمیر ایک کی حیثیت سے 100 ہفتے کا سنگ میل عبور کرنے والی پہلی آسٹریلوی کھلاڑی ہیں ۔ ان سے قبل آسٹریلیا کے سابق ٹینس اسٹار لیٹن ہیوٹ 80 ہفتے تک عالمی نمبر ایک کی پوزیشن پر فائز رہے تھے۔

ایشلے بارٹی کو یہ سنگ میل عبور کرنے میں کا 11 سال کا عرصہ لگا۔ انہوں نے اپریل 2010 میں پروفیشنل ٹینس کا آغاز کیا تھا۔ ایشلے بارٹی پہلی مرتبہ عالمی نمبر ایک کی پوزیشن پر 24 جون 2019 کو فائزہوئی تھیں جب انہوں نے جاپان کی ناﺅمی اوساکا کو اس اعزاز سے محروم کیا تھا ۔ بارٹی اپنے پہلے مرحلے میں صرف سات ہفتے عالمی نمبر ایک رہیں اور ناﺅمی اوساکا نے ان کو پھر اس پوزیشن سے محروم کر دیا تھا لیکن ایشلے بارٹی چارہفتے بعد دوبارہ عالمی نمبر ایک بن گئیں۔

اس کے بعد سے وہ ہنوز اس پوزیشن پر براجمان ہیں ۔ 2020 میں کرونا وائرس پینڈامک کی وجہ سے ٹینس ٹورنامنٹ منسوخ کر دیئے گئے تھے اور ڈبلیو ٹی اے نے ٹینس رینکنگ کو بھی منجمد کر دیا گیا تھا جو تقریباً 20 ہفتے تک جوں کی توں رہی تھی ۔ ٹینس ٹورنامنٹس کی بحالی کے بعد ایشلے بارٹی اپنی متاثر کن کارکردگی کی وجہ سے اس پوزیشن پر بدستور اپنا قبضہ جمائے ہوئے ہیں ۔ انہوں نے سال رواں میں ومبلڈن سنگلز ٹائٹل سمیت پانچ ٹائٹلز جیتے ہیں۔

ڈبلیو ٹی اے کی عالمی ٹینس رینکنگ 1975 میں متعارف کروائی گئی تھی  مجموعی طور پر دنیا کی 27 کھلاڑی عالمی نمبر ایک کی پوزیشن پر براجمان ہوئی ہیں جن میں سات امریکی کھلاڑی ہیں لیکن اس پوزیشن پر 100 ہفتے تک قابض رہنے کا اعزاز صرف آٹھ کھلاڑیوں کو حاصل ہو سکا ہے۔ امریکہ کی کرس ایورٹ 3 نومبر 1975 کو پہلی بار عالمی نمبر ایک کے عہدے پر فائز ہوئی تھیں اوراس کے بعد وہ مسلسل 25 ہفتے اس پوزیشن پر براجمان رہیں ۔

انہیں آسٹریلیا کی ایوان گولاگونگ کاولی نے اس اعزازسے محروم کیا تھا لیکن وہ دو ہفتے سے زیادہ اس پوزیشن کو برقرار نہ رکھ پائیں اورکرس ایورٹ نے ان سے یہ پوزیشن چھین لی تھی جس کے بعد کرس ایورٹ مسلسل 113 ہفتے عالمی نمبر ایک کے منصب پر موجود رہیں ۔ امریکہ کی مارٹینا نیورا ٹیلووا نے کرس ایورٹ کو 10 جولائی 1978 کو اس پوزیشن سے محروم کر دیا تھا۔

ڈبلیو ٹی اے کی عالمی رینکنگ کے اجراکے بعد عالمی نمبر ایک کی پوزیشن حاصل کرنے والی کھلاڑیوں میں امریکہ کرس ایورٹ ‘ مارٹینا نیوا ٹیلووا ‘ ٹریسی آسٹن ‘ لنزے ڈیونپورٹ ‘ جینیفر کیپریاٹی ‘ وینس ولیمز ‘ سرینا ولیمز ‘بلجیئم کی جسٹن ہینن ‘ کم کلسٹرز ‘ جرمنی کی اسٹیفی گراف ‘ اینجلک کیربر ‘ اسپین کی ارنتزا سانچیز ویکاریو ‘ گاربین موگوروزا ‘ سربیا کی اینا ایوانووچ اور جلینا جانکووچ ‘سوئیزرلینڈ کی مارٹینا ہنگز‘ روس کی ماریہ شراپووا ‘ دینارا سفینہ ‘ ڈنمارک کی کیرولین وزنیاسکی ‘ بیلا روس کی وکٹوریہ آزارینکا ‘ رومانیہ کی سیموناہالیپ ‘ جمہوریہ چیک کی کیرولینا پلسکووا ‘ جاپان کی ناﺅمی اوساکا ‘ آسٹریلیا کی ایوان گولاگونگ کاﺅلی ‘ ایشلے بارٹی ‘ فرانس کی ایمیلی موریسمو ‘ یوگو سلاویہ اور امریکہ کی مونیکا سیلیز شامل ہیں ۔

