نسلہ ٹاور کودھماکے کےبجائے ہاتھ سے مسمار کرنےکی تجویز

دھماکے سے گرانا خطرناک ہوسکتا ہے،ڈپٹی کمشنر کی زیر صدارت اجلاس

 تحریر: سہیل رب خان

ڈپٹی کمشنر ایسٹ کے آفس میں پیر کے روز نسلا ٹاور کے انہدام کے طریقہ کار اور اس کیلئے دلچسپی کے اظہار کی پیشکشوں کی تکنیکی تشخیص کے حوالے سے پیر کو ہونے والے اجلاس میں تجویز دی گئی کہ عمارت کو دستی طریقے سے منہدم کیا جائے۔

ڈپٹی کمشنر ایسٹ آصف جان صدیقی کی زیر صدارت منعقدہ اجلاس میں کمیٹی کے 2 ارکان کے ایم سی ورکس اینڈ سروسز کے ڈائریکٹر جنرل شبیح الحسن اور کے ایم سی کے سینئر ڈائریکٹر محکمہ انسداد تجاوزات بشیر صدیقی نے اجلاس میں ہونے والی پیش رفت سے آگاہ کیا۔

افسران نے بتایا کہ کل 5 کمپنیوں نے انتظامیہ کو ای او آئی پیشکشیں جمع کرائی ہیں جو تمام مقامی ہیں، انہوں نے مزید کہا کہ بولی کے عمل میں کسی غیر ملکی کمپنی نے حصہ نہیں لیا۔ ان 5 میں سے ایک کمپنی کو بولی کے عمل سے باہر کر دیا گیا ہے کیوں کہ وہ نسلہ ٹاور کے انہدام میں غیر ملکی مدد لینے کے لیے تیار تھی۔

انہوں نے مزید بتایا کہ یہ ایک طویل عمل ہے اور کمیٹی کے پاس غیر ملکی امداد لینے کا وقت نہیں ہے کیونکہ بولی کے عمل کو حتمی شکل دینے میں بہت زیادہ وقت لگتا ہے۔

اجلاس میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ چاروں کمپنیوں کے نمائندے بدھ کو کمشنر کراچی کے ساتھ اپنی تشخیص اور طریقہ کار کے ساتھ حتمی میٹنگ کے لیے آئیں گے۔ کمشنر کراچی اس کمپنی کو حتمی شکل دیں گے جسے نسلہ ٹاور کو گرانے کا ٹاسک ملے گا۔

دونوں افسران نے سماء ڈیجیٹل سے گفتگو کے دوران اس بات کی تصدیق کی کہ مسمار کرنے کا آپریشن مینوئل ہوگا کیوں کہ پراجیکٹ کی جگہ پر امپلوشن بلاسٹ ممکن نہیں ہے۔

کراچی کمشنر اور ٹیکنیکل کمیٹی بدھ کو ہونے والے اگلے اجلاس میں دعویداروں سے پوچھیں گے کہ آپریشن میں ان کی جانب سے مسماری کا کیا طریقہ کار اختیار کیا جائے گا۔

انہوں نے مزید کہا کہ ہم آئندہ سماعت میں سپریم کورٹ میں جمع کرانے کے لیے نسلہ ٹاور کے انہدام کے حوالے سے مکمل فزیبلٹی رپورٹ تیار کریں گے۔

گزشتہ ہفتے کراچی کے کمشنر اقبال میمن نے اظہار دلچسپی کی پیشکشوں کی تشخیص اور انتخاب کے لیے 8 رکنی کمیٹی تشکیل دی تھی، جسے مختلف مقامی کمپنیوں نے جمع کرایا ہے۔

کمیٹی میں ڈپٹی کمشنر ایسٹ بطور چیئرمین شامل تھے۔ ایس بی سی اے کے ڈائریکٹر جنرل، این ای ڈی سول انجینئرنگ ڈیپارٹمنٹ کے سربراہ، ایف ڈبلیو او کے کمانڈنگ آفیسر، کے ایم سی ورکس اینڈ سروسز کے ڈائریکٹر جنرل، ایس ایس پی ایسٹ، کے ایم سی کے سینئر ڈائریکٹر محکمہ انسداد تجاوزات اور این جی او شہری جنرل سیکرٹری کمیٹی کے ممبران ہیں۔

کمیٹی کے پاس ناسلہ ٹاور کے انہدام کے لیے ای او آئی کے تحت موصول ہونے والی بولیوں کا جائزہ لینے، اس طرح کے انہدام کے لیے موزوں ترین فرم کی سفارش کرنے اور نسلا ٹاور کے انہدام سے متعلق آگے بڑھنے کے لیے مشورہ دینے کا مینڈیٹ ہے۔

سپریم کورٹ کے حکم میں متعلقہ حکام سے کہا گیا ہے کہ وہ نسلہ ٹاور کو گرانے کے لیے "کنٹرولڈ دھماکہ" کا استعمال کریں۔

ضلعی انتظامیہ نے اس ماہ کے شروع میں نسلہ ٹاور کے رہائشیوں کو نوٹس جاری کیے تھے، انہیں کہا گیا تھا کہ وہ بدھ 27 اکتوبر تک عمارت خالی کر دیں۔

ڈسٹرکٹ ایسٹ نے یہ نوٹس 12 اکتوبر کو عدالت عظمیٰ کے جون کے حکم کے خلاف نظرثانی کی درخواست مسترد کرنے کے بعد جاری کیے تھے۔

نوٹسز میں اشارہ دیا گیا کہ کمشنر کراچی کو "سپریم کورٹ کی ہدایات پر عمل درآمد کے بارے میں رپورٹ پیش کرنی ہوگی اور اس بات کو یقینی بنانا ہوگا کہ عمارت خالی کی جائے"۔

نوٹس میں لکھا گیا ہے کہ نوٹس لیں کہ آپ کو عمارت یعنی نسلہ ا ٹاور کو 15 دنوں کے اندر خالی کرنا ہوگا۔ ضلعی حکام نے اسی نوٹس کو مقامی اخبارات میں مشتہر بھی کیا۔

اس سال 16 جون کو سپریم کورٹ نے نسلہ ٹاور کو تجاوزات والی زمین پر تعمیر ہونے کا اعلان کیا تھا۔

اس کے بعد، بلڈر اور رہائشیوں نے حکام کو اسے منہدم کرنے سے روکنے کے لیے الگ الگ نظرثانی کی درخواستیں دائر کی تھیں۔

23 ستمبر کو ہونے والی سماعت میں درخواست گزاروں کے وکیل نے دلیل دی کہ لیز کی منسوخی کے باوجود تعمیرات کی اجازت دی گئی، ان حالات میں مکینوں کی غلطی نہیں تھی۔

جسٹس اعجاز الاحسن نے جواب دیا تھا کہ تمام رہائشیوں کو اپارٹمنٹس خریدنے سے پہلے ان کی قانونی حیثیت کو چیک کرنا چاہیے تھا۔ "کیا تم شہر میں ہونے والی جعلسازی سے واقف نہیں ہو؟ آپ بغیر معائنہ کے گھر کیسے خرید سکتے ہیں؟"

انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ عمارت کے انہدام سے متاثر ہونے والے افراد کو حکومت کی طرف سے تین ماہ کے اندر نسلا ٹاور کی مارکیٹ ویلیو کے مطابق معاوضہ ادا کر دیا جائے گا اور متعلقہ حکام سے کہا کہ عمارت کو بغیر کسی تاخیر کے گرا دیا جائے۔

NASLA TOWER

KMC BUILDING KARACHI

NASLA

Tabool ads will show in this div