مونیکا سیلیز کو یہ منفرد اعزازحاصل ہے کہ انہوں نے دو ملکوں کی نمائندگی کرتے ہوئے عالمی نمبر ایک کی پوزیشن حاصل کی تھی۔

ڈبلیو ٹی اے عالمی رینکنگ میں جرمن لیجنڈ اسٹیفی گراف سب سے زیادہ 377 ہفے فائز رہنے کے ساتھ سرفہرست ہیں جبکہ ٹینس لیجنڈ مارٹینا نیوراٹیلووا ( امریکہ ) 332 ہفتے ‘ سرینا ولیمز( امریکہ) 319 ہفتے ‘ کرس ایورٹ ( امریکہ )260 ہفتے ‘ سوئس مس مارٹینا ہنگز ( سوئیزرلینڈ ) 209 ہفتے ‘ مونیکا سیلیز ( یوگوسلاویہ ‘ امریکہ ) 178 ہفتے اور جسٹن ہینن ( بلجیئم ) 117 ہفتے عالمی نمبر ایک کی پوزیشن پر فائز رہ چکی ہیں۔

مینز اور ویمنز ٹینس میں آسٹریلیا کے پانچ کھلاڑی عالمی نمبر ایک کی پوزیشن پر فائزہوئے ہیں ۔ مینز کیٹگری میں آسٹریلیا کے جان نیوکومب (8 ہفتے ) ‘ پیٹرک رافٹر ( ایک ہفتے ) اور لیٹن ہیوٹ(80 ہفتے ) عالمی نمبر ایک کی پوزیشن پر فائز رہے۔ پیٹرک رافٹر نے آندرے اگاسی کو عالمی نمبرایک کے اعزاز سے محروم کیا تھا جبکہ پیٹ سمپراس نے صرف ایک ہفتے بعد رافٹر سے یہ پوزیشن چھین لی تھی ۔

ویمنز کیٹیگری میں گولاگونگ کاﺅلے بھی صرف دو ہفتے عالمی نمبر ایک رہی تھیں ۔ گولاگونگ کو ڈبلیو ٹی اے کی تاریح میں دوسری عالمی نمبر ایک کھلاڑی ہونے کا اعزاز حاصل ہے ۔ انہوں نے کرس ایورٹ سے یہ اعزاز چھینا تھا تاہم بعد میں کرس ایورٹ نے گولاگونگ کو اس پوزیشن سے محروم کردیا تھا ۔

آسٹریلوی ٹینس اسٹار ایشلے بارٹی کو مارٹینا ہنگز کا اپ گریڈڈ ورژن قرار دیا جاتا ہے۔ ایشلے بارٹی کو عالمی رینکنگ میں دوسرے نمبر پر موجود اریانا سبالینکا پر تقریباً 1550 پوائنٹس کی سبقت حاصل ہے۔ اس واضح برتری کو مد نظر رکھتے ہوئے یہ بات یقینی دکھائی دیتی ہے کہ بارٹی کو اس پوزیشن سے محروم کرنے کیلئے حریف کھلاڑیوں کو غیر معمولی کارکردگی کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔

آسٹریلوی ٹینس اسٹار بارٹی اپنے پوائنٹس میں مزید اضافہ کر سکتی تھیں لیکن بارٹی نے گزشتہ دنوں کوئی وجہ بتائے بغیر ڈبلیو ٹی اے انڈین ویلس ٹورنامنٹ سے اپنا نام واپس لے لیا تھا۔ کرونا پینڈامک کی وجہ سے یہ ٹورنامنٹ بھی تیسری بار ری شیڈول ہوا تھا۔ بارٹی نے اس سے قبل دو مرتبہ اس ایونٹ میں شرکت کی تھی لیکن وہ راﺅنڈ 16 سے آگے نہیں بڑھ سکی تھیں ۔

ایشلے بارٹی نے یوایس اوپن میں شکست کے بعد کسی بھی ٹینس ٹورنامنٹ میں شرکت نہیں کی جس میں انہیں تیسرے راﺅنڈ میں امریکہ کی شیلبی روجرز نے حیرت انگیز طورپر ہرا کر اپ سیٹ کیا تھا حالانکہ وہ ٹاپ سیڈ اور فیورٹ کے طورپر نیو یارک گئی تھیں۔ اس سے قبل ٹوکیو اولمپکس میں بھی فیورٹ ایشلے بارٹی کو ہسپانوی کھلاڑی نے ہرا کر بڑا اپ سیٹ کر دیا اور ان کی گولڈ میڈل جیتنے کی خواہش کو خاک میں ملا دیا تھا تاہم ایشلے بارٹی مکسڈ ڈبلز میں برانزمیڈل جیتنے میں کامیاب ہو گئی تھیں۔

انڈین ویلس ایونٹ سے نام واپس لینے کے بعد ایشلے بارٹی نے باقی ماندہ ٹینس سیزن میں حصہ نہ لینے کا اعلان کر دیا تھا جس کا مطلب یہ تھا کہ وہ ڈبلیو ٹی اے فائنلز میں شرکت نہیں کریں گی ۔ وہ اس ٹورنامنٹ میں دفاعی چیمپئن تھیں ۔ بارٹی نے 2019 میں شینزن میں ڈبلیو ٹی اے ٹائٹل جیت کر 6.4 ملین ڈالر کی انعامی رقم بھی ٹرافی کے ساتھ جیتی تھی۔

گزشتہ سال کوویڈ کی وجہ سے ڈبلیو ٹی اے فائنل بھی منسوخ کر دیا گیا تھا۔ یہ ٹورنامنٹ نومبر میں میکسیکو میں ہو گا ۔ ایشلے بارٹی کے کوچ کریگ ٹیزر کا کہنا ہے کہ میکسیکو سطح سمندر سے 1500 میٹر کی بلندی پر واقع ہے اور ٹورنامنٹ کے مقام گواڈا لا جارا میں صورت حال کھلاڑیوں کیلے انتہائی چیلنجنگ ہو گی کیونکہ وہاں آکسیجن کی کمی ہے اور میچ بغیر پریشر والی گیندیں استعمال کی جاتی ہیں جو فلائی کرتی ہیں اوران گیندوں پر کھلاڑیوں کیلئے کنٹرولڈ شاٹس کھیلنا خاصا مشکل ہوتا ہے۔

ان گیندوں کو اگر معمول کے ماحول میں میں استعمال کیا جائے تو یہ باﺅنس نہیں کرتی ہیں ۔ جو کھلاڑی کبھی ایسے ماحول اور گیندوں سے نہیں کھیلے۔ ان کیلئے ان گیندوں کے ساتھ کھیلنا مضحکہ خیز ہو گا ۔ کوچ کاکہنا ہے کہ ایشلے بارٹی نے نئے سال کے اولین گرینڈ سلام آسٹریلین اوپن پر توجہ مرکوز کر رکھی ہے اور وہ ہوم گراﺅنڈ پر ہونے والے اس ٹورنامنٹ میں بھرپور تیاری کے ساتھ شرکت کرنا چاہتی ہیں۔

کرونا پینڈامک کی وجہ سے بارٹی نے 2020 اور رواں سال کا ابتدائی عرصہ آسٹریلیا میں ہی گزارا تھا ۔ لیکن ٹینس ٹورنامنٹس دوبارہ شروع ہونے کے انہیں تقریباً 70 بار کرونا ٹیسٹ کروانے پڑے تھے اور تمام ٹیسٹ منفی آئے تھے ۔ ٹورنامنٹس سے قبل انہیں رولزکے مطابق قرنطینہ بھی کرنا پڑا تھا لیکن اب وہ قرنطینہ اور مسلسل کرونا ٹیسٹ کروانے سے عاجز آ چکی ہیں۔ اسی لیے انہوں نے فی الحال آسٹریلیا سے باہر ٹورنامنٹس میں حصہ لینے سے معذوری ظاہرکر دی ہے کیونکہ بیرون ملک سفر کے بعد آسٹریلیا واپس آنے والوں کو منظور شدہ ہوٹلز میں 15 دن کا لازمی اور سخت قرنطینہ کرنا پڑتا ہے۔

اس قرنطینہ میں لوگوں کو کمرے کی کھڑکی کھولنے کی اجازت بھی نہیں ہے۔ ایشلے بارٹی نے آسٹریلوی حکام سے گھر میں قرنطینہ کرنے کی درخواست کی تھی جو مسترد کر دی گئی تھی۔ ان حالات میں ان کا کہنا تھا کہ میں اب ایک کمرے میں بند رہنے سے اکتا گئی ہوں اور مجھے گھبراہٹ ہونے لگتی ہے۔ اس لیے بافی ماندہ سیزن میں بیرون ملک ٹورنامنٹس میں شرکت نہیں کروں گی ۔ وہ مارچ 2021 کے بعد آسٹریلیا سے باہر گئی تھی اور مسلسل سفر میں رہی اور ہر جگہ کرونا ٹیسٹ اورقرنطینہ کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

آسٹریلوی ٹینس اسٹار ایشلے بارٹی نے اپنے کیریئر میں 13 سنگلزاور 11 ڈبلزٹائٹلز جیتے ہیں۔ انہوں نے 2019 میں اپنا پہلا گرینڈ سلام ٹائٹل فرنچ اوپن جیتا تھا اور 2021 میں انہوں نے دوسرا گرینڈ سلام ٹائٹل ومبلڈن فائنل میں جمہوریہ چیک کی کیرولینا پلسکووا کو سنسنی خیز مقابلے میں شکست دے کر اپنے نام کیا تھا ۔ وہ ومبلڈن ویمنز سنگلز اعزاز جیتنے والی تیسری آسٹریلوی کھلاڑی ہیں ۔ بارٹی سے قبل مارگریٹ کورٹ اور ایوانی گولاگونگ ومبلڈن ویمنز ٹائٹل جیتا تھا ۔ وہ 41 سال بعد گرینڈ سلام سنگلز ٹائٹل جیتنے والی آسٹریلوی خاتون تھیں ۔ انہوں نے یہ ٹائٹل اپنی آئیڈیل گولاگونگ کے ومبلڈن ٹورنامنٹ جیتنے کی 50 ویں سالگرہ کے موقع پر حاصل کیا ۔ بارٹی 2011 میں ومبلڈن جونیئر چیمپئن تھیں۔

ایشلے بارٹی 24 اپریل 1996 کو نارتھ کوئنزلینڈ کے دیہی علاقے میں پیدا ہوئیں ۔ بارٹی کی دو بڑی بہنیں سارہ اور ایلی نیٹ بال کی کھلاڑی ہیں ۔ ایشلے بارٹی بھی ابتدا میں اپنی بہنوں کی طرح نیٹ بال میں کھیلتی تھی لیکن یہ کھیل بارٹی کوزیادہ پسند نہیں آیا اس لیے اس نے ٹینس پر توجہ دینا شروع کر دی ۔

چار سال کی عمر میں بارٹی نے برسبین ٹینس اکیڈمی میں باقاعدہ تربیت کا آغازکیا ۔ جہاں کوچ جوائس نے ایشلے بارٹی کی صلاحیتوں کو نکھارنے میں مرکزی کردار ادا کیا۔ وہ گیند پر بلا کی توجہ رکھتی ہے جس کی وجہ سے اسے شاٹس کھیلنے میں آسانی ہوتی ہے۔ بارٹی کا کہنا ہے کہ میں سکول سے واپس آنے کے بعد اپنے گھر میں ریکٹ سے دیوار پر گیند مار کر پریکٹس کرتی تھی جس سے مجھے گیند پر نظر جمانے میں مہارت حاصل ہوئی ۔ایشلے بارٹی کی صلاحیتوں کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ وہ 9 سال کی عمر میں اپنے سے چھ سال بڑے یعنی 15 سال کے لڑکوں کے ساتھ پریکٹس کرتی تھیں اوران پر حاوی رہتی تھیں ۔

ایشلے بارٹی نے 12سال کی عمر میں لڑکوں کے باقاعدہ میچز کھیلنا شروع کیے اور ان میچوں میں عموماً وہ فاتح کے طور پر کورٹ سے باہر نکلتی تھیں ۔ میلبورن میں انڈر 12 نیشنل ٹینس چیپئن شپ کا انعقاد ہوا تو اس میں پہلی بار ایشلے بارٹی کی ملاقات اپنی مینٹور ایلسیا مولک سے ہوئی جو سابق آسٹریلوی ٹینس اسٹار اور ایتھنز اولمپکس میں ٹینس میں برانزمیڈلسٹ تھیں ۔ ایلسیا مولک نے بارٹی کی تربیت میں نمایاں کردار ادا کیا جن کا کہنا تھا کہ وہ غیرمعمولی صلاحیتوں کی حامل ہے ۔ اس نے کم عمری میں ہی اپنے متاثر کن کھیل سے واضح کر دیا تھا وہ مستقبل میں آسٹریلیا کیلئے گراں قدر اثاثہ ثابت ہوگی ۔ ایشلے بارٹی کا مستقبل روشن ہے اور وہ آسٹریلوی ٹینس میں نئی جنریشن کیلئے آئیڈیل ثابت ہو گی۔

بارٹی نے 2009 میں 13 سال کی عمرمیں آئی ٹی ایف جونیئر ٹینس سرکٹ میں سنگلز اور ڈبلز مقابلوں میں حصہ لیناشروع کیا تھا اورجلد ہی وہ اپنے شاندار کھیل کی بدولت جونیئر رینکنگ میں ترقی کی منازل طے کرنے لگیں۔ بارٹی نے اسی سال آسٹریلین گریڈ اے آسٹریلین انٹرنیشنل ٹورنامنٹ ٹرافی جیتی۔ انہوںنے سیزن کے پانچ ایونٹس میں 24 میچ جیتے ۔ صرف دو میں شکست سے دوچار ہوئی اور تین ٹائٹل اپنے نام کیے۔

ایشلے بارٹی نے 15 سال کی عمر میںپہلی بار 2011 میں ہوم گراﺅنڈ پرآسٹریلین اوپن جونیئر زمیں شرکت کی لیکن وہ اپنا پہلا میچ لورین ڈیوس سے ہارگئی تھیں ۔ اس شکست نے بارٹی کے حوصلے پست نہیں کیے بلکہ وہ زخمی شیرنی کی طرح کورٹ میں واپس آئیں اوراگلے دو ماہ میں ملائیشیا میں سراواک چیف منسٹر کپ اوربلجیئم میں انٹرنیشنل جونیئر چیمپئن شپ کے سنگلز اورڈبلز دونوں اعزازات جیت لیے۔

ایشلے بارٹی نے 15 سال کی عمرمیں جونیئر ومبلڈن گرینڈ سلام ٹائٹل جیتا تھا ۔ وہ 1980 میں یہ ٹائٹل جیتنے والی ڈیبی فری مین کے بعد ومبلڈن جونیئر ٹرافی جیتنے والی دوسری آسٹریلوی کھلاڑی تھیں۔ بارٹی نے اسی سال آسٹریلیا کو جونیئر فیڈ کپ جتوانے میں مرکزی کردار ادا کیا تھا۔

آسٹریلوی ٹینس اسٹار ایشلے بارٹی نے 2010 میں پروفیشنل ٹینس کا آغاز اپنے ہوم ٹاﺅن اپسوچ میں آئی ٹی ایف کے ٹورنامنٹ میں حصہ لے کر کیا تھا۔ انہیں پہلے ہی میچ میں شکست ہوگئی تھی۔ پر عزم بارٹی اپنے دوسرے پروفیشنل ٹورنامنٹ کے سیمی فائنل میں پہنچی تھیں۔ بارٹی کی متاثر کن کارکردگی کے پیش نظر 2011 کے یو ایس اوپن اور 2012 کے آسٹریلین اوپن میں وائلڈ کارڈ انٹری دی گئی تھی ۔

سنگلزکے برعکس ڈبلزمیں بارٹی کا کارکردگی بہترین تھی۔ 2013 میں ہم وطن ڈیلیکووا کے ساتھ مل کر تین گرینڈ سلام ڈبلز کے فائنلز میں رسائی کی تھی جبکہ فرنچ اوپن کے پہلے راﺅنڈ میں اس جوڑی کو شکست ہو گئی تھی۔

سنگلز میں زیادہ بہترکارکردگی نہ ہونے کی وجہ سے 2014 کے یو ایس اوپن کے بعد ایشلے بارٹی نے بریک لینے کا اعلان کیا کیونکہ وہ کم عمری میں بہت زیادہ سفر کرنے کی وجہ سے تھک گئی تھیں ۔ اس دوران انہوں نے ایک یکسر مختلف کھیل کرکٹ میں قسمت آزمانے کا فیصلہ کیا حالانکہ انہوں نے کرکٹ کی کوئی تربیت حاصل نہیں کی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ میں نارمل لڑکی کی طرح بھی کچھ وقت گزارنا چاہتی ہوں اور ٹینس کے مصروف سیزن میں ایسا ممکن نہیں ہے۔ اس وقت وہ سنگلز رینکنگ میں ٹاپ 200 میں بھی شامل نہیں تھیں۔

ایشلے بارٹی نے 2015 میں آسٹریلین ویمنز نیشنل کرکٹ ٹیم سے ملاقات کے بعد کرکٹ میں دل چسپی لینا شروع کی۔ وہ صرف گھر میں فیملی کے ساتھ کرکٹ کھیلنے کا تجربہ رکھتی تھی اوراسے مسابقت کی کرکٹ کا کوئی تجربہ نہیں تھا ۔ بارٹی نے کوئنزلینڈ کرکٹ اکیڈمی سے رابطہ کیا ۔ اس وقت کوئنزلینڈ فائر کے کوچ اینڈی رچرڈز ایشلے بارٹی کے کرکٹ سکلزسے متاثر ہوئے اورانہوں نے ٹینس اسٹار کی کرکٹ کوچنگ کی۔اینڈی کا کہنا تھا کہ جب بارٹی نے اپنے ہاتھوں میں بیٹ پکڑا اور کریز پر کھڑی ہوئی تو اس کا اسٹائل انتہائی متاثر کن تھا۔

اس نے اپنے پہلے بیٹنگ ٹریننگ سیشن میں کوئی گیند مس نہیں کی اور بڑے اعتماد کے ساتھ بیٹنگ کی۔ اس کے بعد بارٹی نے مقامی ٹیم ویسٹرن سبربس ڈسٹرکٹ کرکٹ کلب کے ساتھ کھیلنا شروع کیا جو برسبین ویمنز پریمیر کرکٹ ٹی لیگ میں حصہ لیتی تھی۔

بارٹی نے اپنے دوسرے ہی میچ میں ٹیم کیلئے متاثر کن آل راﺅنڈ کارکردگی پیش کی اور 60گیندوں پر 63 شاندار ر نز بنانے کے ساتھ چار اورز میں 13رنز کے عوض دو وکٹیں بھی اپنے نام کیں ۔ اس سیزن میں بارٹی نے 12 میچوں میں ایک سنچری اور تین نصف سنچریوں کی مدد سے 466 رنز بنائے اور آٹھ وکٹیں حاصل کیں اور ٹیم کو لیگ ٹائٹل جتوانے میں مرکزی کردار ادا کیا ۔ فائنل میں 39 گیندوں پر 37 رنزبنا کر ٹاپ اسکورر رہی۔

بارٹی کی شاندار کرکٹ پرفارمنس کو دیکھتے ہوئے افتتاحی ویمنز بگ باش لیگ ( ڈبلیو بی بی ایل ) ٹی ٹوئنٹی سیزن کیلئے برسبین ہیٹ نے معاہدہ کر لیا ۔ اپنے پہلے میچ میں میلبورن اسٹارز کے خلاف بارٹی نے جارحانہ بیٹنگ کرتے ہوئے گیندوں پر 39رنز کی اننگز کھیلی ۔ کرکٹ سیزن فروری میں اختتام پذیر ہوا تو بارٹی نے پھر ٹینس کورٹ میں واپسی کا اعلان کر دیا۔

بارٹی نے 2015 میں چاروں گرینڈ سلام ٹورنامنٹس میں حصہ نہیں لیا اور 2016 میں بھی آسٹریلین اوپن اور فرنچ اوپن میں شرکت نہیں کی تھی۔ ٹینس سرکٹ سے غیر حاضری کی وجہ سے بارٹی کو ومبلڈن اوپن 2016 کے کوالیفائنگ راﺅنڈ کلیئے وائلڈ کارڈ انٹری دی گئی تھی لیکن بارٹی کو دوسرے مرحلے میں ہی تھائی کھلاڑی لوکسیکا کوکوم نے شکست سے دوچار کر دیا تھا ۔ اس کے بعد بارٹی نے یو ایس اوپن میں بھی حصہ نہیں لیا تھا ۔ 2017 میں وہ ٹاپ 250 میں تھیں اور اس سیزن میں بھی کسی گرینڈ سلام ٹورنامنٹ میں تیسرے راﺅنڈ سے آگے نہیں بڑھ سکی تھیں تاہم با رٹی نے ملائشین اوپن میں کوالیفائر کی حیثیت سے انٹری کے بعد غیر معمولی کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے کیریئر کا پہلا ڈبلیو ٹی اے سنگلز ٹائٹل جیتا اور ڈبلر ٹائٹل بھی کیسی ڈیلیکووا کے ساتھ ملکر اپنے نام کرنے میں کامیاب رہیں۔ اس کے ساتھ وہ پہلی مرتبہ اپنے کیریئر میں ٹاپ 100 میں شامل ہوئی تھیں ۔ باقی سیزن میں شاندار کاررگی کی بنیاد پر وہ سال کے اختتام پر عالمی رینکنگ میں 17 ویں نمبر پر پہنچ گئی تھیں۔

آسٹریلوی ٹینس اسٹار نے2018 کے سیزن کا پراعتماد آغاز کیا اور سڈنی انٹرنیشنل کے فائنل میں رسائی کرنے میں کامیاب ہوئی تھیں جہاں اینجلک کیربر نے انہیں زیر کیا تھا۔ ایشلے بارٹی اپنے کیریئر میں سیڈڈ کھلاڑی کی حیثیت سے پہلی بار گرینڈ سلام آسٹریلین اوپن میں جگہ بنانے میں کامیاب ہوئی تھیں لیکن تیسرے راﺅنڈ میں ناﺅمی اوساکا نے انہیں زیر کر لیا تھا جبکہ فرنچ اوپن کے دوسرے راﺅنڈ میں بارٹی کو سرینا ولمبز نے ہرا دیا تھا۔

بارٹی نے نوٹنگھم اوپن میں دوسرا ٹائٹل اپنے نام کیا۔ اسی سال وہ وینڈی ویگھے کی پارٹنر شپ میں یو ایس اوپن میں پہلی بارگرینڈ سلام ڈبلز چیمپئن کا اعزاز حاصل کرنے میں کامیاب ہوئیں ۔سال کے اختتام پر ایشلے بارٹی نے ڈبلیو ٹی اے ایلیٹ ٹرافی اپنے نام کی جو ان کے کیریئر کی بڑی فتح تھی ۔ اس کے ساتھ وہ عالمی نمبر 15 کی پوزیشن پر براجمان ہوگئیں۔

ایشلے بارٹی نے 2019 میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ جاری رکھا اورآسٹریلین اوپن میں ماریہ شراپووا کو شکست سے دوچار کر کے پہلی بار ٹورنامنٹ کے کوارٹر فائنل میں رسائی کی جہاں پیٹر کیویٹوا ان پر حاوی رہی۔ ایشلے برٹی نے غیر معمولی کھیل پیش کرتے ہوئے پیرس کی کلے کورٹ پر فائنل میں مارکیٹا وینڈروسووا کو ہراکر فرنچ اوپن سنگلز ٹائٹل جیتا تھا جو کیریئر کا پہلا گرینڈ سلام ٹائٹل تھا۔

اس کے ساتھ ہی وہ عالمی نمبر دو بن گئیں۔ ومبلڈن سے قبل ایشلے بارٹی برمنگھم کلاسک ٹرافی جیت کر پہلی بار عالمی نمبر ایک کی پوزیشن پرفائز ہوئیں جبکہ وہ ڈبلیو ٹی اے فائنلز کا اعزاز بھی جیت گئیں۔

کینیڈین اوپن کے پہلے راﺅنڈ میں شکست کی وجہ سے ایشلے بارٹی کو عالمی نمبر ایک پوزیشن سے محروم ہو نا پڑا تھا اور جاپان کی ناﺅمی اوساکا اس پوزیشن پر براجمان ہو گئیں لیکن وہ زیادہ عرصے اس منصب سے چمٹی نہیں رہ سکیں اور بارٹی چار ہفتے بعد پھر عالمی نمبر ایک بن گئیں۔ 2019 میں ڈبلیو ٹی اے پلیئر اف دی ائر قرار دیا گیا ۔ وہ یہ اعزاز حاصل کرنے والی پہلی آسٹریلین تھیں ۔ ایشلے بارٹی اس کے بعد سے مسلسل عالمی نمبر ایک کی پوزیشن پر قبضہ جمائے ہوئے ہیں ۔ کرونا کی وجہ سے ڈبلیو ٹی اے نے رینکنگ کے طریقہ کار میں کچھ تبدیلیاں کی تھیں اوررینکنگ کو کچھ عرصے کیلئے معطل کر دیا گیا تھا ۔ لیکن ٹینس سرگرمیوں کی دوبارہ بحالی کے بعد بھی وہ اپنا سکہ جمائے ہوئے ہیں۔

بارٹی آسٹریلین اوپن کیلئے اپنی تیاریوں پر کوئی سودے بازی نہیں کرنا چاہتی ہیں ۔ وہ ہوم گراﺅنڈ پر نئے سال کا پہلا گرینڈ سلام آسٹریلین اوپن جیتنے کا عزم رکھتی ہیں۔ اس ٹورنامنٹ میں بارٹی کی بہترین کارکردگی 2020 میں سیمی فائنل میں رسائی تھی جب انہیں سیمی فائنل میں سخت مقابلے کے بعد صوفیہ کینن نے شکست دے دی تھی۔کرونا پینڈامک کی وجہ سے بارٹی نے فرنچ اوپن اور یو ایس اوپن 2020 میں حصہ نہیں لیا تھا۔جبکہ منتظمین نے اس سال ومبلڈن ٹورنامنٹ منعقد نہ کرنے کا فیصلہ کیا تھا ۔ انہیں 2021 میںآسٹریلین اوپن کے کوارٹر فائنل میں جمہوریہ چیک کی کیرولینا موچووا نے کم بیک کرتے ہوئے تین سیٹ کے مقابلے میں زیر کیا تھا۔

ایش بارٹی ٹینس آسٹریلیا کا بہترین کھلاڑی کا سالانہ ایوارڈ جان نیوکومب میڈل مسلسل چوتھے سال حاصل کر کے نئی تاریخ رقم کر دیںگی ۔ وہ مسلسل تین سال یہ میڈل جیت کر ہیٹ ٹرک کر چکی ہیں ۔ کرونا وائرس کی وجہ سے اس ایوارڈ کا انعقاد گزشتہ سال منعقد نہیں ہوا تھا ۔ وہ اس وقت بھی فیورٹ تھی اور اس بار بھی اس اعزاز کیلئے فیورٹ ہے ۔

اس سال بارٹی نے ومبلڈن سنگلزگرینڈ سلام سمیت پانچ ٹرافیاں جیتی ہیں ۔ ایشلے بارٹی نے 2021 میں واحد خانون کھلاڑی ہےں جنہوں نے رواں سال گراس ‘ ہارڈ کورٹ اور کلے کورٹس پر ٹائٹل جیتے ہیں۔ وہ مسلسل تیسری مرتبہ سال کے اختتام پر عالمی نمبر ایک کی پوزیشن پر براجمان ہو گی ۔ ایوارڈ کی تقریب روایتی طور پر ہر سال 17 دسمبر کو منعقد ہوتی ہے جس میں ونرز کا اعلان کیا جاتا ہے۔ آسٹریلین ٹینس اسٹار سمانتھا سٹروسر بھی چار مرتبہ نیوکومب میڈل جیت چکی ہیں لیکن وہ لگاتار نہیں تھے۔

فیڈ کپ کے سابق آسٹریلوی کپتان ڈیوڈ ٹیلر کا کہنا ہے کہ ایشلے بارٹی کا شمار ٹینس سرکٹ میں موجود دور حاضر کی سپر اسٹار کھلاڑیوں میں ہوتا ہے اور وہ اپنے شاندار کھیل سے ایک عرصے تک شائقین کو محظوظ کرے گی ۔ ڈیوڈ ٹیلر نے سابق عالمی نمبرایک مارٹینا ہنگز اور اینا ایوانووچ کی کوچنگ کی ہے۔

ٹیلرکا کہنا ہے کہ بارٹی کا کھیل ان دونوں کھلاڑیوں سے مماثلت رکھتا ہے اور وہ اپنی مضبوط قوت اداری کی وجہ سے حریف کھلاڑیوں پر حاوی رہتی ہے۔ اس کے پاس شاٹش کی بے تحاشہ ورائٹی ہے۔ اس کی فٹنس اور بہترین کھیلسے یہ عندیہ ملتا ہے کہ وہ ٹینس کورٹ میں کافی عرصے آسٹریلیا کا پرچم بلند رکھے گی۔

Australian open

Ashley Barty

Tabool ads will show in this div